چیئرمین سینیٹ کیخلاف تحریک اعتماد کوئی روٹین کی سیاسی چال نہیں تھی بلکہ ایک بڑی جنگ یعنی وار کا حصہ تھا۔ ’’ایک پیج‘‘ والوں نے اس لئے اپنا تمام زور لگا کر اس چال کو ناکام بنا دیا۔ کیسے؟

0
440

By: Aamir Hashim Khakwani

آج ایک صاحب سے بات ہور ہی تھی، کہنے لگے کہ سینیٹ کے واقعے میں آپ کے اپنے تاثرات کیا ہیں ؟
عرض کیا کہ اپوزیشن کا تو میں قطعی حامی نہیں، ن لیگ، پیپلزپارٹی اور جے یوآئی کا ناقد ہوں، ان کے خلاف بہت بار لکھ چکا، کسی سے کوئی ہمدردی نہیں۔ اس لئے ان کی جیت کی تو قطعی خواہش نہیں تھی۔
تحریک انصاف کی الیکشن میں حمایت کی تھی، ان کی حکومت کے بہت سے اقدامات سے مایوسی ہوئی ، کئی حوالوں سے تنقید بھی کرتا رہتا ہوں، مگر ابھی انہیں کچھ وقت ملنا چاہیے ، تب ہی مکمل مایوسی کا اظہار کیا جا سکتا ہے۔چیئرمین سینٹ عمران خان نے نہیں بنایا تھا، تحریک عدم اعتماد کی کامیابی بھی عمران خان کی شکست نہ ہوتی ۔
اس لئے ہم سکون سے تماشا دیکھ رہے تھے۔ اسی نتیجہ کی توقع تھی اور کچھ اطلاعات بھی ایسی موجود تھیں کہ یہی نتیجہ نکلے گا۔ نہ نکلتا تو حیرت ہوتی۔ البتہ مجھے افسوس ہوا کہ سینٹ میں یہ کھیل کھیلا گیا اور سیاستدانوں کے بھرم کونقصان پہنچا۔
یہ بات البتہ مجھے بالکل سمجھ نہیں آ رہی تھی کہ اپوزیشن نے کیا سوچ کر یہ چال چلی تھی ؟ کیا وہ حقیقت میں یہی سمجھتے تھے کہ انہیں یوں آسانی سے چیئرمین سینٹ بدل لینے دیا جائے گا اور ایک بڑی فتح ان کی جھولی میں ڈال دی جائے گی؟ منطقی اعتبار سے ایسا ہونا ممکن ہی نہیں تھا۔ ہر حکومت تحریک عدم اعتماد ناکام کرنے کی کوشش کرتی ہے، یہاں تو حکومت کے ساتھ اسٹیبلشمنٹ بھی موجود تھی۔ ایسے میں اپوزیشن کس طرح خوش فہم ہوسکتی تھی۔ میری رائے میں اپوزیشن کا اس کا نقصان ہوا۔ ان کی قوت کا بھرم بھی گیا

ایک بات جس کی ابھی تک سوشل میڈیا پر بعض لوگوں کو سمجھ نہیں آ رہی کہ اس وقت ایک طرف اپوزیشن کی جماعتوں کا اتحاد ہے ، جنہوں نے پچھلے دس سال حکومت کی اور اب ان کے قائدین پر کرپشن کے کیسز ہیں، ان کے گرد گھیرا تنگ اور سانس لینا دوبھر ہو رہا ہے ، دوسری طرف ’’ایک ہی پیج ‘‘ہے، جس پر حکمران جماعت اور اہم ریاستی ادارے ہیں۔ چیئرمین سینٹ کی تبدیلی دراصل اپوزیشن کی جانب سے ’’ایک ہی پیج ‘‘پر کاری وار تھا۔ اس میں کامیابی ان کے اعتماد کو سو گنا بڑھا دیتی، نفیساتی برتری ہوجاتی اور وزیراعظم عمران خان سمیت کئی اور لوگوں کے استعفے کا مطالبہ شروع ہوجاتا ۔ 


یہ کوئی روٹین کی سیاسی چال نہیں تھی بلکہ ایک بڑی جنگ یعنی وار کا حصہ تھا۔ ’’ایک پیج‘‘ والوں نے اس لئے اپنا تمام زور لگا کر اس چال کو ناکام بنا دیا۔ کیسے ، یہ سب کے سامنے ہے۔ اب اس میں اخلاقیات ڈھونڈنے کے بجائے یہ سوچئیے کہ آگے کیا ہوگا؟ اگلا قدم کیا ہوگا اور اب اگلا وار اپوزیشن کے بجائےدوسری جانب سے آ ئے گا تو پھر نقصان کس کا ہوگا؟ یہ سوچنے کی بات ہے۔ اس طرز سیاست میں جب پہلا وار اوچھا پڑ جائے، غنیم نہ صرف وار بچا لے بلکہ جھٹکے سے وار کرنے والے کی تلواور ہی گرا دے تو پھر کیا ہوسکتا ہے؟ اس پر غور فرمائیے؟اور اب ان میں اندرونی ٹوٹ پھوٹ بڑھے گی۔ اب مستقبل میں وہ کوئی بھی موو اعتماد سے نہیں کر پائیں گے، ہر رکن کو شک کی کیفیت سے دیکھتے رہیں گے اور اسی چکر میں مزید بے اعتباری بڑھے گی۔ 

البتہ یہ حقیقت ہے کہ ارکان سینٹ کی تبدیلی کے اس کھیل میں عمران خان کی حکومت پر ایک دھبہ لگ گیا ہے۔ ایسا دھبہ جو ان پر اس حوالے سے پہلے موجود نہیں تھا۔ سیاست اور اقتدار کی کچھ قیمت بھی ادا کرنا پڑتی ہے۔ ویسے کہتے ہیں کہ تعلقات کی بھی ایک قیمت ہوتی ہے۔ اب تو لگتا ہے کہ ایک پیج پر ہونے کی بھی کچھ قیمت ہوتی ہے، وہ دونوں پارٹنرز کو ادا کرنا پڑ رہی ہے۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here