ارب پتی بھارتی بزنس مین جس نے اسٹاربکس کو بھی پچھاڑ دیا کی ’خود کشی‘، وجہ حیران کُن؟

0
620

بھارت میں کافی شاپس کی ایک بہت بڑی چین کے مالک اور ارب پتی بزنس مین وی جی سدھارتھ کی لاش مل گئی ہے۔ پولیس کے مطابق ان کی لاش جنوبی بھارت میں ایک دریا سے ملی

بھارت میں کیفے کافی ڈے چین نے اسٹاربکس کافی کو شکست دے کر بھارت میں سب سے بڑا نیٹ ورک قائم کیا تھا۔ سدھارتھ اس چین کے مالک تھے۔ انہیں پیر کے روز آخری بار منگالورو کے علاقے میں دیکھا گیا تھا، جب کہ اس کے بعد سے وہ لاپتہ تھے۔ ان کی تلاش کے لیے مقامی حکام نے ایک بڑا سرچ آپریشن شروع کیا تھا۔ بتایا گیا ہے کہ سدھارتھ کی لاش ایک مقامی ماہی گیر کو ایک دریا کے کنارے سے ملی۔

جنوبی کرناٹک کی پولیس کے ڈپٹی کمشنر نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا کہ وی جی سدھارتھ کی لاش آج بدھ کی علی الصبح ملی، ”ہم نے لاش کو پوسٹ مارٹم کے لیے بھیج دیا ہے اور نتائج کے منتظر ہیں۔‘‘

پولیس کے مطابق پوسٹ مارٹم کے بعد سدھارتھ کی لاش کو ان کے ورثاء کے حوالے کر دیا جائے گا۔ منگالورو کے پولیس کمشنر کا کہنا ہے کہ پوسٹ مارٹم کے ذریعے یہ جانچنے کی کوشش کی جا رہی ہے کہ آیا سدھارتھ نے خود اپنی جان لی۔ مختلف ذرائع کے مطابق آثار بظاہر خود کشی ہی کا پتہ دیتے ہیں۔

واضح رہے کہ سدھارتھ کا خاندان گزشتہ ایک سو تیس برس سے کافی کے کاروبار سے منسلک ہے، جب کہ انہوں نے سن 1996 میں کیفے کافی ڈے کے نام سے اپنی کافی شاپس کا ایک سلسلہ شروع کیا تھا۔ بعد میں وہ کافی کے کاروبار کے حوالے سے دنیا کے اہم ترین افراد میں شمار ہونے لگے تھے۔

کیفے کافی ڈے کے سترہ سو اسٹورز ہیں، جو بھارت کے علاوہ ملائشیا، مصر، چیک جمہوریہ اور آسٹریا میں بھی قائم ہیں۔ ان کافی شاپس میں مجموعی طور پر تیس ہزار افراد کام کرتے ہیں۔

پولیس کے مطابق سدھارتھ پیر کے روز بنگالورو سے نکلے تھے، جب کہ انہوں نے اپنے اہل خانہ کو بتایا تھا کہ وہ ایک پہاڑی ریزورٹ کی طرف جا رہے تھے۔ تاہم اپنے ڈرائیور سے انہوں نے کہا کہ انہیں منگالورو لے جائے۔ پولیس کے مطابق انہوں نے ایک پل پر پہنچ کر ڈرائیور سے گاڑی روکنے کو کہا اور پھر گاڑی سے باہر نکل کر وہ ٹیلی فون پر کسی سے گفت گو کرنے لگے تھے، جب کہ اس کے بعد وہ لاپتہ ہو گئے تھے۔

یہ بات اہم ہے کہ وی جی سدھارتھ کا کاروبار حکومت کی جانب سے سن 2017 میں ٹیکس امور سے متعلق چھان بین کی وجہ سے شدید دباؤ کا شکار ہو گیا تھا، جب کہ کہا جا رہا ہے کہ سدھارتھ اپنے کاروبار کے بڑے حصص کوکاکولا کمپنی کو فروخت کرنے سے متعلق بات چیت میں بھی مصروف تھے۔

کیفے کافی ڈے کے بورڈ کے نام اپنے ایک خط میں سدھارتھ نے یہ بھی تسلیم کیا تھا کہ انہوں نے مالیاتی امور سے متعلق کئی غلطیاں کی تھیں۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here