مولانا فضل الرحمن کالانگ مارچ : جلدی کیا ہے؟

0
260

علی احمد ڈھلوں
مولانا فضل الرحمن نے عین اس روز جب کشمیر کے حوالے سے یوم سیاہ منایا جائے گا، 27اکتوبر کو لانگ مارچ اور اسلام آباد کے ڈی چوک میں دھرنا دینے اعلان کر دیا ہے۔مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی اس دھرنے میں اپنی اپنی وجوہات کی بنا پر غیر مشروط شرکت کرنے سے اجتناب برت رہی ہیں،اس کے باوجود مولانا اپنی ضد پر قائم ہیں کہ کوئی آئے نہ آئے، میں تو دھرنا دونگا۔ اپوزیشن کی دونوں بڑی جماعتیں مذہبی کارڈ استعمال کرنے کے خلاف ہیں جبکہ جمعیت علمائے اسلام (ف) مدارس میں پڑھنے والے طلبا کو ڈھال بنا کر اپنا لانگ مارچ شروع کرنے پر ڈٹی ہوئی ہے۔ مولانا فضل الرحمن وہی فارمولہ اپنانا چاہتے ہیں جو ماضی میں وطن عزیز میں اسلام کا نام لے کر بڑی کامیابی سے استعمال کیا گیا۔ فضل الرحمن ختم نبوت اور ناموس رسالت کے نام پر قوم کے مذہبی جذبات کو ابھارنے پر مصر لگتے ہیں۔ یقیناً عشق رسول ہر مسلمان کا ایمان ہے لیکن اس وقت ایسا کوئی خطرہ نہیں ہے۔ یہ ملک میں پہلی بار نہیں ہے کہ مذہبی لابی اپنے ایجنڈے کی تکمیل کے لیے اسلام کا نام لے کر میدان میں اتری ہو۔1977ءمیں عام انتخابات میں وسیع پیمانے پر دھاندلی کے خلاف اپوزیشن جماعتوں پر مشتمل پاکستان قومی اتحاد نے تحریک چلانے کا فیصلہ کیا لیکن اس تحریک کو بھی اتحاد میں شامل مذہبی جماعتوں نے ہائی جیک کر لیا اور یہ تحریک ”نظام مصطفی“ تحریک بن گئی۔

اس تحریک کی صف اول کی قیادت میں مولانا فضل الرحمان کے والد مفتی محمود بھی شامل تھے،اس تحریک کے نتیجے میں4 اور 5 جولائی کی شب وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو کے بظاہر وفادار آرمی چیف جنرل ضیاءالحق نے ان کا تختہ الٹ دیا۔ اس پر قومی اتحاد نے خوب ڈونگرے برسائے حتیٰ کہ عام انتخابات کے غیر معینہ التوا کے بعد قومی اتحاد میں شامل جماعتوں کے رہنما کابینہ میں بھی شامل ہو گئے۔اب 42برس بعد مسلم لیگ (ن) کی طرف سے جائز طور پر سوالات اٹھائے جا رہے ہیں کہ اگر فضل الرحمن اسلام آباد پہنچ کر دھرنا دے بھی دیں اور عمران خان کو چت کرنے میں ناکام رہے تو اس کے مضمرات کیا ہونگے۔
اور اپوزیشن جماعتیں یہ بات بھی بخوبی سمجھتی ہیں کہ مولانا اپنے بغیر ریاست کو کام کرتے دیکھنے کے عادی نہیں ہیںوہ فیصلہ سازی کے عمل سے دور رہ ہی نہیں سکتے۔گزشتہ بیس برسوں میں مولانا کوہر حکومت میں جگہ مل ہی جاتی تھی۔آخری مرتبہ 1997ءکے الیکشن میں وہ قومی اسمبلی میں نہ پہنچ سکے۔2002ءکے الیکشن کے بعد مولانا وزیر اعظم بنتے بنتے رہ گئے اور انہیں اپوزیشن لیڈر کے عہدے پر قناعت کر نا پڑی۔2007ءکے الیکشن کے بعد بھی مولانا نے وزیر اعظم بننے کے لئے اپنی بولی لگوائی۔

گارڈین اخبار میں شائع ہونے والے اپنے آرٹیکل میں ڈیکلن والش نے (وکی لیکس کے حوالے سے)انکشاف کیا کہ ملک کی سب سے بڑی طالبان نواز مذہبی جماعت کے لیڈر مولانا فضل الرحمن نے امریکی سفیر پیٹرسن کے اعزاز میں ایک ڈنر دیا، جس میں انہوں نے سفیر سے درخواست کی کہ وہ وزیر اعظم بننے میں ان کی پشت پناہی کریں۔اس سلسلے میں انہوں نے امریکہ کا دورہ کرنے کی درخواست بھی کی۔مولانا کے قریب ترین ساتھی اور مشیر سینیٹر عبدالغفور حیدری کے حوالے سے یہ بتایا گیا کہ پاکستان کی تمام جماعتوں کو حکومت بنانے کے لئے امریکہ سے منظور ی لینا پڑتی ہے۔ملاقات کے بعد پیٹرسن نے اپنے حکام بالا کو رپورٹ بھیجی کہ مولانا صاحب نے یہ واضح کر دیا ہے کہ ان کے ووٹوں کی ایک خاصی تعداد ابھی تک برائے فروخت ہے۔
2008ءکے بعد آصف زرداری اور نواز شریف کے ادوار ہائے حکومت میں مولانا کو اقتدار کے اعلیٰ ترین مناصب تک رسائی رہی اور وہ مسلسل کشمیر کمیٹی کے سربراہ رہے، جس کا عہدہ وفاقی وزیر کے برابر ہوتا ہے۔مگر اس کے بعد سب کچھ تبدیل ہو گیا۔نہ صرف یہ کہ مولانا پارلیمنٹ کی اپنی سیٹ سے ہار گئے بلکہ انہیں منسٹرز انکلیو میں اپنا مستقل گھر بھی چھوڑنا پڑا۔ان کی پارٹی کے لوگ اب بھی پارلیمنٹ میں موجود ہیں، مگر وہ خود نہیں ہیں اور یہی ان کا اصل مسئلہ ہے۔ اس لانگ مارچ کا اصل محرک یہی ہے کہ ”ہمیں کیوں نکالا“۔ ہم اس لانگ مارچ کو وہی نام دیتے ہیں جو کہ یہ ہے۔آپ اسے پاکستانی سیاست میں اپنا وجود اور جواز قائم رکھنے کے لئے مولانا صاحب کی آخری کوشش کہہ سکتے ہیں۔آپ اسے ”مجھے کیوں نکالا“ہی کی ایک شکل کہہ سکتے ہیں۔یہ ذاتی بقا اورجاہ و جلال کو برقرار رکھنے کی ایک کوشش ہو سکتی ہے۔یہ بات اس حقیقت سے بھی عیاں ہے کہ اس لانگ مارچ کی بنیاد یا تقاضے کے پس پردہ کوئی پالیسی یا قانون سازی کا ایجنڈا نہیں ہے ۔ بقول شاعر

یہ تو چلتی نظر نہیں آتی
اس محبت میں جان ہے ہی نہیں
بہرکیف آخر اس مارچ کے پس پردہ کیا بات ہے ؟کیا کوئی ایسے پالیسی مطالبات ہیں جو مولانا کے مارچ میں مہمیز کا کام کر رہے ہیں؟کیا یہ لانگ مارچ مسئلہ کشمیر یا اس حوالے سے حکومتی کار کردگی سے متعلق ہے؟کیا یہ مارچ ملکی معیشت کے حوالے سے ہوگا؟یا یہ پولیس کے ظلم و ستم کے خلاف ہے؟یا یہ مارچ حکومت کی مجوزہ مدرسہ ریفارمز سے متعلق ہے؟کیا مولانا صاحب اپنے کسی آئینی یا قانون سازی سے متعلق مطالبات کے حصول کے لئے یہ مارچ کر رہے ہیں؟اگر کوئی مخصوص قانون پاس ہو جائے یا اس بارے میں کوئی عملی اقدام ہو جائے تو کیا وہ اپنا دھرنا لپیٹ کر واپس آجائیں گے؟کیا یہ مارچ صرف عمران خان کی مخالفت کے لئے کیا جا رہا ہے؟اگر عمران خان مستعفی ہو جاتے ہیں، مگر پالیسی میںکوئی بڑی تبدیلی رونما نہیںہوتی تو کیا ہوگا؟کیا مولانا صاحب مطمئن ہو جائیں گے؟کیا اس دھرنے کے نتیجے میں عوام کے لئے بھی کوئی تبدیلی رونما ہوگی ؟کیا مولانا صاحب محض ایک پراکسی کے طور پر استعمال ہورہے ہیں، جن سے وہ پریشر ڈلوانا مقصود ہے جس میں(ن) لیگ اور پیپلز پارٹی کامیاب نہیںہو سکے؟کیا مولانا کو تقویت دینے کے لئے دیگر جماعتیں بھی ان کے ساتھ شامل ہو جائیں گی؟کیا وہ انہیں مادی اور مالی وسائل فراہم کریں گی؟

یا یہ لانگ مارچ محض حکومتی راہداریوں میں دوبارہ گھسنے کی غرض سے محض دباﺅ ڈالنے کی ایک تکنیک ہے؟ اس کے علاوہ عوام مولانا سے سوال کر رہے ہیں کہ باجوڑ مدرسے اور لال مسجد میں شہادتیں ہوئیں، آپ خاموش رہے۔ جب ایک سفارت خانے کو سینکڑوں کنال اراضی دی جا رہی تھی اور جب آپ کی محبوب حکومتیں سینکڑوں امریکیوں کو دھڑا دھڑ ویزے جاری کر رہی تھیں، کیوں خاموش رہے؟عافیہ صدیقی کی حوالگی پر چپ رہے، کیوں؟ جب نواز شریف نے قادیانیوں کو بھائی بہنیں کہا، میڈیا کے روبرو خدا اور بھگوان کو ایک ہی کہا، کیوں چپ رہے؟ کارگل پر غلط فیصلے پر کیوں خاموش رہے؟ جب پرویز رشید نے مدرسوں کو جہالت کی فیکٹریاں کہا، جب ختم نبوت کی ترمیم کو نواز دور میں چھیڑا گیا، اپ کیوں نہ نکلے؟ دس برس کشمیر کمیٹی کے چیئرمین رہے اور کشمیر کا تذکرہ نہ کر سکے، کیوں؟

بہرکیف یہ کسی کو علم نہیں کہ مولانا صاحب کس کے کہنے پر نکلے ہیں، کیوں کہ ماضی کی پریکٹس کے مطابق اگر مخصوص قوتیں گرین سگنل نہیں دیتی تھیں تب تک کوئی مذہبی جماعت دھرنا وغیرہ نہیں دے سکتی تھی۔ ہمیں یہ بھی سمجھنا چاہیے کہ آج تک جتنے بھی اس ملک میں دھرنے ہوئے ہیں اس سے ملک کو نقصان ہی ہوا ہے۔ لہٰذااس وقت ملک کے تمام حالات مولانا کی باتوں کے خلاف ہی جاتے دکھائی دے رہے ہیں۔ آرمی چیف کا چین کے دورے پر وزیر اعظم کے ساتھ جانا بھی موجودہ سیٹ اپ کے جاری رہنے کی طرف اشارہ ہے۔اور ایک آئینی پیکیج پر بھی خاموشی سے کام جاری ہے، جو آئندہ انتخابات سے پہلے یہی اسمبلی منظور کرے گی۔معاملہ الجھا ہوا صرف اس لیے نظر آتا ہے کہ مرئی اور غیر مرئی سمیت مولانا، مسلم لیگ نون اور پی پی پی دودھ کے اس قدرجلے ہوئے ہیں کہ چھاچھ کو بہت پھونک پھونک کر پینا چاہتے ہیں۔ورنہ تو سب ایک ہی چھتری تلے پلے بڑھے ہیں۔غالباً اس وقت پاکستان مسلم لیگ نون اور پیپلز پارٹی کی قیادتیں جمہوریت کی گاڑی کو چلتا ہوا دیکھنا چاہتی ہیں۔ یہ لوگ سوئی چبھو کر پنکچر کرنے میں عار محسوس نہیں کرتے کہ چلانے والوں کو کچھ دقت ہو، مگر اس کے انجن میں ریت بھر کر اسے مکمل طور پر ناکارہ کرنے کے حق میں نہیں ہیں کیونکہ وہ اس حقیقت سے پوری طرح باخبر ہیں کہ جو باہر سے غیر سیاسی کاریگر بلائے جائیں گے، وہ گاڑی ٹھیک کر کے، اس کا رنگ اور سیٹیں بدل کر خود ہی چلائیں گے۔ یہ تماشہ کئی بار ہو چکا ہے۔ میرے نزدیک دو بڑی سیاسی جماعتوں کا یہ فیصلہ ابھی تک درست ہے کہ حکومت کو گرانے کا آئینی راستہ اختیار کیا جانا چاہیے، لیکن یہ سب کو معلوم ہے کہ ایوان کے اندر اس وقت تبدیلی کے کوئی امکانات نہیں؛ تاہم تحریک انصاف کے اتحادیوں نے با جماعت پلٹا کھایا تو ایسا ہونا بعدید از قیاس نہیں کوئی بعید نہیں۔ سیاسی موسم اسلام آباد میں حکومت کے لیے صاف ہی نظر آ رہا ہے۔

ہماری سیاست ایک غیر فطری ڈگر پر چل نکلی ہے۔ بد قسمتی یہ ہے کہ سیاست و ریاست کی باگ ان ہاتھوں میں ہے جو سیاسی حرکیات سے بے خبر ہیں۔ یوں اصلاح کا کوئی امکان دکھائی نہیں دیتا۔ سیاست کا فطری راستہ وہی ہے جو رائے عامہ کے آنگن سے ہو کر گزرتا ہے۔ جب تک ہم اس کی طرف نہیں لوٹیں گے، ریاست کی گاڑی حادثات سے نہیں بچ سکتی۔لہٰذامولانا صاحب سے گزارش ہے کہ اقتدار آنی جانی چیز ہے، موجودہ حکومت کو وقت ملنا چاہیے، انہیں کام کرنے دیں، آنے والے سالوں میں اگر کارکردگی بہتر نہ ہوئی تو وہ الیکشن میں انہیں ہرا کر اقتدار میں آجائیں یہی جمہوریت کا حسن ہے، لیکن اگر مولانا جلدی کریں گے تو ایسے میں ہمیشہ غیر جمہوری قوتیں فائدہ اُٹھاتی ہیں جو ملک کے لیے کسی طور بھی سود مند نہیں اور نہ ہی ریاست اس کی متحمل ہو سکتی ہے۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here