ایران پر حملے کیلیے اڑے جہاز ٹرمپ نے اچانک واپس اُتار لیے، کیوں؟

0
338

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کی طرف سے امریکی فوج کا ایک ڈرون طیارہ مار گرائے جانے کے واقعے کے بعد مبینہ طور پر پہلے تو ایران پر ’جوابی حملوں کی منظوری دی مگر پھر یہ اجازت فوراﹰ ہی منسوخ بھی کر دی گئی‘۔

امریکی دارالحکومت واشنگٹن سے جمعہ اکیس جون کو ملنے والی نیوز ایجنسی روئٹرز کی رپورٹوں کے مطابق امریکی صدر نے مبینہ طور پر ایران کے خلاف ‘جوابی حملوں‘ کا یہ حکم دے تو دیا تھا لیکن پھر امریکی کانگریس کے رہنماؤں کے ساتھ ملاقات کے بعد انہوں نے فوری طور پر یہ حکم منسوخ بھی کر دیا۔

امریکی میڈیا کی رپورٹوں کے مطابق صدر ٹرمپ نے تہران کے خلاف عسکری کارروائیوں کا یہ حکم خلیج ہرمز کے علاقے میں ایک امریکی ڈرون طیارے کے مار گرائے جانے کے بعد دیا تھا۔ یہ امریکی ڈرون فضا میں بہت اونچی پرواز کر رہا تھا اور ان حملوں کی سفارش مبینہ طور پر پینٹاگون نے کی تھی۔

نیوز ایجنسی اے ایف پی کے مطابق کل جمعرات بیس جون کو امریکی صدر نے ایران کی طرف سے امریکی ڈرون مار گرائے جانے کے بعد پہلے یہ فیصلہ کیا تھا کہ وہ یہ انکشاف نہیں کریں گے کہ اس واقعے پر امریکا کا عسکری رد عمل کیا ہو گا۔ اسی لیے انہوں نے صحافیوں کے ساتھ بات چیت میں اس بارے میں سوالات کے جواب دیتے ہوئے کہا تھا، ”آپ کو پتہ چل جائے گا۔‘‘

USS John C. Stennis | MH-60R Sea Hawk Helikopter

امریکی طیارے حملوں کے لیے فضا میں تھے

امریکی میڈیا نے لکھا ہے کہ ٹرمپ کے اس فیصلے کے بعد امریکی جنگی طیارے مبینہ طور پر ایران کے خلاف حملوں کے لیے فضا میں  بلند بھی ہو گئے تھے اور امریکی نیوی کے بحری جہاز بھی حرکت میں تھے مگر تب تک حملوں کے صدارتی حکم  پر عمل ابھی شروع نہیں ہوا تھا۔

امریکی اہلکار کے مطابق ان حملوں کے لیے بطور ہدف چنے گئے مقامات میں ریڈار تنصیبات اور میزائلوں کی بیٹریاں بھی شامل تھیں۔

اس سلسلے میں امریکی شہری ہوا بازی کے حکام نے بھی تصدیق کر دی ہے کہ امریکا کی فیڈرل ایوی ایشن ایجنسی نے ملکی فضائی کمپنیوں کو اس موقع پر یہ حکم بھی دے دیا تھا کہ تب وہ خلیج عمان کے علاقے کے اوپر فضا میں داخل نہ ہوں۔ اس کی وجہ کے طور پر ‘خطرناک حالات‘ کی اصطلاح استعمال کی گئی تھی۔

ایران کے پاس ناقابل تردید شواہد

ایران نے خلیج عمان کی فضا میں امریکا کا جو ڈرون مار گرایا تھا، اس کے بارے میں آج جمعے کے روز تہران میں حکام کی طرف سے یہ بھی کہا گہا کہ ان کے پاس اس امر کے ‘ناقابل تردید شواہد‘ موجود ہیں کہ ایران نے امریکا کا گلوبل ہاک طرز کا ایک ڈرون مار گرایا ہے۔

ایرانی ذرائع کے مطابق اس ڈرون طیارے کو ایرانی فضائی حدود کی خلاف ورزی کرنے پر مار گرایا گیا تھا اور اس کی مالیت تقریباﹰ 130 ملین ڈالر یا 115 ملین یورو کے برابر تھی۔

ایرانی نائب وزیر خارجہ عباس عراقچی نے بتایا کہ چونکہ اس ڈرون کو ایرانی فضائی حدو دکی خلاف ورزی کرنے پر گرایا گیا تھا، اس لیے اس کے کچھ حصے ایرانی سمندری حدود میں بھی گرے تھے، جنہیں سمندر سے نکالا جا چکا ہے۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here