خان صاحب عوام اب آپ سے اپنے مسائل کا حل چاہتے ہیں۔ عوام جانتے ہیں کہ شریف اور زرداریوں نے بہت لوٹا ہے، کسی کو یاد نہیں رہتا کہ آپ نے اقتدار کیوں لیا تھا‘ لیکن سب کو یاد رہتا ہے کہ آپ نے اقتدار میں ہوتے ہوئے کیا کیا؟

0
345

 آصف زرداری پر بننے والی جے آئی ٹی کے چوبیس والیمز پڑھیں تو حیران ہوں کہ واقعی اس ملک کو اس بے دردی سے لوٹا گیا ہے۔
نواز شریف خاندان پر جو جے آئی ٹی بنی تھی وہ صرف دس والیمز پر ختم ہو گئی تھی تو زرداری صاحب کی جے آئی ٹی پچیس والیمز تک جا پہنچی۔ اگر زرداری اور شریفوں جیسی جے آئی ٹی گجرات کے چوہدریوں پر بنا دیں تو یقین کریں شاید چالیس والیمز تک بات جا پہنچے اور ایسے ایسے کارنامے سامنے آئیں کہ لوگ زرداری اور شریفوں کو بھول جائیں۔ شریف، زرداری اور چوہدری وہ تین بڑے کاروباری اور سیاسی خاندان ہیں جو پچھلے تیس چالیس سال سے اس ملک کی باگیں سنبھالے ہوئے ہیں۔ اب ان کے بچے اور نواسے‘ پوتے اس ملک کو وہیں سے لوٹنے کے لیے تیار ہو چکے ہیں‘ جہاں ان کے بزرگ چھوڑ گئے ہیں۔

سوال یہ ہے کہ کیا عمران خان صاحب کی رات گئے ایسی تقریریں اس ملک کی قسمت بدل سکتی ہیں؟ میرے خیال میں قسمت بدلی جا سکتی تھی‘ لیکن اب شاید اتنا آسان کام نہیں رہا۔ عمران خان اپنے سیاسی مخالفوں کے لیے اس وقت تک بہت خطرناک تھے جب تک وہ اعلیٰ اخلاقی بنیادوں پر سیاست کر رہے تھے۔ مخالف ایسے عمران خان سے خوفزدہ تھے جو ان سے بہتر ساکھ کا حامل تھا۔ لوگوں کو یہ یقین تھا کہ جو کچھ عمران خان انہیں بائیس سال سے بتا رہے تھے اور جو وعدے کر رہے ہیں وہ پورے کریں گے۔ وہ کوئی کمپرومائز نہیں کریں گے۔ وہ اقتدار کو لات مار دیں گے‘ لیکن ایسا اقتدار نہیں لیں گے جہاں انہیں اپنے تمام نظریات اور وعدوں پر کمپرومائز کرنا پڑے گا۔ یہ سب تاثر عمران خان نے خود پیدا کیا تھا۔ بد قسمتی دیکھیں‘ عمران خان ایسے وزیر اعظم کے طور پر یاد رکھے جائیں گے‘ جس نے بہت جلد وہ تمام وعدے توڑے۔ جب عمران خان ریاستِ مدینہ کی مثالیں دیتے ہیں تو بھول جاتے ہیں کہ قران پاک میں وعدوں کے بارے میں کیا کہا گیا ہے۔ جب بھی عمران خان سے ان وعدوں کے بارے میں پوچھا جاتا ہے‘ وہ بڑی معصومیت سے بتاتے ہیں: کیا کریں سیاسی چوروں اور ڈاکوؤں کے بغیر وہ حکومت نہیں بنا سکتے تھے۔ سوال یہ ہے‘ کیا اقتدار کے چند برس آپ کی پوری عمر کے کردار اور ساکھ سے بڑھ کر ہیں؟ ایک دن جب ہم آپ نہیں ہوں گے تو کیا یہ ملک نہیں چل رہا ہو گا؟

 کسی کو یاد نہیں رہتا کہ آپ نے اقتدار کیوں لیا تھا‘ لیکن سب کو یاد رہتا ہے کہ آپ نے اقتدار میں ہوتے ہوئے کیا کیا؟ گیلانی صاحب ہر آتے جاتے کو فخر سے بتاتے تھے کہ وہ اس وقت پاکستان کے سب سے زیادہ سرونگ وزیر اعظم کا درجہ حاصل کر چکے ہیں۔ آج ان کی کیا وراثت ہے؟ نواز شریف تین دفعہ وزیر اعظم رہے، ان کی وراثت کیا ہے؟ وہ خود جیل میں ہیں، بچے لندن مفرور اور بیٹی جلسوں میں باپ کا دکھڑا سنا کر مجمع اکٹھا کرنے کی کوششوں میں لگی ہوئی ہیں۔ یہی حال زرداری کا ہے۔

تو پھر ایک وزیر اعظم میں ایسی کیا بات ہونی چاہیے کہ لوگ اسے یاد رکھیں؟ تاریخ یاد رکھے۔ ہمارے نوجوانوں نے تو بھٹو زندہ ہے کا مذاق بنا لیا ہے کیونکہ بھٹو کے بعد آنے والی پیپلز پارٹی کی حکومتوں نے بھٹو کی پھانسی کا بدلہ عوام کو لوٹ کر لیا‘ جس سے نوجوان نسل کا لفظ ‘بھٹو‘ سے دل ہی بھر گیا ہے۔ ورنہ بھٹو کی وزیر اعظم کے طور پر وراثت اتنی طاقتور تھی کہ بینظیر بھٹو تو چھوڑیں جو دو دفعہ وزیر اعظم بن گئیں، زرداری جیسا بندہ‘ جو کونسلر بھی نہ بن سکتا‘ وہ بھٹو کے نام پر صدر پاکستان بن گیا۔ آخر کچھ تو بھٹو کی وراثت تھی۔

آج شاید عمران خان خود کو نہیں پہچان پائیں گے اور انہیں اس بات کا شدت سے احساس ہے۔ یہی وجہ ہے‘ عوام کو بہلانے کے لیے وہ بار بار اس نعرے کی طرف جاتے ہیں کہ وہ کسی کو نہیں چھوڑیں گے اور یہ بتانے کے لیے وہ آدھی رات کا انتخاب کرتے ہیں۔ انہیں احساس ہے کہ بات نہیں بن پا رہی۔ وہ جن طبقات کو ریلیف دینے اور آسانیاں پیدا کرنے کے لیے اقتدار میں آئے تھے‘ وہ الٹا ان کی حکومت کے نئے بجٹ میں کچلے گئے ہیں۔ انہیں اور کوئی نہیں ملا تو تنخواہ دار طبقے کو ہی رگڑ دیا ہے۔ یا پھر مڈل کلاس کچلی گئی ہے۔ یہ وہ طبقہ تھا جو سمجھتا تھا کہ عمران خان ان کے لیے مسیحا ثابت ہوں گے۔

عمران خان اب اپنے فیصلوں کی وجہ سے جانچے جائیں گے نہ کہ زرداری یا شریفوں کے خلاف تقریروں کی بنا پر۔ لوگوں نے زرداری اور شریفوں کو برا سمجھا تو عمران خان کو اقتدار میں لائے۔ انہیں بار بار بتانے سے عوام متاثر نہیں ہوں گے۔ وہ اب آپ سے اپنے مسائل کا حل چاہتے ہیں۔ عوام جانتے ہیں کہ شریف اور زرداریوں نے بہت لوٹا ہے۔ پہلے تو عمران خان چوہدریوں کا نام بھی لوٹ مار میں لیتے تھے لیکن اب ان کے بارے میں خاموش ہیں۔ یہ وہ بات ہے‘ جو یہ پیغام دیتی ہے کہ خان صاحب اب کمپرومائز کرنا سیکھ گئے ہیں۔ یہ بات سب کو ہرٹ کرتی ہے۔

سوال یہ ہے کہ آپ کب تک اپنے ترجمانوں یا رات گئے تقریروں سے لوگوں کو بہلا لیں گے کہ آپ سب کو لٹکا دیں گے کیونکہ لوگوں کو شکایت ہے جن کو لٹکانا چاہیے ان میں سے آدھے تو کابینہ یا حکومت میں شامل ہیں۔

رؤف کلاسرہ کے روزنامہ دُنیا میں چھپنے والے کالم سے اقتباسات

Courtesy: Daily Duniya

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here