جنگ کے سینیئر صحافی سُہیل وڑائچ،بول کے فیصل عزیز خان اور اے آر وائی کے وسیم بادامی، شیخ رشید بھی لندن میں انیل مُسرت کے مہمان: کیا یہ کھُلا تضاد نہیں؟

0
794

اپنے آرٹیکلز اور اپنے ٹی وی پروگرامز کے زریعے اخلاقیات کا درس دینے اور حکُومتی خرچوں پر تنقید کے تیر برسانے والے سُہیل وڑائچ آجکل خُود بھی لندن یاترا پر ہیں، اُنکے ساتھ بول نیوز کے فیصل عزیز خان اور ‘معصُوم’ وسیم بادامی بھی ہیں، اور دونوں صحافی ارب پتی پاکستانی تاجر انیل مُسرت جو ہمیشہ تنقید کی زد میں رہتے ہیں کی مہمان نوازی سے لُطف اندوز ہو رہے ہیں، چند دن پہلے شیخ رشید کی مہمان نوازی کرنے پر وہ سوشل میڈیا پر تنقید کی ضد میں رہے، سب سے زیادہ تنقید جنگ اور جیو لندن کے نامہ نگار مُرتضی علی شاہ نے کی، اُنھوں نے شیخ رشید کی شاپنگ کرتے ہوئے ویڈیو بھی شیئر کی، عوام کو انتظار ہے کے کیا وہ اپنے پیٹی بھائی سُہیل وڑائچ کی بھی تصاویر شیئر کرینگے؟ کیا وہ سہُہیل وڑائچ اور فیصل عزیز خان سے سوال پُوچھنے کی جسارت کرینگے کے وہ کس کے خرچے پر انگلینڈ گئے ہیں؟ اُنکے قیام و طُعام کی ذمہ داری کس کے ذمے ہیں؟ اور انیل مُسرت سے انعام کی مد میں اُنھیں کیا ملا ہے؟ یاد رہے کے ورلڈ کپ کے میچز کے دوران بھی سوشل میڈیا پر یہ بات پھیلائی گئی کے آرمی چیف اور ڈی جی آئی ایس پی آر کو بھی انیل مُسرت کی مہمان نوازی کا لُطف اُٹھانے کا موقع ملا تھا، جسکی شاید تردید بھی ناں ہوئی۔
ہمارے میڈیا کے ‘کُچھ’ اینکرز کے بارے میں مشہور ہے کے وہ غیر مُلکی دوروں میں جیب سے ایک پیسہ بھی نہیں لگاتے اور پاکستانی اوورسیز کی جیبوں پر ہی ہاتھ صاف کرتے ہیں۔


سُہیل وڑائچ وسیم بادامی، شیخ رشید اور فیصل عزیز خان کو بھی بتانا ہو گا کے اُنکا کا کتنا خرچہ ہو رہا؟ اور کون اُٹھا رہا؟ اوورسیز پاکستانیوں کیلیے اتنا ہی کافی ہوتا ہے کے وہ ان اینکرز کیساتھ تصویریں کھچوا لیتے ہیں اور پھر دوستوں میں اپنا رُعب و دبدبہ بنائے رکھتے ہیں، کینیڈا میں مُقیم ایک پاکستانی نے نام ناں شائع کرنے کی شرط ہر بتایا کے پاکستانی اینکرز کو کمیونٹی سے خطاب کا پے بھی کیا جاتا ہے، کھانا کھانے سے شاپنگ تک اور رہائش کے تمام خرچے بھی ہم ہی اُٹھاتے ہیں۔

سُہیل وڑائچ گاہے بگاہے لندن، مجیب الرحمن شامی یو ایس اے اور کینیڈا اور جاوید چوھدری بھی یو ایس اے باقاعدگی کیساتھ جاتے رہتے ہیں۔

سوال یہ نہیں کے صحافی حضرات ایسا کیوں کرتے ہیں، بلکہ سوال یہ کے جب تمام سٹیک ہولڈرز ہی اس گنگا سے ہاتھ دھو رہے تو پھر میڈیا پر سیاستدان پر ہی تنقید کیوں؟ میڈیا ہی واعظ کیوں؟ مسئلہ میڈیا کا کم اور زیادہ ہماری اشرافیہ کا ہے، چاہے وہ میڈیا میں ہوں، سیاست میں، بیوروکریسی میں یا فورسز میں، کیونکہ سب کے مفادات ایک، اور جب انیل مُسرت کی سرکار میں پہنچتے ہیں تو سب ایک ہو جاتے ہیں۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here