SATIRE: حامد میر نے سیاست میں قدم رکھ دیا، آئیندہ الیکشن جے یُو آئی کیطرف سے لڑیں گے؟

0
2046

SATIRE:

کل مشہُور اینکر حامد میر نے مولانا فضل الرحمن کے آزادی مارچ میں شرکت کر کے اور خاص طور پر

انصار الاسلام کا لباس زیب تن کر کے یہ عندیہ دیدیا کے وہ اب سیاست میں قدم رکھ چُکے ہیں، اور اُنکی چُناؤ کی گئی جماعت مولانا فضل الرحمن کی جے یُو آئی ہے۔ اس جماعت سے اُنکا ذہنی لگاؤ ہے، اور جسطرح مولانا فضل سیاست میں مُنافقت کے سب سے اُونچے مینار پر کھڑے نظر آتے ہیں، حامد میر بھی اُن سے صحافت میں کہیں پیچھے نہیں۔

اور جب سے اُن کو عمران خان نے ٹویٹر پرُان فالو کیا ہے تب سے وہ پی ٹی آئی کیساتھ سیدھی لڑائی میں ہیں، دھرنے کو شُروع دن سے جسطرح اُنھوں نے سپُورٹ کیا اُسکی کوئی نظیر نہیں ملتی، اور جس سج دھج کیساتھ وہ کالعدم انصار الاسلام کا لباس پہن کر جلسے میں آئے وہ کسی سے ڈھکاُچھُپا نہیں، اب جیو کو چاہیے کے اُنھیں آزاد کریں اور الیکشن لڑنے دیں۔ سب سے بڑھ کر بات یہ ہوئی کے اپنے گھمنڈ میں مگن حامد میر کو یہ پتا نہیں کے اُنکے شو کو مولوی حضرات نہیں بلکہ بڑے شہر وں کے ناظرین دیکھتے ہیں اور وہ بُری طرح اُنکے سامنے ایکسپوز ہو گئے ہیں۔

حامد میر کا حلقہ انتخاب کیا ہو گا اُس پر ابھی فیصلہ ہونا باقی ہے، مولانا فضل الرحمن کیُونکہ اپنی دونوں نشستوں سے ہار چُکے لہذا وہ اپنی کوئی سیٹ آفر نہیں کر سکتے لیکن قرائن خیال کے گنڈاپُور کے مقابل وہ الیکشن لڑ سکتے ہیں۔ اُنکا آبائی گھر تو لاھور ہے جہاں وہ ضمانت ضبط ہونے کے خوف سے الیکشن نہیں لڑنا چاہتے، تجزیہ نگاروں کا یہی کہنا ہے کے حامد میر کی پاپولیریٹی کو دیکھتے ہوئے جمیعت عُلمائے اسلام اُنھیں مخصوص نشستوں پر ہی سیلیکٹ کروا لے گی۔

 ہم حامد میر کو سیاست میں دن دُگنی اور رات چوگنی ترقی کی نوید سُناتے ہیں۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here