میر شکیل الرحمن کی حراست، کیا آزادی صحافت پر حملہ؟

0
220

ہمارے گھر میں تیس سال سے روزنامہ جنگ اور سنڈے کو جنگ اور ڈان دونوں آتے ہیں، میرے جنگ اور ڈان سے بعض صحافتی اختلافات ہیں لیکن اسکے باوجود اپنی کمٹمینٹ تبدیل نہیں کی، بارہا ایڈیٹر کو خط میں لکھا کے فلاں رائیٹر اپنی صحافتی ذمہ داریاں نہیں نبھا رہا فلاں، فلاں ایجنڈے پر کام کر رہا، لیکن کبھی شنوائی نہیں ہوئی، خط تک کبھی چھاپا نہیں گیا، چونکہ اخبار کی پالیسی ایڈیٹر انچیف نے طے کرنی ہوتی ہے لہذا انکی تحریروں میں مالکان کی سوچ کا رنگ آنا ایک معمول بن گیا،

عمر چیمہ کی ذاتی لڑائی ہوں یا سہیل وڑائچ کے ناقدانہ کالم، حامد میر کے پروگرام ہوں یا اسلام آباد جنگ کی ایجنڈا تحقیقاتی ٹیم، تمام کے پروفیشنل کام میں مالکان کی سوچ کا غالب نظر آنا ایک روٹین بن گیا، مالکان کی بھٹی پر پکتی دال میں ارشاد بھٹی اور کبھی مظہر برلاس کا تڑکہ لگایا گیا، تاکہ نیوٹرل پالیسی کا تاثر مل سکے، لیکن پیسوں سے خرید کر اخبار پڑھنے والوں کی پسندیدگی کو ہمیشہ ردی کی ٹوکری میں جگہ ملی،

پھر یہ مائینڈ سیٹ بھی زرداری حکومت میں بنا کے ایک میڈیا گروپ، حکومت کو چلتا کر سکتا ہے، اور پھر زمانہ جانتا ہے کے پی پی حکومت کیخلاف “عجب کرپشن کی غضب کہانی” جیسے پروگرام کامران خان کی سربراہی میں شروع کیے گئے، یہ مائینڈ سیٹ اسوقت تقویت پکڑتا ہے جب ایک پارٹی کی حکومت میڈیا گروپ کیساتھ پانچ سال حکومتی بزنس کی پالیسی طے کرے اور ایڈیٹوریل بھی اسکا حصہ ہو، پھر صحافت کی تمام اخلاقیات دم توڑ جاتی ہیں، صحافت کاروبار بن جاتی ہے اور اسے اسی طرح چلایا بھی جا رہا ہے، لہذا معزز میر شکیل الرحمن کی حراست کو ایک بزنس ٹائیکون کی حراست سمجھنا چاہیے، انھیں انصاف ملنا چاہیے، اور اس کو کسی بھی طریقہ سے آزادی صحافت پر قدغن ناں سمجھا جائے

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here