حکُومت پنجاب، وزراء، میڈیا ایڈوائزر اور اصل طاقت؟

0
794

عُثمان بُذدار کامیابی سے اپنے دور کا پہلا سال مُکمل کر چُکے، حکومتی میڈیا ایڈوائزرز اپنے تئیں جو دفاع کر رہے وہ اپوزیشن کیلیے تو ٹھیک لیکن پنجاب میں عام آدمی کو بھی پتا کے عُثمان بُذدار کی ڈوریاں کس کس کے ہاتھ میں ہیں، عوام کو شہباز شریف کی صُورت میں ایک ایسا وزیر اعلی ملا ہُوا تھا جو ہر کام کا کریڈٹ خُود لیتے تھے اسلیے لوگوں کو پنجاب حکُومت کے وزرا کے ناموں تک کاُپتا نہیں تھا۔ سوائے رانا ثنااللہ یا محمد احمد خان کے، لیکن عُثمان بُذدار شاید وزراء کو فری ہینڈ دیے ہوئے ہیں اسلیے راجہ بشارت، یاسمین راشد، اسلم اقبال، مُراد راس، سمیع چوھدری، میاں محمود الرشید اور فیاض چوہان کے ناموں سے سارے واقف ہیں،

شہباز گل میڈیا ایڈوائزر ہیں لیکن وزیر اعلی سے زیادہ مضبُوط ہیں، میڈیا اور اپوزیشن ہمیشہ اُنکے ہدف پر رہے ہیں، اپنی پوزیشن کا استعمال بڑے اچھے طریقے سے کر رہے ہیں، اسلیے ہمیشہ تنقید کی زد میں بھی رہتے ہیں۔ اینکرز کیساتھ اُنکا میچ ہمیشہ ٹی ٹوئنٹی کیطرح سنسنی خیز ہی رہا ہے۔ میرے میزبان سے غریدہ فاروقی تک سب کو اُنھوں نے ناکوں چنے چبوائے، اسی لیے وہ خان کی گُڈ بُکس میں ہیں،

بات ہو رہی تھی شہباز شریف اور عُثمان بُذدار کی، تو جہاں شہباز شریف اپنے وزراء کو خاطر میں نہیں لاتے تھے اسی طرح پنجاب کے وزراء عُثمان بُذدار کو خاطر میں نہیں لاتے، سال کی کوئی ایک فوٹیج دکھا دیں جسمیں ڈاکٹر یاسمین راشد، مُراد راس، میاں محمود الرشید، راجہ بشارت یا اسلم اقبال وزیر اعلی سے فیتے کٹوا رہے ہوں اور اُنکے پیچھے پیچھے چل رہے ہوں، ہوتا یہ ہے کے اس چیز کی نوبت ہی نہیں آتی، یہ تمام وزراء اپنی ذات میں ایک مُکمل وزیر اعلی ہیں، لہذا عُثمان بُذدار کو لفٹ ناں کروانا ایک قُدرتی عمل ہے۔
پچھلے چند دنوں میں پی ٹی آئی کے مُختلف ورکرز سے مُلاقات ہوئی اور اُنکا موقف بھی یہی تھا جو میڈیا کے لوگوں یا پنجاب میں بسنے والے سیاسی سُوجھ بُوجھ رکھنے وآلی عوآم کا بھی ہے۔
کے پنجاب کی وزارت اعلی صرف وزیر اعلی ہاؤس سے نہیں بلکہ طاقت کے مُختلف مراکز سے چل رہی ہے۔

گورنر پنجاب چوھدری سرور گورنر ہاؤس میں رونق لگائے رکھتے ہیں، اُنکے دھڑے کے لوگ وزیر اعلی سے زیادہ اُن پر اعتماد کرتے ہیں، جتنے فنکشنز گورنر پنجاب گورنر ہاؤس میں کر چُکے، اُس سے تو یہی لگتا ہے کے چوھدری سرور ہی اصل وزیر اعلی ہیں، یا کہہ لیں کے وہ اعزازی وزیر اعلی ہیں۔ پھر سپیکر پنجاب اسمبلی چوھدری پرویز الہی اور مُسلم لیگ پنجاب کا اپنا مضبُوط دھڑا ہے، جو پنجاب ہاؤس سے زیادہ اپنے کام بنی گالہ سے نکلواتے ہیں،

ڈاکٹر یاسمین راشد اور میاں محمود الرشید اتنے مضبُوط وزیر ہیں کے کارکُنان کو بھی گھاس نہیں ڈالتے، صرف اپنے قریبی حلقوں تک محدُود، کوئی شکایت تک سُننے کے روادار نہیں، پنجاب کی سیاست کرنے کی بجائے اپنے باس عُثمان بُذدار کیطرح لاھور تک محدُود، پنجاب کے چھتیس اضلاح کا کوئی والی وارث نہیں سوائے ضلع ڈیرہ غازی خان کے۔

مُراد راس وزیر تعلیم ایک گھاک قسم کے وزیر، تعلیم کے محکمے میں کوئی انقلابی تبدیلیاں نہیں لاُسکے، تقریریں کرنے میں ماہر، کوئی ایک پراجیکٹ ایسا ہو جسکی مثال دی جا سکے،
کوئی دانش سکُول جیسا پراجیکٹ ہی لانچ کر دیتے، پرائیویٹ سکُولوں کی مارا ماری سے عوام کو بچا سکتے تھے، کیونکہ پرائیویٹ سکُولوں نے فیسیں پھر بڑھا دی ہیں اور لوگ ثاقب نثار صاحب کو پھر سے یاد کرنے لگے ہیں۔

کارکُنان کا کہنا ہے کے ایک سال گُزر جانے کے باوجود ضلعی سطح پر امن کمیٹیاں، زکوٰة و عُشر کمیٹیاں و پرائس کنٹرول کمیٹیاں ابھی تک نہیں بن سکیں، عوام اپنے مسائل کے حل کیلیے کس سے داد رسی کریں؟ ضلعوں میں پنجاب کے اعلی عہدیدار اور وزراء آتے ہیں تو بھی لوکل ضلعی کمیٹیوں کو آگاہ نہیں کیا جاتا۔

پچھلے دنوں پی ٹی آئی پنجاب کے صدر اعجاز چوھدری اور میڈیا ایڈوائزر قصُور ضلع کے دورہ پر گئے تو لوکل قیادت اس سے لا علم رہی، صرف میڈیا کے ذریعے ہی اُنھیں اُسکی اطلاع ملی۔

کارکُنان کا مزید کہنا تھا کے ایک سال میں ضلعی سطحوں پر پنجاب حکُومت نے کوئی ایسے کام نہیں کیے کے جن پر ہم کوئی کیک کاٹتے یا خُوشیاں مناتے بلکہ ہمارے پاس عوام کی سوالات کے جواب بھی نہیں ہیں۔

لیکن ہمیں اُمید ہے کے حکُومت کا دوسرا سال بھر پُور ہو گا اور عوام کیلیے ریلیف کیساتھ ساتھ ایسے پراجیکٹس بھی شُروع کیے جائینگے جو عوام کی خُوشحالی کا سبب بنے۔

پھر جہانگیر ترین بھی بعض چیزیں اپنے طریقے سے کر رہے، جسکا عُثمان بُذدار کو پتا بھی نہیں چلتا،
لوگوں کا کہنا ہے کے یہ تمام وہ فیکٹرز ہیں جو عُثمان بُذدار کو چلنے نہیں دے رہے، لیکن شاید عُثمان بُذدار کے پس ماندہ بیک گراؤنڈ کیوجہ سے چیزوں کو اُتنا ہی سمجھ رہے جتنی اُنکی صلاحیت ہے۔ لہذا ان تمام باتوں کا عُثمان بُذدار کو ذمہ دار قرار دینا مُناسب نہیں۔ عمران خان کا فیصلہ اگر عُثمان بُذدار کے حق میں ہے تو ہماری سمجھ سے تو بالا تر، اور اگر وہ یہ سمجھ رہے کے وہ اس فیصلے ہر یُو ٹرن نہیں لینگے تو یہ بڑی غلطی کیونکہ اکثر مواقع پر وہ قوم کی بہتری کی خاطر یُو ٹرن لے چُکے۔

ابھی ایک سال گُذرا ہے اور چار سال باقی ہیں، پنجاب واحد صُوبہ ہے جہاں اگر کامیابی ملے تو پاکستان اور مرکز کی کامیابی ہوتی ہے، لیکن اگر پنجاب ڈیلیور ناں کر پایا تو وفاقی حکومت کی ناکامی نوشتہ دیوار

لہذا عمران خان کو پارٹی اور مُلک کے وسیع تر مُفاد میں پنجاب کے وزیر اعلی کے حوالے سے نظر ثانی کرنی ہوگی، اس سے پہلے کے پی ٹی آئی کے لوگ بھی خادم اعلی پنجاب کی مثالیں دینا شُروع کر دیں

Written by: Imran Malik

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here