پشتُون موومنٹ کی ‘بہادر’ اور ‘نڈر’ کہلانے والی گلالئی اسماعیل پاکستان سے ’فرار‘ ہو کر امریکہ پہنچ گئیں، سیاسی پناہ دینے کی درخواست

0
831

پاکستان میں مختلف مقدمات کا سامنا کرنے والی پشتون تحفظ موومنٹ کی حامی سماجی کارکن گلالئی اسماعیل کئی ماہ کی روپوشی کے بعد امریکہ میں منظرِ عام پر آئی ہیں۔

گلالئی اسماعیل رواں برس مئی کے اواخر سے غائب تھیں جب اسلام آباد میں ایک بچی سے جنسی زیادتی اور اس کے قتل کے واقعے پر احتجاج کرنے پر ان کے خلاف انسدادِ دہشت گردی کی دفعات کے تحت مقدمہ درج کیا گیا تھا۔

اس مقدمے میں گلالئی اسماعیل پر الزام عائد کیا گیا کہ اُنھوں نے ’اس واقعے کی آڑ میں لوگوں کو حکومت وقت اور فوج کے خلاف بھڑکایا ہے‘۔

مقدمے کے اندارج کے بعد پولیس نے ان کی تلاش میں متعدد مقامات پر چھاپے بھی مارے مگر انھیں گرفتار نہیں کیا جا سکا۔

اس سے پہلے بھی ’حکومت مخالف تقاریر‘ کے الزام پر گلالئی اسماعیل کو قانون نافذ کرنے والے اداروں نے اس وقت اپنی حراست میں لیا تھا جب وہ بیرون ملک سے پاکستان واپس آرہی تھیں۔

اس کے علاوہ انھیں اس سال فروری میں پی ٹی ایم کے رہنما ارمان لونی کے قتل پر احتجاج کرنے کے بعد بھی حراست میں لیا گیا تھا۔

جمعرات کو گلالئی کی جانب سے سوشل میڈیا پر ایک پیغام جاری کیا گیا جس میں انھوں نے بتایا کہ وہ پاکستان سے ’فرار‘ ہو کر امریکہ پہنچ گئی ہیں جہاں وہ سیاسی پناہ حاصل کر رہی ہیں۔

امریکی اخبار نیویارک ٹائمز کے مطابق ڈیموکریٹ سینیٹر چارلز شومر کا کہنا ہے کہ ’میں گلالئی کی پناہ کی درخواست کی حمایت کے لیے جو کچھ کر سکا کروں گا۔ یہ واضح ہے کہ اگر وہ پاکستان واپس گئی تو ان کی جان کو خطرہ ہوگا۔‘

نیویارک ٹائمز سے بات کرتے ہوئے گلالئی اسماعیل نے یہ تو نہیں بتایا کہ وہ پاکستان سے کیسے نکلیں لیکن انھوں نے اپنے انٹرویو میں یہ کہا کہ ’میں کسی ہوائی اڈے سے نہیں اڑی۔‘

اس کے علاوہ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ’میں آپ کو مزید کچھ نہیں بتا سکتی۔ میرے انخلا کی کہانی سے بہت سے لوگوں کی جان کو خطرہ لاحق ہو سکتا ہے۔‘

’چھپنا کوئی خوشگوار کام نہیں‘

نیویارک ٹائمز کے مطابق گذشتہ مئی ان کے ایک دوست نے ان کے گھر پر فون کیا کہ وہاں سکیورٹی فورسز چھاپہ مارنے والی ہیں تو وہ جلدی جلدی گھر سے نکل گئیں۔

’یہ ایسا لمحہ ہوتا ہے جب آپ کے پاس محسوس کرنے کا وقت نہیں ہوتا۔ آپ کے پاس خوف کا وقت نہیں ہوتا، آپ کے پاس بہادر بننے کا بھی وقت نہیں ہوتا، بس آپ کو عمل کرنا ہے۔‘

گلالئی اسماعیل

نیویارک ٹائمز سے بات کرتے ہوئے انھوں نے ایک واقعے کا ذکر کیا کہ جب وہ سکیورٹی فورسز سے بھاگ کر اپنے والد کے ایک دوست کے گھر پہنچی تھیں۔ اور جب اس دوست نے گلالئی کو دیکھا تو وہ سکتے میں آ گئے۔

’وہ اتنے ڈرے ہوئے تھے کہ جیسے وہ ایک دہشت گرد کی حمایت کر رہے ہیں اور ان کے بچے گرفتار کر لیے جائیں گے۔‘ اگلے دن ان کے لیے ٹیکسی منگوائی گئی اور وہ چلی گئیں۔

امریکی اخبار کے مطابق گلالئی اسماعیل نے ایک نیا ریسرچ اور ایڈوکیسی گروپ ’وائس فار پیس اینڈ ڈیموکریسی‘ کے نام سے شروع کیا ہے اور وہ لاء سکول میں داخلہ لینے کا بھی سوچ رہی ہیں۔ تاہم انھیں اپنا ملک چھوڑنے کا بہت دکھ ہے۔

’جب میں نکلی تھی تو مجھے پتہ تھا کہ یہ ایک ون وے ٹرپ ہے۔ اور جب میں (ملک) چھوڑ رہی تھی، تو میں نیچے جھکی اور مٹی کو چھوا۔ میں نے اپنے آپ سے کہا کہ میرا تعلق یہاں سے ہے، میرا ملک یہ ہے۔‘

’میری ابھی گلالئی سے تفصیل سے بات نہیں ہوئی‘

گلالئی اسماعیل کے والد پروفیسر محمد اسمعیل نے بی بی سی اردو کے نامہ نگار رفعت اللہ اورکزئی کو بتایا کہ ان کی بیٹی پر پاکستان کے مختلف عدالتوں میں چھ مقدمات زیر سماعت تھے۔

انھوں نے کہا کہ ان میں اسلام آباد میں ہلاک ہونے والی پشتون بچی فرشتہ کیس میں احتجاج کے سلسلے میں تین مقدمات درج کیے گئے، اس کے علاوہ پی ٹی ایم جلسوں میں شرکت اور وہاں تقریریں کرنے پر دو مقدمات جبکہ این جی او کی رقم مبینہ طور پر کالعدم تتنظیموں میں تقسیم کا ایک مقدمہ بھی زیر سماعت ہے جس میں ان کے والدین (میں اور میری بیوی) کے ناموں کو بھی شامل کیا گیا ہے۔

انھوں نے کہا کہ مئی میں جب گلالئی اسماعیل کی ایک کیس میں ضمانت پر رہائی ہوئی تو انھیں اس وقت اندازہ ہوگیا تھا کہ ’آنے والے دنوں میں پی ٹی ایم کے رہنماؤں محسن داوڑ اور علی وزیر سمیت ان کے خلاف نہ صرف مزید مقدمات درج کیے جائیں گے بلکہ خطرہ تھا کہ انھیں جیلوں میں تشدد کا نشانہ بنائے جائے گا۔‘

انھوں نے کہا کہ ‘اس وقت گلالئی نے فیصلہ کیا کہ پاکستان میں اب ان کی زندگی کو شدید خطرات لاحق ہیں لہذا اسے یہ ملک چھوڑنا ہوگا ورنہ ان کے ساتھ کچھ بھی ہوسکتا ہے۔’

گلالئی اسماعیل

جب ان سے پوچھا گیا کہ گلالئی اسماعیل امریکہ کیسے پہنچیں تو اس پر پروفسیر اسماعیل نے کہا کہ ’میری ابھی گلالئی سے اس ضمن میں کوئی مفصل بات نہیں ہوئی ہے۔’

ان کے مطابق جب سے گلالئی اور ان کے خلاف مقدمات کا اندراج کیا گیا ہے اس کے بعد سے مسلسل ان کے صوابی اور اسلام آباد کے گھروں پر چھاپے پڑ رہے ہیں جس سے ان کی مشکلات روز بروز بڑھتی جا رہی ہیں۔

گلالئی اسماعیل کون ہیں؟

گلالئی اسماعیل ڈیڑھ دہائی سے زیادہ عرصے سے پاکستان میں نوجوانوں خصوصاً لڑکیوں کے حقوق کے لیے سرگرم ہیں۔

گلالئی اسماعیل نے 16 سال کی عمر میں ‘اویئر گرلز’ نامی غیر سرکاری تنظیم کی بنیاد رکھی تھی تاکہ نوجوان لڑکیوں کو اُن کے حقوق کے بارے میں آگاہی فراہم کی جا سکے۔

2013 میں انھوں نے ایک سو خواتین پر ایک ٹیم بھی تشکیل دی جس نے گھریلو تشدد اور کم عمری کی شادیوں جیسے معاملات پر کام کیا تھا۔

وہ اپنے کام کے لیے عالمی سطح پر کئی ایوارڈ بھی حاصل کر چکی ہیں۔ 2016 میں انھیں فرانس میں ژاک شیراک فاؤنڈیشن نے کانفلکٹ پریونشن پرائز سے نوازا تھا۔

اس سے قبل انھیں 2015 میں دولتِ مشترکہ کے یوتھ ایوارڈ سے بھی نوازا گیا تھا جبکہ 2014 میں انھیں انٹرنیشنل ہیومنسٹ ایوارڈ بھی ملا تھا۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here