میرے پاس تم ہو – ایوریج مائینڈ سیٹ، مضبوط ڈائیلاگز کیساتھ سطحی ڈرامہ: قرت العین کا تجزیہ

0
2444

ڈرامہ “میرے پاس تم ہو” مجھے پیئر پریشر کی وجہ سے دیکھنا پڑا کہ کچھ کام دوستوں کے لیے کرنے چاہئیں۔ خلیل الرحمان قمر صاحب کا کمال یہ ہے کہ وہ کسی کردار کو گرو نہی کرنے دیتے۔
ہر کردار میں ان کا ہی فلسفہ و سنجیدہ “مفکر” گھسا بیٹھا ہے۔
سبھی ایک ہی مونوٹنس موڈ کا شکار ہیں۔
اب فلم کا ڈرامہ سے تقابل تو ٹھیک نہی لیکن بطور مثال دیکھیں۔
۔ رمیش سپی کی فلم شعلے جو سلیم ۔ جاوید نے لکھی اس میں سنجیدہ، رنجیدہ، شوخ، جاہل، مفکر سارے کردار اپنی ہی طرز کے ہیں یعنی انسان ہیں۔۔۔۔
گاوں کی بسنتی کوئی عقل کی بات نہی کرتی لیکن ایک عام دیہاتن جتنی سمجھ بوجھ رکھنے والی کا کردار نبھاتے ہوئے اسی سطح کے ڈائلاگ بولتی ہے اور دل جیت لیتی ہے۔ اور ویرو بھی جاہل ہے تو جہالت کی باتیں ہی کرتا ہے ارسطو کا بچہ نہی بنتا۔

فلم شعلے کے مکالمے بہت طاقت ور ہیں۔۔۔۔۔۔ لیکن سب اپنے کردار کی ترجمانی کر رہے ہیں۔

ڈرامہ میرے پاس تم ہو۔۔۔۔ میں کردار سازی پر توجہ نہی دی گئی۔۔۔ بچہ۔ بڑا ۔ بوڑھا۔ ہانیہ۔ شہوار ۔ اس کی بیوی۔ مہوش۔ دانش۔ دیوان ۔۔۔۔ماشاللہ سبھی ایک ہی انٹیلیکٹ کے لوگ ہیں۔

پورا ڈرامہ خلیل الرحمان کی مونو ٹون کی گونج ہے۔ کردار پر نہی صرف مکالمے پر کام کیا گیا ہے۔

کہانی کو چیونگم کی طرح کئی بار کھینچا گیا۔ کرداروں کا آنا اور جانا عجب غیر فطری تھا جب رائٹر کا دل کیا دوستوں کو صبح ۔ رات ساتھ رکھا حتی کہ ادھار تک دلوایا ۔ جب دل کیا بھگا دیا۔ پھر بلا لیا۔ پھر بھگا دیا۔ بغیر وجہ کے۔

کرداروں میں جئنوئن لنک بننے ہی نہی دیا جیسا کہ زندگی میں ہوتا ہے۔
پہلی قسطوں میں سسپنس بہتر رہا جو کہ بعد میں صرف ڈائلاگ کے تلذذ تک رہ گیا۔

آخر تک آتے آتے وہ ڈرامہ کے شروع کی قسطیں خود ہی بھول گئے اور مہوش کے گرد گھومتی بائیس قسطوں جس کا کرکس یا مرکزی خیال بچوں کو بھی پتا ہوگا۔۔۔۔۔

مہوش اس کا خلاصہ یہ کہہ کر کرتی ہے کہ غیر آدمی خوب صورتی کی تعریف کردے جو شوہر ہمیشہ نہی کر سکتا تو ” ہم جیسیاں” یقین کر لیتی ہیں۔

جب کہ یہ سارا معاملہ تو پیسے کے ہونے اور نہ ہونے سے متعلق ہے۔ اس نے غیر مرد کے لیے گھر اس لیے چھوڑا کیونکہ اس کا شوہر غریب تھا اس کی ضروریات پوری نہی کر سکتا تھا۔ دوسرا مرد امیر تھا۔ یعنی لالچ بنیاد تھی تباہی کی اور وہ کچھ اور بتا رہی ہے۔

بائیس قسطوں اور اتنی ذلالت کے بعد اس کو خود بھی سمجھ نہی آیا کہ اس کے ساتھ یہ ہوا کیوں؟ وجہ کیا تھی؟
دکھ کی بات ہے ۔

دوسرا ایک اور تڑکہ جہاں لکھنے والا نفسیاتی سچائی پر ڈرامائی غیر حقیقت پسندی کو ترجیح دیتا ہے۔۔

وہ ہے طاقت ور امیر شہوار کا غریب ڈرپوک بزدل دانش کو پچاس ملین آفر کرنا۔۔۔۔۔ اگر خلیل صاحب نے کوئی چھوٹی سی دکان بھی چلائی ہے تو ان کو پتا ہوگا۔ جو شے مفت ملے بزنس مین اس کے پیسے نہی دیتا۔ اس کو تو بلکل نہی دیتا جس سے وہ آسانی سے چھین سکے۔ لڑکی راضی۔ خلع لے رہی ہے۔۔۔۔۔ ساتھ چلنے کو تیار ۔۔۔۔۔۔ ایک کام جس میں رخنہ ہی کوئی نہی اس کے پیسے کوئی بےوقوف ہی دے گا۔

تیسرا ۔۔۔۔ دونوں میاں بیوی کا اتنے پیسوں کے چیک بانٹتے پھرنے کا شوق سمجھ سے باہر ہے کبھی مہوش کبھی دانش کو۔ اگر شہوار کی بیوی کا اپنا ذاتی کاروبار تھا تو شہوار اسے جو پیسے دیتا تھا وہ اسی کے تو تھے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

شوہر کی گرل فرینڈ کو یہ کہہ کر زبردستی پیسے دینا کہ میں بھی پیسے لیتی تھی۔۔۔۔۔۔۔ کیسی بے وقوفانہ بات ہے۔
اس منطق سے تو شوہر کی پچھلی گرل فرینڈز کا حساب بھی اس کی طرف بنتا ہوگا۔۔۔۔

مجموعی طور پر۔۔۔۔۔۔ایوریج مائنڈ سیٹ والا۔۔۔۔ سطحی ڈرامہ۔۔۔۔۔ جس میں لکھنے والے کی محنت پاور فل ڈائلاگ سے زیادہ نہی۔ ٹائٹل گانا۔ پروڈکشن۔۔ اچھی ہے۔ ڈائریکٹر کا کام بھی سکرپٹ کے لحاظ سے کافی بہتر ہے۔ اچھا تھا ندیم بیگ کردار نگاری پر کام کرتے۔ اداکار سبھی اچھے اور منجھے ہوئے ہیں۔ مہوش کے کردار میں ایکسپریشنز کی یکسانیت ہے اور معصوم رومی پر ڈائلاگ کا بوجھ ہے۔

اس کے رائٹر کی ایک آدھ وڈیو نظر سے گزری جس میں وہ خود پر اس طرح کے مضامین و کہانی کے الہام کا ذکر کرتے ہئں۔۔کہیں ولایت والا قصہ بھی سنایا ۔۔۔ حیرت اس لیے نہی ہوئی کہ یہ وائرس قدرت اللہ شہاب اینڈ کمپنی اس طرح سے چھوڑ گئے تھے۔۔۔۔۔۔کہ آسانی سے نہی جائے گا۔

بہتر ہے کہ یہ اس کو الہام نہ سمجھ کر اپنے آرٹ کو بہتر کرنے کی کوشش کریں۔۔۔کم از کم یہ کہانی تو الہام سے نہی آئی۔ ہمارے کچھ مہرباں دوستو نے بتایا ‘انڈیسینٹ پروپوزل’ نامی ایک انگریزی فلم جو ناول پر مبنی ہے اس سے آئی ہے ۔۔۔۔ خلیل الرحمان اچھے مکالمہ نگار ہیں۔۔۔۔۔ اپنی ذات سے نکل کر کردار میں داخل ہوں تو بہتر تخلیق کر سکیں گے۔

رائیٹر: قرت العین

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here