دُنیا میڈیا گروپ سے کارکنوں کی برطرفیاں: ایجوکیشن بیٹ کے رپورٹر سجٌاد کاظمی پر بلڈ پریشر کا شدید حملہ

0
918

اور جب اخبار مالکان اور اینکرز میڈیا ورکرز کاُاستحصال شُروع کر دیں

پاکستان میں کُچھ عرصہ سے میڈیا بُحران کے نام پر میڈیا ورکرز کا زبردست استحصال جاری ہے، پیپلز پارٹی اور مُسلم لیگ ن کے ادوار میں اربوں رُوپے حکُومتی اشتہارات کی مد میں کمانے والے ادارے پی ٹی آئی حکُومت میں میڈیا ورکرز کا مُسلسل استحصال کر رہے، جو اربوں کمائے اُسکی دُوسرے پراجیکٹس میں انویسٹمینٹ کردی اور اب میڈیا ورکرز کو تنخواہیں نہیں دے پا رہے، دُنیا اخبار کے ایجوکیشن بیٹ کے رپورٹر کاظمی کو جب دو دن پہلے نوکری سے نکالا گیا تو تین معصُوم بچوں کا باپ یہ سانحہ برداشت ناں کر سکا، دماغ میں صرف یہ

چل رہا تھا کے بچوں کو کھلائے گا کہاں سے اور انہیں سوچوں میں گُم پریشان کاظمی کا فشار خُون اتنا بڑھا کے اعصاب پر قابُو ناں رکھ سکا۔

اور اب زندگی اور موت کی کشمکش میں جنرل ہسپتال میں زیر علاج ہے۔

یاد رہے چند دن پہلے جدوجہد کیلیے فاروق سُلہری نے رپورٹنگ کرتے ہوئے لکھا تھا کے

مالی بحران کے نام پر صحافیوں اور میڈیا کارکنوں کا معاشی قتل عام جاری ہے۔ اس کا تازہ شکار دنیا ٹی وی کے عامل صحافی اور میڈیا کارکن بنے ہیں۔ دنیا چینل سے ستر صحافیوں سمیت اس میڈیا گروپ کے مختلف شعبوں سے 300 کارکنوں کو بغیر کسی نوٹس کے نوکری سے نکال دیا گیا ہے۔

پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس (پی ایف یو جے) نے ان چھانٹیوں کی شدید مذمت کی ہے۔ پی ایف یو جے کا کہنا ہے کہ اس میڈیا گروپ کے مالی معاملات کی تحقیقات ہونی چاہئیں۔

پچھلے تقریباً ایک سال کے اندر ملک بھر میں چار ہزار کے لگ بھگ صحافی بے روزگار ہو چکے ہیں۔ بہت سے میڈیا اداروں میں تنخواہوں میں کٹوتی کی گئی ہے: ملازمین سے کہا گیا کہ بے روزگاری کاٹیں یا تنخواہوں میں کمی برداشت کریں۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ کبھی کسی چیختے چنگھاڑتے اینکر پرسن کی ہمت نہیں ہوئی کہ ان چھانٹیوں پر کوئی ٹاک شو کرے۔

میڈیا کارکنوں کا یہ معاشی قتل میڈیا مالکان اس بہانے سے کر رہے ہیں کہ ان کے ادارے معاشی بحران کا شکار ہیں۔ میڈیا صنعت کے معاشی بحران کا خوب شور مچایا جا رہا ہے۔ اس بات میں کتنی حقیقت ہے، اس کا اندازہ بڑے میڈیا ہاوسز کے مالی معاملات کی تحقیق سے ہی لگایا جا سکتا ہے۔ میڈیا کارکنوں کا خیال ہے کہ میڈیا کی صنعت میں بحران ضرور آیا ہے مگریہ بحران اتنا بڑانہیں ہے کہ بڑے پیمانے پر چھانٹیاں کی جائیں۔

ادہر یہ بات بھی اہم ہے کہ پی ایف یو جے اور اسکی ملحقہ تنظیمیں اس وقت تقسیم در تقسیم کا شکار ہیں۔ اس تقسیم اور یونین کے زوال کی وجہ سے میڈیا کارکن مزاحمت منظم نہیں کر پا رہے۔ میڈیا کی صنعت میں یونین سازی کے زوال کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ پورے ملک میں صرف نصف درجن اداروں میں ٹریڈ یونینز موجود ہیں۔ اس کے برعکس، 1970 ء کی دہائی میں جب میڈیا انڈسٹری آج کے مقابلے میں کہیں چھوٹی تھی، تیس سے زیادہ اداروں میں ٹریڈ یونینز موجود تھیں۔

دریں اثنا، 28 اگست کو لاہور پریس کلب میں صحافیوں اور میڈیا کارکنوں کی مختلف تنظیموں کا اجلاس ہوا۔ اجلاس میں ان چھانٹیوں کی مذمت کی گئی اور میڈیا صنعت میں جاری چھانٹیوں کے خلاف جدوجہد جاری رکھنے کا اعادہ کیا گیا۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here