پی پی پی اور مُسلم لیگ کی مفاہمتی سیاست: پیپلز پارٹی کا پنجاب میں صفایا کیسے ہوا؟

0
503

سن 1988 میں پاکستان کے مُشکل ترین الیکشن دیکھنے کا موقع ملا، ایک طرف بھٹو صاحب کی بیٹی مُحترمہ بینظیر تھیں تو دُوسری طرف اسٹیبلشمینٹ کے سُرخیل نواز شریف کیمپیئن کو لیڈ کر رہے تھے، جماعت اسلامی بھی نواز شریف کے ہم رکاب تھی۔ پیپلز پارٹی اور مُسلم لیگ ایک دُوسرے کی ضد تھے، ووٹر جوق در جوق جلسوں میں اسلیے شرکت کر رہے تھے کے پاکستان میں ایک لمبے عرصے کیبعد جمہوریت کا سُورج طلُوع ہونے جا رہا تھا۔ پیپلز پارٹی کے جیالے پُورے پنجاب میں غریبوں کی آواز پیپلز پارٹی کیلیے دن رات ایک کیے ہوئے تھے، پیپلز پارٹی کو جہاں ووٹ بینظیر بھٹو شہید کیلیے مل رہے تھے تو بی بی مُخالفت میں ووٹ مُسلم لیگ کو مل رہے تھے

اگر پیپلز پارٹی کو آگ کہا جائے تو مُسلم لیگ ن پانی تھی، جن کا ملاپ نا مُمکن تھا، کیونکہ دونوں کے نظریات میں زمین آسمان کا فرق، اور دونوں کے ووٹرز بھی ایک دُوسرے کی ضد تھے۔ پھر اگلے الیکشنز میں بھی دونوں پارٹیوں میں گھمسان کا رن جاری رہا۔ پنجاب میں بڑے کانٹے دار مُقابلے ہوتے،

لیکن آہستہ آہستہ پنجاب میں پی پی کا ووٹ بنک آہستہ آہستہ کم ہو رہا تھا، اُسکی بڑی وجہ پی پی کا اپنے نظریہ سے ہٹنا تھا، پارٹی عُہدوں پر بھی اُن لوگوں کا قبضہ ہو گیا جو پی پی کے نظریے اور جیالوں سے دُور ہوتے گئے، پیسے کی فروانی نے پی پی کو مُسلم لیگ کے برابر لا کھڑا کیا، مُحترمہ بینظیر کی شہادت کیبعد پی پی پنجاب میں تو بالکُل پٹری سے اُتر گئی، قیادت نے بالکُل اس پر توجہ نہیں دی کے جیالے کیا چاہتے ہیں، گراؤنڈ لیول پر پارٹی کو کیسے مضبوط کیا جاتا، ہوا یہ کے زرداری صاحب نے ن لیگ سے مفاہمتی سیاست شُروع کر دی، اب جیالے جو ن لیگ کی ضد تھے وہ اس پالیسی سے بُہت نالاں نظر آئے، پنجاب میں دس سال مُسلسل ن لیگ کی حکُومت رہی اور پی پی مفاہمتی سیاست کے پرچم تلے دب گئی، جیالے جو مزاحمتی سیاست کے داعی ہیں، وہ اتنے بد دل ہوئے کے اُنھوں نے پی پی کو چھوڑنے میں ہی عافیت جانی

جیالے کوئی ایسا پلیٹ فارم ڈھونڈھ رہے تھے جہاں وہ اینٹی مُسلم لیگ سیاست کو فروغ دے سکتے، اسی عرصہ میں پی ٹی آئی وارد ہوئی اور جیالے جوق در جوق پی ٹی آئی میں شامل ہوتے گئے، ہوا کی لہر اور پارٹی کی کمزور پالیسیوں کی بدولت پہلے 2013 کے الیکشن اور پھر 2018 کے الیکشن میں پی پی نے پنجاب میں بد ترین شکست کھائی، افسوس کے بہت سے رہنماؤں کی ضمانتیں ضبط ہو گئیں۔

بلاول کی ایک بڑی ریلی نکال لینے کیبعد شنید دی گئی کے پارٹی میں جان پڑ گئی لیکن اُسکے بعد الیکشن میں بد ترین شکست نے پارٹی کی مقبولیت کو پول کھول دیا۔

پارٹی جو ن لیگ کی ضد ہے، وہ ن لیگ کے ساتھ مزید مفاہمتی سیاست سے اپنی جڑوں کو عوام میں مزید کھو دی گی۔

لہذا پی پی کو چاہیے کے اگر پنجاب میں اپنی سیاست کو زندہ رکھنا ہے تو اپنی انفرادیت کو قائم رکھنا ہو گا، لیفٹ کی سیاست کو تقویت دینا ہو گی، ناراض جیالوں کو منانا ہو گا، پارٹی کو روٹی کپڑا اور مکان کی سیاست میں دوبارہ جانا ہو گا۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here