پاکستان کے چوٹی کے تحقیقاتی رپورٹرز رؤف کلاسرہ اور عامر متین پر آپ نیوز کے دروازے بند! ٹاک شو ‘آپ کے مُقابل’ بھی بند؟

0
1341

کل رات جب دیر گئے تک رؤف کلاسرہ کا ٹی وی پر شو ناں چلا تو سوشل میڈیا کا سہارہ لیا اور پتا چلا کے اچانک فُون کر کے شو کو بند کرنیکا کا کہا گیا ہے۔ پتا ابھی تک نہیں چلا کے وجُوہات کیا تھیں؟
آپ کے مُقابل کو پاکستانی ناظرین باقاعدگی سے دیکھتے تھے جسمیں بغیر کسی جانبداری کے حکُومتی و اپوزیشن کے اسکینڈلز کو عوام تک پہنچایا جاتا تھا پھر اُس پر سیر حاصل گُفتگُو ہوتی تھی اور خبر کاتفصیلی معائنہ بھی کیا جاتا تھا۔ حکُومتُ و اپوزیشن کے اکثر سیاستدان ہمیشہ رؤف اور عامر سے خفا رہتے تھے۔ لیکن دونوں صحافی جو کئی دہائیوں سے تحقیقاتی صحافت کا بوجھ اُٹھائے ہوئے بہادری کیساتھ کئی سالوں سے ٹی وی سکرینوں پر اپنی دھاک بٹھائے ہوئے ہیں۔ َ

رؤف کلاسرہ سے ٹی وی پر تجزیوں کا آغاز دُنیا نیوز سے کیا جہاں اُنکی قاضی سعید کیساتھ بڑی اچھی کیمسٹری تھی اور صُبح کے اوقات میں سب سے زیادہ ریٹنگز لینے والا پروگرام بن گیا۔ یہ قاضی سعید اور رؤف کلاسرہ کا ٹی وی صحافت کا آغاز تھا اور پھر دونوں نے کامیابیاں سمیٹیں اور پیچھے مُڑ کر کبھی نہیں دیکھا۔

عامر متین اور رؤف کلاسرہ کے مُشترکہ دوست مُحّمد مالک نے عامر متین کو کنونس کیا کے وہ ٹی وی پر اپنے تجزیے شُروع کریں کیونکہ وہ پارلیمنٹ رپورٹنگ بہت اچھے طریقے سے کر رہے تھے، یَوں عامر متین اور رؤف کلاسرہ کی ٹیم بنی اور اے آر وائی سے ٹاک شو کا آغاز کیا اور پروگرام کا نام تھا “خبر سے خبر تک”۔ اے آر وائی میں بڑے کھلاڑیوں کی سالہا سال سے موجُودگی کی وجہ سے اور اُنکی پالیسیوں کے باعث یہ جوڑی اے آر وائی پر کُچھ زیادہ عرصہ اپنا سکہ ناں جما سکی اور یُوں فیصل آباد کے میاں برادران اُنھیں اپنے چینل 92 نیوز میں لے گئے اور پروگرام تھا مُقابل۔ دونوں اینکرز نےایک لمبی اننگ کھیلی اور یہی چینل اُنکی پہچان بن گیا۔
آفتاب اقبال دونوں اینکر حضرات کے دیرینہ فین ہیں، جب اُنھوں نے آپ نیوز کیلیے پروگرام آفر کیا تو دونوں انکار ناں کر سکے۔ اور یُوں “آپکے مُقابل” کا آغاز ہوا۔ لیکن آپ نیوز کیساتھ انکا میچ ٹوئنٹی ٹوئنٹی ثابت ہُوا اور اچانک نان پروفیشنل طریقے سے پروگرام بند کر دیا گیا۔

بہاؤالدین زکریا یونیورسٹی سے گریجوایشن اور پھر گولڈ اسمتھ یونیورسٹی سے انگلش لٹریچر میں ماسٹرز کرنے کیبعد پاکستان کےُپرنٹ میڈیا میں انویسٹیگیشن جرنلزم میں اپنی دھاک بٹھائی۔ ڈان گروپ سے صحافت کا سفر شُروع کرنیوالے رؤف کلاسرہ دی نیوز اور ایکسپریس ٹریبیون سے ہوتے ہوئے دُنیا کے اُونچے پائیدان تک جا پہنچے، پھر یہیں سے ٹی وی کیریئر کا اسٹارٹ ہوا۔


جنگ، اخبار جہاں میں بھی اپنے قلم کاُجادو چلاتے رہے جو اب روزنامہ دُنیا میں سر چڑھ کر بول رہا ہے۔ وہ علیحدہ بات ہے کے کشمیر کہانی کے کالموں کی سیریز کے اختتام کیلیے ریڈرز کو خاص نوافل پڑھنے پڑھے
کئی کتابوں کے مصنف بھی ہیں، جسمیں ”ایک سیاست کئی کہانیاں” کو کافی شُہرت ملی۔
لیہ کی جاٹ برادری کی سب کاسٹ کلاسرہ سے تعلق رکھنے والے رؤف کلاسرہ دوستوں کے دوست اور ایک مہا لیو/اسد سٹار کے تمام خواص پر پُورے اُترتے ہیں۔

میڈیا بائیٹس دُعا کرتا ہے کے وہ جہاں بھی جائیں، سچ کو آنچ ناں آنے دیں اور بہُادری ہمیشہ اُنکا خاصہ رہے۔

Written By: Imran Malik

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here