تُونے اشرافیہ کے گریبان پر ہاتھ ڈالا، تیری یہ مجال، اب رو اپنی قسمت پر

0
1313

پچھلے چند دنوں سے سوشل میڈیا پر جس چیز کا سب سے زیادہ چرچا رہا وہ لاھور کے ایم ایم عالم روڈ پر واقع مہنگے ریسٹورینٹ پر محکمہ ایکسائز کا چھاپہ تھا جہاں شراب و دیگر ممنوعہ مشرُوب کھانوں کیساتھ پیش کیے جا رہے تھے، اس واقعہ کی تصویریں اُتریں، ویڈیوز بنیں، سوشل میڈیا پر اس خبر کا کافی دیر تک راج رہا، چند سوالات جنکا جواب ناں ملا وہ یہ تھا کے ریسٹورینٹ مالکان کہیں نظر نہیں آئے، بیچارے غریب بیرے تصویروں کی زینت بنتے رہے، جنکا قصُور صرف یہ تھا کے وہ پیٹ کی پیاس بُجھانے کیلیے یہاں نوکری کر رہے تھے،

دُوسرا سوال یہ تھا کے اُس ایکسائز آفیسر نے کیسے یہ ہمت باندھ لی کے بھڑوں کے چھتے کو چھیڑ بیٹھا، سُستی سمجھ لیجیے کے کافی دنوں سے کوشش کے باوجود اُس ایکسائز آفیسر کا پتا ناں چلا سکا، جس نے اشرافیہ کی شناخت کیفے آئے لینتو کو تالے لگوا دیے، یہ پاکستان کی اشرافیہ کے مُنہ پر ایسا تھپڑ تھا، جس کی بخشش ہونا بُہت مُشکل تھا، اشرافیہ نے بڑی مُشکل سے چند دن انتظار کیا، اور عاشُورہ کے فورا بعد عوام کو بتا دیا، کے اشرافیہ کے گریبان تک پہنچنا مُشکل ہی نہیں، نا مُمکن بھی ہے۔

مُحترم مسعُود بشیر وڑائچ کو قلم کی صرف ایک جُنبش سے ٹرانسفر کر دیا گیا، اور ایک تھپڑ نہیں دو تھپڑ مارے گئے ٹرانسفر کیساتھ ساتھ او ایس ڈی بھی بنا دیا گیا، یہ پیغام ہے اُن تمام افسران کیلیے

جو پاکستان کی اشرافیہ کیخلاف کسی اقدام کرنے کا سوچے بھی، چھاپہ مارنا ہے تو جان ہتھیلی پر رکھ کر مارنا، کوئی روزگار کا مُناسب بندوبست کر کے مارنا، یہ مُلک اور جمہوریت صرف اشرافیہ کیلیے ہے چاہے وہ عائشہ مُمتاز ہو یا مسعُود وڑائچ

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here