میڈیا بُحران: دو سو ایف ایم چینلز بند ہونیکا خدشہ، وجُوہات کیا؟

0
304

تجدید لائسنس کی بھاری فیسوں کی بدولت نجی شعبہ میں کام کرنیوالے دو سو سے زائد ایف ایم ریڈیو اسٹیشن کا مستقبل خطرے میں پڑ گیا غیر قانونی ریڈیو اسٹیشن براڈ کاسٹرز انڈسٹری کی ترقی کی راہ میں بڑی رکاوٹ بن گئے ، پاکستان براڈ کاسٹرز ایسوسی ایشن کی جانب سے جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ حکومت نجی شعبہ کے ریڈیو اسٹیشن کو درپیش مالی مشکلات کے فوری ازالہ کیلئے اقدامات اٹھائے ،ایسوسی ایشن کے ترجمان نجیب احمد نے کہا ہے کہ نجی شعبے میں قائم ایف ایم اپنے مینڈیٹ کے مطابق پچھلے پچھلے سولہ سالوں سے عوام کے مسائل کو اجاگر کر نے اور اچھی طرز حکمرانی کے فروغ میں بھر پور اداکر رہے ہیں ، لیکن نہ صرف ان کے اس کردار کی حوصلہ افزائی نہیں کی گئی بلکہ انکی تجدیدی فیس میں اضا فہ کرتے وقت بھی انہیں اعتماد میں نہیں لیا گیا۔

نجیب احمد کا کہنا تھا کہ نجی نشریاتی ادارے اس وقت شدید مالی مشکلات سے دوچار ہیں جسکی ایک وجہ عموی معیشت کی سست روی تو ہے ہی لیکن سب سے زیادہ نقصان 70 کے قریب غیرقانونی ریڈیو اسٹیشن پہنچا رہے ہیں جنہیں کمرشل بنیادوں پر کام کرنے کی اجازت ملی ہوئی ہے اور مارکیٹ میں لائسنس یافتہ ایف ایم ریڈیو اسٹیشنز کو غیر صحت مندانہ کاروباری مقابلے کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔دوسری طرف تجدید لائسنس کی فیسو ں میں پندرہ گنااضافہ کر دیا گیا ہے جس کے باعث 200 ایف ایم ریڈیو اسٹیشن بند ہونے کا خطرہ ہے۔ نجیب احمد نے مطالبہ کیا کہ ریگولیٹری باڈی مارکیٹ میں مسابقانہ کاروباری ماحول پیدا کرنے کیلئے اپنی ذمہ داریاں پوری کرے،تجدید لائسنس کی فیس کم کی جائے اور غیر قانونی ریڈیو اسٹیشن بند کرنے کیلئے فوری اقدامات کئے جائیں۔

 

Courtesy: UrduPoint

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here