ایڈورٹائزنگ کے درخشندہ ستارے کو بُجھا دیا گیا: پانچ بچوں کے باپ سٌید حٌماد احمد کا والدہ اور بیوی سمیت بہیمانہ قتل، قیامت سی قیامت ہے

0
2608

لاھور ایڈورٹائزنگ کا ایک روشن ستارہ، دوستوں کے بہترین دوست، اور مُخالفین کے خیر خواہ، سید حماد نقوی کو جائیداد کے گھریلو تنازعے پر سگے چھوٹے بھائی نے قتل کر دیا، اور لاھور میں میڈیا کا ایک بڑا سہارہ اور دوست ہمیشہ کیلیے اس دار فانی سے کُوچ کر گیا، لاھور میں کون ہو گا جو عماد بھائی کی مُسکراہٹ اور پیار کا دیوانہ ناں ہو، اُسکی سب سے بڑی مثال ہمارے میڈیا کے تمام دوستوں کا اُنکی ایڈورٹائزنگ ایجنسی برانڈ ایچ کے دورے تھے جہاں ہر وقت
کوئی ناں کوئی مُوجود ہوتا تھا۔ کسی کو کوئی کام ہو یا ناں ہو، حماد بھائی ہر ایک کو اپنی مخصُوص مُسکراہٹ کیساتھ ویل کم کرتے تھے، چائے اور بسکٹ سے تواضح تو بہت ضروری ہوتی تھی۔

اُنھوں نے اپنے کیریئر کا آغاز تو اکاؤنٹس ڈیپارٹمنٹ سے کیا لیکن جلد ہی لاھور کی ایڈورٹائزنگ کے پلر بن گئے، اور کُچھ سالوں سے شوکت خانُم ہسپتال کا میڈیا کامیابی سے چلا رہے تھے، ٹائم اینڈ اسپیس سے ایڈورٹائزنگ کی دُنیا میں داخل ہونیوالے حماد شاہ نے اکاؤنٹس کیساتھ ساتھ میڈیا پلاننگ اور بائینگ میں بھی مہارت حاصل کی، بُہت کم لوگوں کو پتا ہو گا کے وہ بہت اچھے لکھاری بھی تھے، سیاست اور اکانومی پر اُنکے آرٹیکلز روزنامہ نیشن میں چھپتے تھے۔

آج لاھور کا میڈیا حماد شاہ کیلیے دل گرفتہ اور اشک بار، کسی کو یقین نہیں آ رہا کے حماد بھائی اب اس دُنیا میں نہیں رہے۔
برانڈ ایچ یتیم ہو گئی، اُنکے بچے ماں باپ کے شفیق سائے سے محرُوم ہو گئے، حماد بھائی کے والد پر غم کے جو پہاڑ ٹُوٹ پڑے اُنکا مداوا اب کوئی نہیں کر سکتا۔

ہم آج ایک مہربان دوست سے محرُوم ہو گئے، اور اُنکا قاتل کوئی دوسرا نہیں بلکہ اپنا سگا بھائی جسے اُنھوں نے ہمیشہ پروموٹ کیا۔ اس پر کُچھ کہنا وقت کا ضیاع، کیونکہ حماد بھائی کبھی سوچ بھی نہیں سکتے تھے کے اُنکا سگا بھائی اُنکے ساتھ یہ کُچھ بھی کر سکتا ہے، اُن پانچ بچوں کا سوچ کر ہی کلیجہ مُنہ کو آتا ہے۔

اللہ تعالی اُنکی مغفرت کرے، بچوں کو زندگی میں کبھی والدین کی کمی محسُوس ناں ہونے دے، افسوس الفاظ بھی اس غم کا بوجھ نہیں اُٹھا پا رہے۔

 

Written by: Imran Malik

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here