مہنگائی کا رونا روتے میڈیا اور اپوزیشن کے آٹے کے مصنوعی بحران پر نامور صحافی عامر خاکوانی کی ماڈل بازار سے شاپنگ اور ارزاں قیمتوں پر چشم کشا کالم

0
371

کچھ عرصہ قبل ٹماٹر مقامی فصل خراب ہونے سے مہنگے ہوگئے تو بہت شور مچا، ٹماٹر چارسو روپے کلو ہوئے اور پھر دو ڈھائی سو تک بکتے رہے۔ میڈیا پر ایک طوفان تھا۔ کسی نے یہ نہیں پوچھا کہ بھیا ٹماٹر ہر سالن میں نہیں پڑتے ، بہت بار تھوڑی سی دہی سے کام چل جاتا ہے اور کئی بار ایک دو ٹماٹر سے زیادہ کی ضرورت ہی نہیں پڑتی۔ ہمارے دوست اور ہونہار صحافی احمد اعجاز نے دو تین ہفتے قبل معروف دانشور رسول بخش رئیس کا نائنٹی ٹو سنڈے میگزین کے لئے انٹرویو کیا۔ رئیس صاحب سے احمد اعجاز کا مکالمہ دلچسپ رہا۔ رئیس صاحب نے مثبت باتیں کیں تو انہوں نے سوال کیا کہ مٹر دو سو روپے کلو ہیں اور مہنگائی اتنی زیادہ ہے کہ گزارہ مشکل ہوگیا۔ رسول بخش رئیس کا خیال تھا کہ پاکستان مڈل کلاس امریکی مڈل کلاس سے زیادہ خوشحال اور بہتر ہے، مگر ان کے خیال میں پاکستانیوں کا مسئلہ آبادی ہے، اپنے وسائل سے زیادہ لوگوں کی اعلیٰ تعلیم وتربیت کرنا مشکل ہے، اسی وجہ سے مشکلات پیدا ہورہی ہیں۔ احمد اعجاز نے جب کہا کہ مٹر دو سو روپے کلو ہیں تو رسول بخش رئیس نے کہا کہ ابھی مہنگے ہیں کہ فصل نئی آئی ہے، کچھ دنوں میں جب پنجاب کے مٹر آ جائیں گے تو یہ نرخ آدھے سے بھی کم رہ جائیں گے۔

خیر بتانا یہ تھا کہ کل میں نے ٹائون شپ ماڈل بازار سے سودا سلف خریدا۔ بعض سبزیوں کے نرخ ٹھیک ٹھاک کم تھے۔ جیسے مٹر صرف اسی روپے کلو تھے، اسی بازار میں ایک کسان کائونٹر بنایا گیا ہے، وہاں یہ ستتر روپے کلو تھے، گھر واپسی پر دیکھا کہ سڑک کنارے ایک سبزی کی دکان پر ستر روپے کلو بھی مل رہے تھے۔ آلو تیس روپے کلو، ٹماٹر صرف پچاس روپے کلوتھے۔
بعض دیگر اہم سبزیوں میں گوبھی چونتیس روپے کلو، میتھی چوالیس روپے کلو، شلجم انتیس روپے کلو، آلو تیس روپے، ساگ اٹھائیس روپے کلوجبکہ پالک فارمی ستائیس اور پالک دیسی چونتیس روپے کلو تھی۔ بینگن نوے روپے کلو، بند گوبھی چونتیس روپے، ٹینڈے فارمی چوہتر روپے کلو جبکہ ماڑو جو ٹینڈے ہی کی ایک قسم ہے چونسٹھ روپے کلو، مونگرے، بانوے روپے کلو، اروی بانوے روپے کلو،پیاز چالیس روپے کلو تھے۔ بینگن اور ٹینڈے کے حوالے سے یہ بھی یاد رکھیں کہ پورا کلو اکٹھا بنانے کی ضرورت نہیں پڑتی،آدھا کلو بینگن کا بھرتہ یا آلو بینگن وغیرہ ایک فیملی آرام سے کھا لیتی ہے۔ مزے کی بات ہے کہ ماڈل بازار ہی میں آٹے کا ٹرک کھڑا تھا، جسے کوئی لفٹ ہی نہیں کرا رہا تھا، تاہم وہاں سے دس کلو اٹا تین سو پچانوے روپے کلو تھا ، بیس کلو کا توڑا اسی حساب سے دیکھ لیں۔ یاد رہے کہ خود ہمارے گھر چکی والا آٹا آج کل ساٹھ روپے کلو آ رہا ہے۔

کہنے کا مقصد یہ تھا کہ میڈیا صرف منفی چیزوں ہی پر طوفان اٹھاتا ہے، ٹماٹر دو سو روپے ہوں تو شور شرابا جبکہ پچاس روپے کلو مل رہے ہیں تو چپ سادھ لیں گے، اسی طرح مٹر اب خاصے دنوں تک ستر اسی روپے کلو ملتے رہیں گے۔ اچھا کنو بھی لاہور میں مختلف جگہوں سے پچاس روپے کلو مل رہا ہے، ماڈل بازار سے سو روپے اور اعلیٰ قسم کا بڑا کینو ایک سو بیس روپے درجن مل رہے تھے ۔

مہنگائی سے انکار نہیں، مگر ہر سال کچھ سبزیوں کی قیمت مخصوص دنوں میں زیادہ ہو جاتی ہے جبکہ اس کے بعد کئی ہفتوں اور مہینوں تک ان کے نرخ مناسب رہتے ہیں۔ آج کل کیلا سستا ہے۔ پچھلے کئی ماہ سے چالیس پچاس، ساٹھ روپے درجن مل رہا ہے۔ سیب آج کل مناسب مل رہا ہے۔ اچھا والا سیب بھی ایک سو بیس روپے کلو مل رہا ہے جبکہ گرین سیب تو اسی روپے کلو لیا ۔ یہی سیب ایک وقت آئے گا کہ ڈھائی سو سے کم نہیں ملے گا جبکہ کیلا بھی سال کے چند ہفتوں میں سو سے کم نہیں ملے گا۔ مزے کی بات ہے کہ موجودہ حکومت ایسی عقل وفہم سے عاری ہے کہ آج کل جب سبزیوں کے ریٹ مناسب ہیں تو یہ اس کا کریڈٹ لینے کی قطعی زحمت نہیں کر رہے، ان کی جگہ شہباز شریف ہوتا تو اخبارات کے صٖفحہ اول پر نصف صفحے کا اشتہار ہوتا اور اس میں ریٹ لسٹ چھاپ دی جاتی کہ دیکھیں ہماری کوششش سے نرخ اتنے کم ہوئے ہیں۔ میں ریٹ لسٹ کی تصویر بھی ساتھ ہی لگا رہا ہوں تاکہ جسے یقین نہیں آیا ، اسے تسلی ہوجائے ۔

 

Courtesy: M. Aamir Hashim Khakwani

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here