میڈیا بائنگ ہاوسز کارٹل بن چکے، کھاد کا اشتہار گاوں کے ایف ایم پر چلنے کی بجائے، کراچی میں چلتا ہے، انڈر ہینڈ ڈیلز عام ہو چکیں، حکومت اور پیمرا کو نوٹس لینا ہو گا ایف ایم ریڈیو سیمینار سے ایف ایم 91، 92 کے چیئرمین کا خطاب

0
246

پچھلے دنوں آواز ایف ایم اور بی بی سی اردو کے تعاون سے لاھور میں ایک سیمینار ہوا جس میں مہمان خصوصی سینیٹر فیصل جاوید، چیئرمین پیمرا سلیم بیگ اور سابق صوبائی وزیر تعلیم میاں عمران مسعود تھے جبکہ صدارت سی ای او ریڈیو آواز مرزا نعیم نے کی جبکہ تقریب میں ریڈیو FM100 کے کنٹری مینجر خواجہ کامران، نجیب احمد FM99 ڈی جی ٹیکنیکل پیمرا ڈاکٹر مختار ، ڈاکٹر ثمن، شیخ خاور رفیق رائل فین، خالد عبداللہ، رضوان رضی، مہدی رضا، غلام اکبر بھٹو سمیت بی بی سی انچارج ڈاکٹر خالد نے بھی خطاب کیا۔

میزبان آواز ایف ایم کے چیئرمین مرزا نعیم تھے جنہوں نے بڑی تفصیل سے ایف ایم انڈسٹری کے کردار اور اسے درپیش مسائل پر گفتگو کی

مشہور پروگرام دادا پوتا کے روح رواں رضوان رضی نے انڈسٹری کو سوشل میڈیا اور بیرونی آنیوالے خطرات سے آگاہ کیا، انھوں نے پوڈ کاسٹ کی مقبولیت کو بھی بڑا خطرہ قرار دیا

ایف ایم 99 کے چیئر مین نجیب احمد کا کہنا تھا کے سوشل میڈیا نے ٹی وی کو ہٹ کیا ہے، ناں کے ایف ایم میڈیا کو، بلکہ سوشل میڈیا سے ریڈیو کی لسنر شپ بڑھی ہے
اب ایف ایم انڈسٹری پر ایڈورٹائزنگ بجٹ تین پر سینٹ ہو گیا ہے، جو کے انڈسٹری کیلیے خطرے کی گھنٹی ہے، یہی وجہ ہے کے اب پروگرامنگ پر کام نہیں ہوتا اور ناں ہی اسکے لیے بجٹ ہے

ایف ایم 100 کے خواجہ کامران کا کہنا تھا کے حکومت کیطرف سے ایف ایم انڈسٹری کو بالکل سپورٹ نہیں ہے، حکومت ایف ایم چینلز کو ساتھ ملا کر پورے پاکستان میں اپنے رفاہی کاموں کو پہنچا سکتی ہے، لیکن اس پر کوئی توجہ نہیں دی جارہی

اخبار والا حکومت کیخلاف خبر لگا کر اور ٹی وی چینل حکومت کیخلاف پیکج چلا کر یا پروگرام کر کے اشتہار لے لیتا ہے، لیکن ایف ایم چینلز والے کیا کریں، وہ تو اگر پاکستانی سنگر کا انڈین فلم کیلیے سونگ چلا لیں تو پیمرا میں پیشی ہو جاتی ہے،

پاکستان کی فلم انڈسٹری جمود کا شکار، چھ سات سالانہ فلمیں بنتی ہیں اور زیادہ سے زیادہ پندرہ گانے آتے ہیں اور ہٹ صرف چار پانچ ہی ہوتے ہیں تو پھر ہم اپنے سننے والوں کو کیسے مطمئن کریں، اردو گانے چاہے دنیا کے کسی بھی خطے میں ہوں انھیں چلانے کی اجازت ہونی چاہیے

سینیٹر فیصل جاوید خان نے اپنے روایتی انداز میں حکومتی موقف پیش کیا، کوئی یقین دہانی ناں کروائی جا سکی، پھر سوال و جواب کے سلسلے سے پہلے ہی اسلام آباد فلائیٹ کا کہہ کر وہاں سے چل نکلے- وفاق کی ذمہ داری انھوں نے صوبائی حکومتوں پر ڈال دی کے صوبائی حکومتوں کو ایف ایم چینلز میں بزنس ضرور دینا چاہیے
چیئرمین پیمرا نے بھی ایک مہا بیورو کریٹ ہونیکا ثبوت دیا، تمام مسائل اور خدشات کو یقین دہانیوں کی دبیز تہوں میں دبا دیا گیا

ریجنل ایف ایم چینل 91 اور 92 کے چیئرمین غلام اکبر بھٹو نے دبنگ تقریر کی، انھوں نے میڈیا بائنگ ہاوسز پر شدید تنقید کی اور کہا کے کراچی، لاھور اور اسلام آباد میں بیٹھے میڈیا بائنگ ہاوسز کے بابو ریجنل ایف ایم چینلز کی اہمیت سے نا آشنا ہیں، وہ نہیں جانتے کے گاوں اور چھوٹے گوٹھ میں رہنے والے کتنے اہم ہیں اور ایف ایم چینلز ان تک رسائی کا واحد ذریعہ ہیں


لیکن ہوتا یہ ہے کے کھاد کے اشتہار اب کراچی کے چینلز پر چلتے ہیں، میڈیا بائینگ ہاوسز کا کارٹل بن چکا، جو چھوٹے چینلز کا استحصال کرتے ہیں، انڈر ہینڈ ڈیلز کر کے ہمیں باہر نکال دیا جاتا ہے

آپ جانتے ہونگے کے اسی بنا پر ایڈ ایجنسیوں کے لوگوں کو جیل بھی جانا پڑا
ان کا مزید کہنا تھا کے حکومت اور پیمرا کو اس گٹھ جوڑ کا نوٹس لینا چاہیے

کانفرنس میں میڈیا بائنگ ہاوسز اور ایڈ ایجنسیوں کے لوگوں نے بھی شرکت کی

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here