روزنامہ 92 اور 92 ایچ ڈی نیوز سے 25 مُلازمین فارغ

0
522

 میڈیا بُحران کے سائے تلے تمام مالکان ایک ہیں سب ایک ہیں۔ میڈیا ورکرز آج جس ذہنی کرب سے گُزر رہے ہیں اسکا کبھی سوچا بھی ناں تھا۔ کوئ میڈیا بُحران کا ذمہ دار حکُومت کو گردان رہا تو کوئی چینل مالکان کو کوس رہا ہے۔ تمام میڈیا تنظیمیں چین کی بانسری بجا رہیں کیونکہ سب کے مُفادات چینل اور اخبار مالکان سے وابستہ۔ مجال ہے کوئی چینل مالکان کی غلط پالیسیوں پر ایک خبر بھی لگا سکے، ایک ٹکر ہی چلا سکے لیکن حکُومت کیخلاف آرٹیکل لکھنے اور پروگرام کرنے میں کھُلی آزادی۔

جبتک تک اخباری اور میڈیا تنظیمیں مُنافقانہ رویہ رکھیں گی، تب تک اس بُحران کا حل مُمکن نہیں، تنظیموں کے عُہدیداران جب ٹاپ مینجمینٹ سے مسائل کے حل کیلیے ملتے ہیں تو صرف طفل تسلیاں ہی دیجاتی ہیں۔ اور اُنکی نوکری پکی کرنے کا وعدہ کر کے باقی ورکرز کی نوکریوں پر تلوار چلا دیجاتی ہے۔ سات بجے سے رات گیارہ بجے تک ٹاک شوز کرنے والے اینکرز کوُکُچھ نہیں ہوتا۔ اگر چینل مالکان صرف آٹھ سے نو اور دس سے گیارہ والا ٹاک شو رکھیں اور باقی اینکرز کو کہیں اور کھپا لیں تو میڈیا ورکرز کو نوکری سے فارغ ہونے سے بچایا جا سکتا ہے۔

 اب تازہ ترین بجلیاں روزنامہ 92 کے مُلازمین پر گری ہیں۔ جہاں پہلے فیز میں تقریباً 25 لوگوں کو نوکری سے ہاتھ دھونا پڑے ہیں۔ دُوسرے فیز میں سو سے ڈیڑھ سو لوگ بھی اس کرائسئس کی بھینٹ چڑھنے کو تیار ہیں۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here