اکانومی میں نوبل انعام جیتنے والے میاں بیوی نے غُربت ختم کرنیکے گُر بتا دیے

0
817

بشُکریہ: سُہیل چیمہ

اس سال اکانومی کا نوبل پرائز تین لوگوں کو ملا، جس میں سے دو لوگ میاں بیوی ابھیجیت بینرجی اور اس کی بیوی ایشٹر ڈفلو جو پہلے بینرجی کی ایم آئی ٹی یونیورسٹی میں شاگرد تھی، مگر بعد میں انہوں نے شادی کی۔۔

ان دونوں ایم آئی ٹی کے نوبل انعام یافتہ جوڑا کی ریسرچ سے صرف انڈیا میں پچاس لاکھ غریب لوگوں کو فائدہ پہنچا ھے اور وہ غربت کی لکیر سے اوپر آگیے ھیں۔۔۔اور ان کا بتایا ھوا غُربت کا ماڈل آج دنیا کے باقی غریب ممالک میں بھی اپنایا جارھا ھے۔۔۔غربت کے اس ماڈل میں بینرجی کہتا ھے، غریب کو سب سے پہلے اس کی صحت پر توجہ دینی چاھیے۔۔۔دنیا کا ھر غریب شخص مہنگے علاج کی طرف بھاگتا ھے اور وہ بنیادی علاج جس میں ویکسینیشن اور اورل ڈی ہائیڈریشن یا گھانا پینا، اس پر توجہ نہی دیتا۔۔۔۔غربت کی ایک وجہ بیماریوں سے جنگ بھی ھے۔۔۔ ریسرچ میں سب سے اھم بات جو نوٹ کی گئی، وہ یہ کہ جو غریب شخص ھے وہ کھانے پینے اور صحت پر کم مگر اینٹرٹینمینٹ پر زیادہ پیسہ خرچ کرتا ھے۔
اسی طرح اس کی بیوی ایشٹر کے ماڈل کے مطابق , آپ گاوں دیہاتوں میں عورت کو گھر کے معاملات کا
انچارج بنا دو تو اس سے بہت سے مسائل حل ہوسکتے ھیں۔۔
پاکستان حکومت کو بھی ایک ٹاسک فورس بنا کر اس نوبل انعام یافتہ کا غربت کا ماڈل اپنے ملک میں اپنا کر اپنے ملک کے غریب لوگوں کی مدد کرنی چاھیے۔ ( ویسے میرا نہی خیال کہ پاکستان کی کسی بھی سیاسی پارٹی نے اس ریسرچ ماڈل کو پڑھنے یا سمجھنے کی کوشش کی ھوگی).

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here