حامد میر کا غصہ، اور عُجلت میں بیانات کہیں کسی گرفتاری کا پیش خیمہ تو نہیں؟ بلاگر ملیحہ ہاشمی کا موقف

0
1772

آجکل سوشل میڈیا پر حامد میر کی عمران خان اُنکی حکُومت اور اسٹیبلشمینٹ کو دھمکیوں پر ہر کوئی پریشان، آخر ایسا کیا ہوا کے حامد میر کا غُصہ قابو سے باہر جا رہا، چند دن پہلے ہم نیوز کے پروگرام میں مُحّمد مالک کے پروگرام میں بھی وہ بُہت جذباتی دکھائی دیے، ہر سوال کے جواب میں گھُما کر رانا ثنااللہ کی گرفتاری بیچ میں لے آتے اور حکُومت کو بار بارُآڑے ہاتھوں لیتے رہے۔ مُحّمد مالک اور کاشف عباسی نے اُنھیں ٹھنڈا کرنے کی کوشش بھی بار آور ثابت ناں ہوئی، میرے ساتھ بیٹھے انکل جو حامد میر کے بڑے مداح ہیں حامد میر کے رویے پر کہہ رہے تھے کے دال میں کُچھ کالا ضرُور ہے، حامد میر مُجھے نارمل نہیں لگ رہا، اور کہا کے پلیز چینل بدل دو مُجھ سے حامد میر کا رانا ثنااللہ پرُبیانیہ برداشت نہیں ہو رہا۔

اگلے ہی دن مشہور بلاگر ملیحہ ہاشمی اور صدیق جان نے اسی پروگرام میں حامد میر کے بیانیہ کا تیا پانچا کیا اور اُنکے بیانیہ کو جھُوٹ کا پلندہ قرار دیا۔

اس ویڈیو بلاگ کو سوشل میڈیا پر بُہت پذیرائی ملی، اور اسکے جواب میں حامد میر نے شدید غصے میں ویڈیو بلاگر ملیحہ ہاشمی کیخلاف غیر اخلاقی زُبان استعمال کی اور اُنھیں ایک “بے شرم عورت” قرار دیدیا، بلاشُبہ حامد میر ایک بڑا نام لیکن جس زُبان میں اُنھوں نے بلاگرز پر تنقید کی وہ سمجھ سے بالا اورایک سنیر صحافی حامد میر جیسے اینکر کو بالکُل زیب نہیں دیتا، ہم کئی دہائیوں سے اُنھیں اینکرز کے مُنہ سے “آزادی اظہار” اور “جیو اور جینے دو” سُنتے چلے آ رہے ہیں لیکن اگر اُنھیں یہ برداشت نہیں کے کوئی بلاگر اُنکو سوال کرے، اُنکے خیالات کو چیلنج کرے یا اُنکے بیانات کا پوسٹ مارٹم ہو، وہ عقل کُل ہیں لہذا اُنھیں کوئی چیلنج نہیں کر سکتا۔
:آئیے آپکو دونوں ویڈیو دکھاتے ہیں تاکہ آپ خُود اندازہ کر سکیں کے کون کھڑا کون کھوٹا، کون سچا کون جھُوٹا

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here