کرونا وائرس، پاکستانی میڈیا اور غصے سے لال ہوتے ہمارے دانشور

0
255

بعض پاکستانی دانشور شاید انٹرنیشنل میڈیا نہیں پڑھ رہے، یا بغض خان میں اتنے محو کے اس قومی سانحے پر بھی تنقید پر ہی اپنی انا کی تسکین کر رہے، دنیا میں ہر بندہ ٹیسٹ نہیں کرواتا، صرف وہی جس کو علامات ظاہر ہوں، کوئی ٹریول ہسٹری ہو، لہذا سوال کے حکومت ٹیسٹ نہیں کر رہی، اس پر کیا کہا جائے؟ امریکہ میں جب پچاس کیس کنفرم ہوئے تب کہیں جا کر گورنمنٹ نے ایکشن لینا شروع کیا، یہی سلسلہ انگلینڈ میں بھی ہوا، جانسن آخر تک بے خبر تھے، یہ سوشل دنیا کی آمد کیبعد پہلی پہلی وبا ہے جسکا پھیلاو دنیا بھر میں،

دنیا کے ترقی یافتہ ممالک بھی اسکے لیے تیار ناں تھے آپ اٹلی، اسپین، ساوتھ کوریا، فرانس، آسٹریلیا، امریکہ، کینیڈا دیکھ لیں، سب تیار نہیں تھے اور وبا اس تیزی سے پھیلی کے سب کے ہاتھ پاوں پھول گئے، ہمارا میڈیا اس بات پر پریشان کے کیسز کیوں نہیں آ رہے، ڈیتھس کیوں نہیں ہو رہیں؟ کیونکہ ہمارے میڈیا کو دھماکوں کا خون لگ چکا، جب لوگ بچ جائیں تو خبر نہیں بنتی، اس پر سختی سے کنٹرول کروانا ہو گا

اب منقسم قوم میں بحث یہ چھڑ گئی کے مراد شاہ اور میڈیا ٹیم آپ ڈیٹ کر رہی، پنجاب کے بذدار، کے پی کے محمود خان اور بلوچستان کے جام کمال میڈیا میں کیوں نہیں آ رہے، انکا میڈیا ایڈوائزر سینیٹر مرتضی وہاب جیسا کیوں نہیں؟ ہم کب سوچیں گے کے یہ وائرس کوئی لسانی پہچان نہیں رکھتا، اس کو کوئی تمیز نہیں، یہ سندھ میں بھی اتنا ہی مہلک جتنا پنجاب میں، ناں تو اسے کے پی کے سے پیار ناں بلوچستان سے کوئی رشتہ داری، لہذا اب یہ سب کو ٹارگٹ کریگا، پاکستان ٹارگٹ پر ہے، اپنی جعلی انا، اور مخالفت کو چند دن کسی صندوق میں بند کر دیں، اور مثبت سوچ کیساتھ آگے بڑھیں

حکومت پاکستان کو بھی چاہیے کے وہ عوام کی حفاظت کیلیے پرو ایکٹو ہو جائے، سیریس اپروچ کو آگے بڑھائے، پاکستان کو ایک اکائی کے طور پر دیکھے، اور تمام صوبوں کیساتھ ایک جیسا سلوک کرے، اور باہم ملکر اس وائرس سے مقابلہ کرے

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here