پاکستان چیمپینز ٹرافی سیمی فائینل میں انگلینڈ کو عبرتناک شکست دے چُکا، آج ہلکا نہیں لیں گے: انگلینڈ کپتان

0
745

پاکستان چیمپینز ٹرافی سیمی فائینل میں انگلینڈ کو عبرتناک شکست دے چُکا، ہلکا نہیں لیں گے: انگلینڈ کپتان
آج پاکستان اور انگلینڈ ایک تاریخی میچ میں آمنے سامنے ہونگے، انگلینڈ پہلے ہی فیورٹ ساؤتھ افریقہ کو شکست دے چُکا اور ہوم گراؤنڈ کا ایڈوانٹیج بھی انگلینڈ کے پاس، دُوسری طرف پاکستانی ٹیم زخمی شیر کیطرح لڑنے کیلیے تیار، ویسٹ انڈیز سے بد ترین شکست کیبعد پاکستان کیلیے مارو یا مر جاؤ والی صُورتحال ہے-
اگر پاکستان اور انگلینڈ کے درمیان کھیلے گئے میچوں پر نظر دوڑائی جائے تو پاکستان پچھلے گیارہ میچوں میں انگلینڈ سے شکست کھا چُکا، اور حالیہ  پاک انگلینڈ سیریز میں تو پاکستان پانچ میں سے ایک میچ بھی نہیں جیت سکا۔
انگلینڈ اس لحاظ سے ایک مضبُوط اُمیدوار ہے لیکن پاکستان کی تاریخ دیکھتے ہوئے کُچھ بھی کہنا قبل از وقت ہو گا۔ کیونکہ اس سے پہلے بھی پاکستان انگلینڈ کے بڑے خوابوں کو چکنا چُور کر چُکا۔ پہلے 1992 کے ورلڈ کپ فائنل میں پاکستان کی کمزور ٹیم نے انگلش سُورماؤں کو شکست دی، اور پھر 2015 میں چیمپینز ٹرافی کے سیمی فائنل میں بھی مضبُوط انگلش ٹیم کو پاکستان نے ناک آؤٹ کیا۔ انٹرنیشنل ٹورنامنٹ میں انگلینڈ نے پاکستان کوُصرف 2003 میں شکست دی جب جیمز اینڈرسن نے پاکستانی بیٹنگ کے پرخچے اُڑا دیے۔

پاکستانی ٹیم کاُمورال ویسٹ انڈیز سے شکست کیبعد کافی ڈاؤن ہے، جس پچ پر میچ ہو رہا ہے یہاں 481 رنز بھی بن چُکے اور انگلینڈ نے پاکستان کیخلاف 444 بھی بنائے۔ اب انگلینڈ کی اوپننگ جوڑی کو اگر پاکستانی باؤلرز جلد آؤٹ کر لیتے ہیں تو پاکستان ٹورنامنٹ میں واپس آ سکتا ہے، لیکن محمد عامر کی فٹنس اور حسن علی کی اچھی کارکردگی پاکستان کیلیے بہت ضروری، شاداب خان کو بھی اپنا میجک دکھانا ہو گا۔ بیٹنگ میں امام الحق کو اپنی پرفارمنس میں بہتری لانی ہو گئ، فخر زمان کو بھی ذمہ دارانہ اننگز کھیلنی ہو گی، پاکستان کا اوپننگ سٹارٹ ہی اسکی صحیح راہ متعین کریگا۔ شُعیب ملک اور محمد حفیظ کا اپنا آخری ورلڈکپ یادگار بنانا ہو گا۔

آصف علی پاکستان کیلیے ایک ٹرمپ کارڈ ثابت ہو سکتے ہیں۔ سرفراز احمد کو ثابت کرنا ہو گا کے وہ ایک بُلند پائے کے کپتان ہیں۔

انگلش کپتان کا کہنا تھا کے ہم نے پاکستان کیخلاف پوری تیاری کی ہے، اُنکی ویسٹ انڈیز کیخلاف شکست کو نظر انداز کر رہے ہیں کیونکہ پاکستان واحد ٹیم جوُکسی بھی وقت میچ کاُپانسہ پلٹنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔
اُنھوں نے مزید کہا کے ہماری باؤلنگ لائن اپ میں ٹاپ فاسٹ باؤلرز کے علاوہ سپن باؤلنگ کے جادوگر بھی موجود ہیں۔ پچ دیکھ کر فیصلہ کرینگے کے کس کھلاڑی کو فائنل الیون کیلیے مُنتخب کرنا ہے۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here