کیا واقعی آج اصل وکُلاء کے سر شرم کے مارے جھک گئے یا کالے کوٹ اور ٹائی کی حرمت تار تار ہو گئی یا بیرسٹر محمد علی جناح اپنی قبر میں کروٹ در کروٹ لے رہے ہوں گے؟ وُسعت اللہ خان کی دبنگ تحریر

0
1173

کہنے کو تو میں بھی کہہ سکتا ہوں کہ آج میرا سر شرم کے مارے جھک گیا (گویا پہلی بار جھکا ہو)  یا کالے کوٹ اور ٹائی کی حرمت تار تار ہو گئی یا بیرسٹر محمد علی جناح اپنی قبر میں کروٹ در کروٹ لے رہے ہوں گے ( گویا یہ بھی جناح کے ساتھ پہلی بار ہو رہا ہو)۔

لکھنے کو تو میں یہ بھی لکھ سکتا ہوں کہ یہ  وکیل نہیں کالے کوٹوں میں چھپنے والی چند کالی بھیڑیں ہیں جنہیں وکلا برادری کو اپنی صفوں سے نکالنے کی ضرورت ہے ورنہ اس پیشے پر سے اعتبار اٹھ جائے گا۔ یا جو جو بھی اس گھناؤنے کام میں شریک ہوا اس سے قانون کی پوری قوت کے حساب سے نمٹا جائے، کوئی رعائیت نہ دی جائے، ہسپتال پر تو جنگوں کے دوران بھی حملہ نہیں ہوتا۔ آخر انسانیت کو کیا ہو گیا ہے؟ یا میں اتنے صدمے میں ہوں کہ الفاظ ساتھ چھوڑ گئے ہیں۔

بولنے کو تو میں یہ بھی بول سکتا ہوں کہ آپ یقین جانیے حکومت کسی کو نہیں بخشے گی، سی سی ٹی وی کیمروں نے جن جن شکلوں کو محفوظ کر لیا ہے ان سب کو پکڑا جائے گا اور قرار واقعی سزا دی جائے گی۔ بے حد افسوسناک بات ہے کہ خود کو پڑھے لکھے، قانونی سوجھ بوجھ رکھنے والے اور قانون کے رکھوالے کہلوانے والوں کے نام پر مٹھی بھر شرپسندوں، گھس بیٹھئوں ، ملک دشمن عناصر یا انتشار  کے ایجنٹوں نے یہ شرمناک حرکت کی ہے، کل جب انہی قانون دانوں  میں سے کچھ لوگ انصاف کی کرسی پر بیٹھیں گے تو کیسا محسوس ہوگا۔

سوچ تو میں یہ بھی سکتا ہوں کہ وقت آ گیا ہے کہ تمام بار کونسلیں خود احتسابی کے جذبے سے اپنے گریبان میں جھانکیں اور صرف ووٹ کی لالچ ، توقع اور آس پر خاموش نہ بیٹھیں بصورتِ دیگر وکلا کے بھیس میں غنڈہ گردی پوری برادری کو عام آدمی کی نظر میں مافیا  قرار دلوا دے گی۔ وقت آ گیا ہے کہ ان کالی بھیڑوں کے لائسنس صرف معطل نہیں بلکہ منسوخ کیے جائیں تاکہ سائل کا اعتماد کسی حد تک بحال ہو سکے۔

میں یہ بھی رونا رو سکتا ہوں کہ اگر کوئی  اور گروہ اس طرح کی قانون شکنی  کرتا تب بھی بہت دکھ ہوتا مگر یہاں تو انہوں نے غنڈہ گردی کے نئے ریکارڈ قائم کر دئیے کہ جن کو ہر طرح کے قانون کی ایک ایک شق ازبر ہے، ان کی روزی روٹی ہی کاروبارِ انصاف سے وابستہ ہے۔ جنہوں نے ہر آمر کے خلاف ہر جمہوری تحریک میں ہر اول دستے کا کردار نبھایا ہے۔ جس پیشے سے گاندھی، جناح، لیاقت، سہروردی، بھٹو، کیانی، کارنیلئس جیسی قد آور شخصیات کا جنم ہوا۔ آج یہ سب زندہ ہوتے تو لاہور میں امراضِ قلب کے ادارے کے مناظر دیکھ کر دل کے دورے سے انتقال نہ کر جاتے۔

کورٹ کس منہ سے جاؤ گے غالب

شرم تم کو مگر نہیں آتی

کالم نگار کا کہنا ہے کہ وقت آ گیا ہے کہ ان کالی بھیڑوں کے لائسنس صرف معطل نہیں بلکہ منسوخ کیے جائیں۔ فوٹو: اے ایف پی

کتنا آسان ہوتا ہے ایسے واقعات پر پھٹیچر روائیتی انداز میں بات کرنا یا لکھنا۔ مجھے ہی دیکھیے میں نے یہ کالم پندرہ منٹ میں گھسیٹ  کے پڑھنے والے کے منہ پے دے مارا۔ یہ حرکت  اس لیے کی کہ اگر سونے کے حروف سے آسمانی خیالات بھی لکھ دوں تو بھی ککھ فرق نہیں پڑنا۔

جب کھال سن ہو جائے، جب لفظ کوٹھے پر بیٹھ جائیں، جب ضمیر دلالی کا انگوچھا  کندھے پر ڈال لے، فیصلہ ساز بانجھ ہو جائیں اور قانون کی کتابیں ردی کے درجے سے بھی نیچے آ  کر ٹشو پیپر کی جگہ لے لیں اور جب کسی بھی پیشے، شعبے یا ادارے کی حرمت یا اس کا بنیادی فخر ہی لٹ جائے تو پھر کچھ کہنا، سننا، محسوس کرنا  یا  اپنے سمیت کسی سے بھی زرہ برابر توقع رکھنا  بے معنی مشق اور تضحیع ِ اوقات ہے۔

ہوا میں زہریلی گرد پہلے ہی اڑ رہی تھی

اب اس کی مقدار بڑھ گئی ہے

ہماری سانسیں اس حبس سے اب اکھڑ رہی ہیں

ہوا کہاں ہے؟

خلیفتہ الارض مر رہا ہے

خدا کہاں ہے 

صدا یہ آئی کوئی نہیں ہے

کہ یہ لڑائی تم ہی لڑو گے ( سانی )

 

**This article is actually appeared in Urdu News

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here