ٹک ٹاک ویڈیوز: یہ حسن ہے یا کالا جادو کہ بڑے بڑے اپنا سب کچھ داؤ پر لگا رہے ہیں مگر باز نہیں آ رہے؟

0
1867

یہ بڑے نام والے لوگ تو بڑے سیانے بنتے ہیں۔ یہ تو خود کو وقت کا ارسطو سمجھتے ہیں۔ کیا یہ نہیں جانتے کہ جب چوک پہ  دکان سجائے پان سونف والے کو اپنے راز بتائیں گے تو خود ہی سوچیں پان والا بھلا کب تک راز دانتوں تلے دبائے رکھے گا۔

’ساڈے ملک دا نام بدنام کر چھڈیا ان *** نے۔‘ یہ سوشل میڈیا پر غیر مہذب ویڈیوز کے لیے مشہور شخصیت بھولا ریکارڈ کا شکوہ ہے۔ یہ الفاظ وہ حریم شاہ اور صندل خٹک کے بارے میں ایک ویڈیو میں ادا کر رہے ہیں۔

جی ہاں وہی بھولا ریکارڈ، جن کی کچھ عرصہ قبل ایک غیرملکی کال گرل کے ہمراہ ویڈیو خاصی وائرل ہوئی تھی۔ موصوف کے سنہری الفاظ تھے: ’پانچ ہزار درہم دِتا اے پائی جان، بچیاں ایسے ہی نہیں لبھدیاں، جائیداداں ویچ چھڈیاں۔‘ بھولا ریکارڈ تو یہ اخلاق باختہ ویڈیو سوشل میڈیا کے سمندر میں اچھال کر ایک طرف ہوگئے لیکن ان کی ویڈیو نے دو طرح کے لوگوں کو متاثر کیا۔ ایک وہ جنہیں سستی شہرت میں گلیمر نظر آیا اور دوسرے وہ جن کے سینے کے آر پار جائیداداں والا جملہ ایسا ہوا کہ انہوں نے جائیداد کے ساتھ ساتھ عزت و وقار یہاں تک کہ سیاسی کیریئر بھی بیچ دیا۔

رنگے ہوئے بھورے لمبے بال، سنہری گوری رنگت جس پر میک اپ لگا کر گال گلابی کر رکھے ہیں۔ بڑی آنکھوں میں بھرا کاجل اور معمولی سے نین نقش والیاں جب بیک گراؤنڈ موسیقی کے ساتھ اپنی ویڈیوز بنا کر ٹک ٹاک نامی موبائل ایپ پر ڈالتی ہوں گی تو دل ہی دل میں سوچتی ہوں گی کہ حریم شاہ اور صندل خٹک کی ہلہ بول قسم کی ویڈیوز کے اس دور میں شاید ان کا بھی تکا لگ جائے۔ لیکن وہ یہ بات بھی جانتی ہیں ان کی ادائیں سند قبولیت تک ابھی نہیں پہنچ سکتیں۔ کافی نیک نام ان دو لڑکیوں سے دھوکے کھا چکے ہیں۔

ایسی ہی ایک بیٹھک کے دوران سیاست میں حسیناؤں کے کردار پر بحث چھڑ گئی۔ ملکہ ترنم کو یاد کیا، جنرل رانی کی کہانی سے لے کر جنرل پرویز مشرف کے دور میں بے وجہ نوازی جانے والی خواتین کے نام آئے۔ گئے وقتوں کی گلوکارہ اور نامور رقاصہ کا بھی ذکر چھڑ گیا۔ بات پہنچتے پہنچتے حریم شاہ اور صندل خٹک تک آئی اور یہاں آ کر فل سٹاپ لگ گیا۔ ہماری صحافی دوست کہنے لگیں کہ ’اگر کبھی حریم شاہ یا صندل خٹک سے سامنا ہو تو ایک سوال ضرور پوچھنا کہ ان کا رینک کیا ہے؟‘

میں ذرا گڑ بڑا گئی۔ میں نے جھٹ کہا: ’بہن مجھے کیا پڑی ہے کہ حریم شاہ سے ان کا ریٹ پوچھوں گی، نہ نہ توبہ کرو کیا خرافات بک رہی ہو۔‘

اس نے جواب دیا تو مجھے سمجھ آیا کہ نیک بخت ریٹ نہیں رینک پوچھنے کا کہہ رہی ہے۔ خیر مجھے اس کے سوال پر اعتراض تھا اور اسے میرا ان لڑکیوں کو فنکارہ کہنا کَھل رہا تھا، وہ بار بار پوچھے جا رہی تھی کہ جو ویڈیوز ان دو لڑکیوں کی سوشل میڈیا پر آئی ہیں وہ فن و ادب کے کون سے باب میں رقم کی جائیں گی؟

مجھے قندیل بلوچ یاد آ گئی۔ سو میں نے یہاں وہاں کی آئیں بائیں شائیں مارنا شروع کردیا کہ یار چلو نوجوان لڑکیاں ہیں، اپنے آپ کو منوانے کے لیے کچھ نہ کچھ تو کریں گی۔ اچھا ہم حریم اور صندل کو اداکار یا فنکار نہ کہیں سوشل میڈیا سلیبرٹی سمجھ لیتے ہیں اور فرض کر لیتے ہیں کہ یہ لڑکیاں سوشل میڈیا پر انٹرٹینمنٹ کے زمرے میں کام کرتی ہیں۔

دوستوں مجھے اس نکتے پر بھی اپنی دوست سے بڑا کرارا جواب ملا۔ اس نے اور کئی سوال اٹھا دیے، کہنے لگی کہ کیا سوشل میڈیا کی ہر سلیبرٹی کو ایوان اقتدار کے ناخداؤں سے پکی دوستی کا اعزاز حاصل ہے؟ کون ایسا فنکار ہے جو وزرا کو کھلم کھلا دھمکیاں دے سکتا ہو؟ کس کو یاد ہے کہ آنے والے وقت میں وزیر اعظم پاکستان بننے والی شخصیت کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر تصویر کھنچوائے؟ یا پھر موبائل اٹھائے اور وزارت خارجہ کے دفتر میں یہاں وہاں منڈلائے؟

حریم شاہ اور صندل خٹک معقول صورت، واجبی سے نقوش والی لڑکیاں ہیں جو ماڈرن کپڑے پہنتی ہیں اور بولیں تو ان کے دیہاتی لہجے کی چاشنی جھلکتی ہے۔ چند ماہ میں ان لڑکیوں نے ایسا کیا کر دیا کہ متوسط گھرانے کی یہ عام سی لڑکیاں ٹھاٹھ باٹھ میں کسی کروڑ پتی کو بھی پیچھے چھوڑ گئیں۔

میں اس نئے ڈھب کی انٹرٹینمنٹ کو سمجھنے کی کوشش کر رہی ہوں۔ ان لڑکیوں کی ویڈیوز کا بغور جائزہ لیں تو واضح ہو جائے گا کہ انہیں نہ رقص آتا ہے نہ ہی وہ اداکارہ ہیں، مزاح انہیں آتا نہیں مگر طنز بہرحال اچھا کر لیتی ہیں، گلوکاری ان کی فیلڈ نہیں اور ماڈلنگ میں اب تک کوئی قابل ذکر کام نہیں مگر وہ پھر بھی سوشل میڈیا سلیبرٹی ہیں۔

میں سمجھنا چاہتی ہوں کہ یہ کون سی تفریح ہے، کیسا ٹک ٹاک ہے جس کا مزہ صرف وزارت خارجہ کے دفتر میں ہی آتا ہے؟ یہ کون سا ہنر ہے جس کے شیدائی صرف حکومتی پارٹی کے عہدے دار ہیں؟ یہ کون سی مستی ہے کہ یہ لڑکیاں موبائل کالز ریکارڈ کر لیتی ہیں اور لیک بھی گاہے بگاہے کرتی ہیں مگر پھر بھی عشاق دیوانہ وار ان کے نمبر ملائے جا رہے ہیں؟

یہ حسن ہے یا کالا جادو کہ بڑے بڑے حاجی اپنا سب کچھ داؤ پر لگا رہے ہیں مگر باز نہیں آ رہے؟ یہ ایمان خراب کرنے کا کون سا کارخانہ ہے کہ جہاں بہت سے وہ ہیں جنہوں نے ’ساری جوانی کترا کے کاٹی پیری میں ٹکرا گئے ہیں۔‘ خاکم بدہن یہ کسی دشمن کی چال تو نہیں؟ یہ کسی سامراجی قوت کی آلہ کار تو نہیں؟ میرا جواب خاصا طویل تھا شاید۔

سامراج کا نام سن کر میری دوست کی ہنسی چھوٹ گئی۔ واللہ میرے قارئین بھی اگر چاہیں تو مسکرا لیں مگر میرے سوال ایسے ہی ہیں۔ پتہ نہیں دکھیا کن کن حوادث زمانہ کو جھیل کر شہرت کی اس بلندی کو پہنچیں کہ آج وزرا بھی انہیں کال کر کے مشورے دیتے ہیں اور ان سے مشورے لیتے ہیں۔

یہ بڑے نام والے لوگ تو بڑے سیانے بنتے ہیں۔ یہ تو خود کو وقت کا ارسطو سمجھتے ہیں۔ کیا یہ نہیں جانتے کہ جب چوک پہ دکان سجائے پان سونف والے کو اپنے راز بتائیں گے تو خود ہی سوچیں پان والا بھلا کب تک راز دانتوں تلے دبائے رکھے گا۔ کبھی تو لال پیک کی صورت اسے تھوکے گا۔ اب تم لاکھ پان کی پیک کے داغ دھو لو، بھیا ’کتھے چونے‘ کی اس جوڑی کا داغ ایسے نہیں جائے گا۔

میرے خیال میں تو وہ حضرات جن کے دماغ میں بھوسہ بھرا ہے ان لڑکیوں سے دور رہیں۔ یہ لڑکیاں نہیں وہ دیا سلائی ہیں جسے پھونکنے میں ذرا دیر لگے تو ہاتھ جلا دیتی ہیں۔ آپ تو پھر اپنے سر پر خشک بھوسہ لیے پھرتے ہیں، یہ شعلہ بن جائیں تو سب کچھ جلا کر بھی بھسم نہیں ہوتیں۔ اب یہ تیلی اٹھانے والے کی غلطی ہے۔

Written by: عفت حسن رضوی

This article is actually appeared in The Independent Urdu

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here