الیکٹرانک میڈیا اور سوشل میڈیا دونوں نے سربازار پگڑیاں اچھالنی شروع کر دیں – مُجاھد خٹک کی فکرانگیز تحریر

0
127

پہلے لوگوں کی پگڑیاں اچھالنے پر الیکٹرانک میڈیا کی اجارہ داری تھی پھر سوشل میڈیا میدان میں آیا اور دیکھتے ہی دیکھتے یہ اجارہ داری ختم ہو گئی اور دونوں نے سربازار پگڑیاں اچھالنی شروع کر دیں۔

اپنی اجارہ داری کا خاتمہ کسی کو پسند نہیں چنانچہ ان دونوں طبقوں کے درمیان اکثر و بیشتر جنگ چھڑی رہتی ہے۔ الیکٹرانک میڈیا کے لوگ چاہتے ہیں کہ وہ جب چاہیں لوگوں کی ماں بہن ایک کر دیں لیکن ان کے بارے میں کوئی حرف تنقید بلند نہ ہو۔ سوشل میڈیا میں چونکہ پکڑے جانے کا خوف نہیں ہوتا اس لیے وہاں بغیر کسی خوف کے اخلاقیات کی دھجیاں اڑائی جاتی ہیں۔ اس کی زد میں جب، بقول نصرت جاوید صاحب، سرخی پوؤڈر لگا کر سکرین پہ نمودار ہونے والی پاکستان کی نئی نویلی اشرافیہ آتی ہے تو اس کے بین دل دہلا دیتے ہیں۔ حالانکہ چند قابل احترام اور سینیئر صحافیوں کو چھوڑ کر باقی پیراٹروپر دن رات یہی کام کر رہے ہوتے ہیں۔

الیکٹرانک میڈیا پر چونکہ پیمرا اور عوام کا دباؤ ہوتا ہے اس لیے وہ تھوڑا مہذب انداز سے پگڑیاں اچھالتے ہیں۔ سوشل میڈیا پر کوئی چیک اینڈ بیلنس نہیں اس لیے یہاں یہ کام بہت کھردرے انداز میں کیا جاتا ہے۔ اپنی اصل میں دونوں ایک جیسے مجرم ہیں۔

اس کا حل یہ نہیں کہ سوشل میڈیا کو بند کر دیا جائے۔ اصل کام قانون کی بالاتری قائم رکھنا ہے اور اس کا اطلاق الیکٹرانک اور سوشل میڈیا پر کیا جائے۔ جو اینکر یا چینل کسی کے خلاف بغیر ثبوت کے الزام لگائے اسے اتنا بڑا ہرجانہ دینا پڑے کہ اگلی بار وہ سوچ سمجھ کر بات کرے۔ اسی طرح جو سوشل میڈیا پر گالی دے اسے بھی قانون کے مطابق سزا دی جائے۔

الیکٹرانک میڈیا پر جس طرح عام آدمی سے لے کر سیاست دانوں کے بارے میں بات ہوتی ہے اس کے بعد ان کی سوشل میڈیا سے شکایت بہت مضحکہ خیز بات نظر آتی ہے۔ رپورٹرز جہاں چاہیں گھس جاتے ہیں، پیچھے پیچھے چلتے ہوئے آوازے کسنے والے بازاری لونڈوں کی طرح مائیک اور کیمرے کے نشے میں جگہ جگہ گھومتے نظر آتے ہیں۔ بہت سے مارننگ شو والے، بعض ٹاک شوز کے اینکر، دہائی دینے والے انداز میں چیخ چیخ کر خبریں پڑھنے والے نیوز کاسٹر اور ایک تھپڑ کو دس تھپڑ بنا دینے والے کاریگر۔۔۔ یہ سب اپنی روزی روٹی کے چکر میں لوگوں کی عزتیں اچھال کر محترم کہلانے پر مصر ہیں اور جب سوشل میڈیا کے ذریعے مکافات عمل شروع ہوتا ہے تو دنیا کی سب سے مظلوم ردھالیاں بن جاتے ہیں۔ یہ بہت بڑی منافقت ہے۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here