’’ایک بات پوچھوں تو ماریں گے تو نہیں؟ آپ نے مارنا کہاں سے سیکھا ہے؟‘‘ پنجاب پولیس اور سوشل میڈیا کے ہاتھوں ‘صلاح الدین’ کی موت؟

0
726

’’مارو گے تے نئیں جے اک گل پچھاں؟ تسی مارنا کتھوں سکھیا ؟‘‘ (’’ایک بات پوچھوں تو ماریں گے تو نہیں؟ آپ نے مارنا کہاں سے سیکھا ہے؟‘‘)

یہ شایدمانگا منڈی کے صلاح الدین کا آخری سوال تھا۔ کل شام کو پولیس حراست میں اس کی موت کی خبر آئی۔ یہ وہی صلاح الدین ہے جو کچھ دن قبل سوشل میڈٰیا پر وائرل ہونے والی ایک ویڈیو میں اے ٹی ایم توڑتے ہوئے کیمرے کو منہ چڑا رہا تھا۔ بعض اطلاعات کے مطابق اُس نے اے ٹی ایم پیسے کے لئے نہیں بلکہ اپنا پھنسا ہوا کارڈ بازیاب کروانے کے لئے توڑی تھی۔  اپنے حلیے اور حرکات و سکنات سے وہ ذہنی طور پر غیر متوازن نہیں تو سادہ لوح اور بھولا ضرور معلوم ہوتا تھا۔ لیکن اگر وہ چور بھی تھا تو اُس کا قصور یہ ہے کہ چھوٹا چور تھا۔

اس طبقاتی سماج میں چوری اور چوروں کی بھی قسمیں اور درجے ہیں۔ ایک طرف غربت، بیروزگاری اور تنگی کے تلخ حالات نچلے طبقات کے لوگوں کو جرائم کی طرف دھکیل دیتے ہیں۔ یہ  قانون کے جالے میں پھنس جانے والے کیڑے مکوڑے ہیں۔ دوسری طرف دولت کی ہوس میں بدمست حکمران طبقے کے وہ چور ہیں جنہیں کچھ دن قبل حکومت نے عوام کے تین سو ارب ’’معاف‘‘ کر دئیے ہیں۔  یہ وہ ہیں جو قانون کے جالے کو پھاڑ کے نکل جاتے ہیں۔

صلاح الدین کا جرم کچھ بھی تھا لیکن پولیس حراست میں اُس کی موت نے اس طبقاتی نظام کے کالے قانون کے جرائم میں ایک اور جرم کا اضافہ کر دیا ہے۔ اور اُس کا آخری سوال‘ رتی بھر ضمیر رکھنے والے ہر انسان کے لئے کئی سوال چھوڑ گیا ہے۔

دُوسرا جس طریقے سے سوشل میڈیا پر ویڈیو وائرل ہوئی جسمیں صلاح الدین کیمرہ میں مُنہ چڑا رہا، اور ایکشن لینے کی بات ہوئی، چوبیس گھنٹوں میں ہی پنجاب حکُومت کے نُمائندے شہباز گُل نے متعلقہ پولیس حکام سے ایکشن لینے کا کہا اور صلاح الدین پولیس کی روایتی تفتیش کی بھینٹ چڑھ گیا۔ پیٹی بھائی اب تفتیش کرینگے اور بڑی صفائی سے پیٹی بھائی بچ نکلیں گے۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here