پاکستان میں چین سے واپس آنے والے دو طالب علم کورونا وائرس کے دو مشتبہ مریض – ایک مریض لاڑکانہ اسپتال سے فرار

0
161

پاکستان میں چین سے واپس آنے والے دو طالب علم ممکنہ طور پر کورونا وائرس سے متاثر ہو سکتے ہیں۔ ایسا ایک کیس لاڑکانہ جبکہ دوسرا خیرپور میں سامنے آیا ہے۔ مقامی ہسپتالوں میں ان کے ٹیسٹ کی سہولیات ہی موجود نہیں ہیں۔

خیر پور میں گمس ہسپتال کے ڈائریکٹر ڈاکٹر رحیم بخش بھٹی نے ڈی ڈبلیو سے گفتگو کرتے ہوئے تصدیق کی ہے کہ ان کے پاس کورونا وائرس کا ایک مشتبہ مریض موجود ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ مشتبہ مریض شاہزیب راھوجا ابھی چار روز پہلے ہی چین سے واپس لوٹا ہے۔ ڈاکٹر رحیم بخش بھٹی کے مطابق متاثرہ مریض کے لیے ایک الگ وارڈ قائم کر دیا گیا ہے اور وہاں کسی کو جانے کی اجازت نہیں دی جا رہی۔ ان کے مطابق نہ صرف مشتبہ مریض بلکہ اس کے والد اور دو بھائیوں کو اسی الگ تھلگ وارڈ میں رکھا گیا ہے کیوں کہ یہ چاروں ایک ساتھ تھے۔ انہوں نے خدشات کا اظہار کیا ہے کہ اگر متاثرہ مریض میں کورونا وائرس کی تصدیق ہو گئی تو اس کے دو بھائی اور  والد بھی اس سے متاثر ہو سکتے ہیں۔

خیر پور میں گمس ہسپتال میں کورونا وائرس کی جانچ پڑتال کرنے کی سہولت ہی موجود نہیں ہے۔  ڈائریکٹر ڈاکٹر رحیم بخش بھٹی کے مطابق مشتبہ مریض کے خون کا نمونہ اسلام آباد بھجوایا جا رہا ہے تاکہ اس کا لیبارٹری ٹیسٹ کیا جا سکے۔ ڈاکٹر بھٹی کا کہنا تھا کہ کورونا وائرس ٹیسٹ کرنے کی سہولت اسلام آباد میں بھی نہیں تھی لیکن اب وہاں اس کا انتظام کر لیا گیا ہے۔

دوسری جانب اس حوالے سے سامنے آنے والے مشتبہ کیسز پر نگاہ رکھنے والے صحافی نثار کھوکھر نے ڈی ڈبلیو سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ لاڑکانہ کے چانڈکا میڈیکل ہسپتال بھی ایک اسی طرح کا مشتبہ کیس سامنے آیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ لڑکا بھی چین میں تعلیم حاصل کر رہا تھا اور وہاں سے حال ہی میں واپس لوٹا ہے۔ اس حوالے سے چانڈکا میڈیکل ہسپتال کے ایم ایس ڈاکٹر ارشاد کاظمی نے کہا کہ ان کے پاس ایک ایسا مشتبہ مریض آیا تھا، جس کے بعد پورے ہسپتال میں افراتفری پھیل گئی تھی۔

ڈاکٹر ارشاد کاظمی نے بھی کہا کہ ان کے پاس بھی ایسا کوئی نظام یا وہ کٹس ہی موجود نہیں ہیں، جن سے کورونا وائرس کی حتمی تشخیص کی جا سکتی۔ ڈاکٹر ارشاد کاظمی کے مطابق ان کے ہسپتال میں پہنچنے والے مشتبہ مریض کی بھی چین اور دبئی کے ایئرپورٹ پر اسکریننگ کی گئی تھی لیکن تب اس میں ایسی کوئی علامت موجود نہیں تھی۔ انہوں نے مزید بتایا کہ مشتبہ مریض کو قمبر شہداد کوٹ سے ان کے پاس ریفر کیا گیا تھا۔

ایڈیشنل میڈیکل سپرنٹنڈنٹ (اے ایم ایس) ڈاکٹر رابیل نوناری نے بتایا کہ بیمار نوجوان کو ڈی ایچ او آفیس قمبر شہداد کوٹ کا بندہ یہاں لے کر آیا تھا۔

اے ایم ایس کے مطابق مریض کو ایک علیحدہ وارڈ میں رکھا گیا تھا جہاں سے اچانک غائب ہوگیا۔ تاہم مریض کی تلاش جاری ہے۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here