پروگرامنگ کی طاقت: پیپسی بیٹل آف دی بینڈ کو مُسلط کر دیا گیا، جبکہ پاکستان سٹار کیلیے رات گئے انتظار کیوں؟

0
1826

کہتے ہیں اچھا کونٹینٹ کسی بجٹ کا مُحتاج نہیں ہوتا، اگر ناظر کو پتا چل جائے کے پروگرام میں دم ہے تو وہ دن اور ٹائمنگ ہمیشہ یاد رکھتا ہے، آجکل گرمیوں کی چھُٹیاں چل رہی ہیں اور رات کو اکثر ٹی وی پر کسی اچھے پروگرام کی تلاش رہتی ہے، پاکستان میں میوزک کو ایک خاص اہمیت حاصل ہے، ایک وقت تھا لوگ میوزیکل پروگرامز کا ہفتہ بھر انتظار کرتے تھے، کہیں میوزک چینل چاڑٹ چل رہا ہوتا تھا تو کہیں میوزک جنکشن۔ پھر انڈس میوزک نے کافی عرصہ تک ناظرین ہر اپنی دھاک بٹھائی رکھی۔

ایم ٹی وی پاکستان نے بھی کافی عرصہ لوگوں کے دلوں پر راج کیا، پھر پوپ میوزک پر بُرا وقت آیا، کوک اسٹوڈیو نے فیوژن میوزک لانچ کیا اور پاکستان میں میوزک سُننے کے ٹرینڈز بدل گئے،

چند سالوں تک کوک اسٹوڈیو نے لوگوں کو گرویدہ کیے رکھا، پھر راحیل چھوڑ گئے اور کوک اسٹوڈیو کی باگ دوڑ اسٹرنگز کے ہاتھ میں آگئی، وہ چند ہی سیزن کامیابی سے کر سکے اور پھر نُوری بینڈ کیساتھ تجربہ کرنیکی کوشش کی جو بُری طرح بیک فائر کر گیا۔ اسی دوران جب کوک اسٹوڈیو اپنی مقبُولیت کھو رہا تھا تو پیپسی نے بیٹل آف دی بینڈ لانچ کیا اور پزیرائی بھی حاصل کی، سیزن ون کے آخرُمیں لوگوں کو اس کا پتا چلا اور پھر سیزن ٹو کو لوگوں نے توجہ سے دیکھا۔ بعد میں یہ بھی یکسانیت کا شکار ہو چُکا اور اپنی مقبُولیت کھو رہا۔ کوک سٹوڈیو نے میڈیا میں ایک ایسی روایت ڈالی جو ناظرین کو شُروع میں تو اچھی لگی لیکن بعد میں ایسا لگا کے جیسے اُنھیں زبردستی پروگرام دکھائے جا رہے ہیں۔ میڈیا ایجنسی تقریباً بیس چینلز پر مُختلف ٹائم بینڈ خریدتی اور پروگرام چلائے جاتے، بلا شُبہ یہ ایک بہت بڑی انویسٹمینٹ تھی جسکی دال بیل تو کُوک نے رکھی اور پھر اس کو فالو پیپسی نے کیا۔

کُوک اسٹوڈیو کے لاسٹ سیزن کی ناکامی کیبعد اب پھر راحیل حیات کو سائن کیا گیا ہے کے پھر وہ کوک اسٹوڈیو میں کوئی رُوح پھونک سکیں، سوال یہ کے تمام تجربات کرنیکے بعد اب وہ کیا نیا کر سکتے ہیں، کوک کو چاہیے تھا کے وہ چند سال میوزک سے بریک لیتے اور جب لوگوں کا پیپسی بیٹل آف دی بینڈ سے دل بھر جاتا تو دُوبارہ کُوک سٹوڈیو شُروع کرتے۔ لیکن مُقابلے کی اس دوڑ میں پیپسی کو کُھلا میدان نہیں دیا جا سکتا تھا۔ لہذا کوک اسٹوڈیو کے سیزن 12 پر کام جاری ہے۔ پیپسی بیٹل آف دی بینڈ سیزن فور ابھی تک ناظرین میں کوئی جادو نہیں جگا سکا۔ اسطرح لگتا ہے کے پیپسی کی کوشش کے آپ کو زبردستی گانے سُنائیں جائیں، ہو یہ رہا ہے کے لوگ چینل فورا بدل لیتے ہیں یا پھر کوئی مووی دیکھ لینگے، سیزن ٹو تک تو لوگوں نے دوبارہ بینڈز کو سُننا شُروع کر دیا لیکن سیزن تھری اور سیزن فور کیبعد تو لگ رہا کے لوگ تھک چُکے اُنھیں کُچھ اچھا دیکھنے کو چاہیے۔

نیس کیفے بیسمینٹ نے بھی اپنی تئیں کوشش کی لیکن وہ بھی ایک مخصُوص ریٹنگز ہی حاصل کر سکی، گانوں کو ری کریٹ کرنا اب کوئی مسئلہ نہیں رہا، کُچھ نیا کریٹ کرنیکی کوئی کوشش نہیں کرتا۔

مشہور کمپوزر زُلفی نے کوشش تو اچھی کی لیکن تسلسل برقرار ناں رکھ سکے اور کوک اسٹوڈیو کے سامنے مُقابلے پر ناں ٹھر سکا۔ کوک اسٹوڈیو اور نیس کیفے بیسمینٹ میں وہی پُرانے گانوں کو ری کریئیٹ کیا جا رہا ہے اور پیپسی بیٹل آف دا بینڈ بھی اسی ڈگر پر چل رہا۔ پُرانے بینڈز اور ہٹ فلمی گانوں کو دوبارہ سے بنایا جا رہا اور مسئلہ اب یہ کے ایک دفعہ گانا دیکھنے یا سُننے کیبعد دُوبارہ آپکا ناں تو سُننے کو دل کرتا ہے اور ناں ہی دیکھنے کو، لیکن دُوسری طرف عاطف اسلم اور اریجیت کے نئے بالی ووڈ گانوں کی ڈیمانڈ دن بدن بڑھتی جا رہی۔

اسی دوران چند ہفتے پہلے چینل سرفنگ کے دوران بول ٹی وی کے پروگرام پاکستان سٹار دیکھنے کا موقع ملا اور دو گھنٹے تک چینل ناں بدل سکے، میرے ساتھ بچوں کو بھی وہ بہت پسند آیا، اب روزانہ پروگرام کا انتظار ہوتا ہے اور اگر ریگولر ناں دیکھ سکیں تو ریپیٹ دیکھتے ہیں۔ آجکل آڈیشنز جاری ہیں، ججز میں جاوید شیخ، حمزہ علی عباسی اور کُبری خان شامل ہیں، اور وینا ملک بھی شُرکا کے درمیان موجود ہوتی ہیں۔ بلا شُبہ بول ٹی وی کے اس پروگرام میں اتنا دم ہے کے آپ چند گھنٹے آرام سے گُزار سکتے ہیں۔

پس ثابت ہوا اچھے کونٹینٹ کیلیے quantity نہیں کوالٹی بہت ضروری، ایک چینل بیس چینلز پر بھی بھاری ہو سکتا ہے۔ ملٹی نیشنلز کو چاہیے کے اتنی بڑی انویسٹمینٹ سے پہلے اگر وہ کُچھ ریسرچ کر لیا کریں تو عوام کیساتھ ساتھ برانڈ کا بھی بھلا ہوُسکتا ہے۔

By: Imran Malik (Blogger)

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here