مہنگائی ہونے سے کچھ نہیں ہوتا… بس، کچھ باپ اپنے بچوں سے

0
537

مہنگائی ہونے سے کچھ نہیں ہوتا

بس، کچھ باپ اپنے بچوں سے اور زیادہ دور ہو جاتے ہیں 
اور بچے شفقت پدری سے محروم ہو جاتے ہیں،
کچھ سرکاری ملازمین پارٹ ٹائم اور کام کرنے کا سوچنے لگتے ہیں ،

کچھ بیٹیاں، مجبوراً پردے سے الگ ہو کر گھر سے باہر روزگار کی تلاش میں نکل پڑتیں ہیں اور وومن ایمپاورمینٹ اور سیکولرلائزیشن کا ایجنڈا اور زیادہ فطری فطری لگنے لگتا ہے

کچھ ماؤں کے، گھٹیا مگر سستا دودھ اور خوراک خریدنے کی وجہ سے، ملاوٹ کرنے والوں کے کاروبار میں اضافہ ہو جاتا ہے،
اور خالص مگر مہنگی خوراک بیچنے والوں کے حوصلے پست ہو جاتے ہیں،

کچھ اور رشتہ داروں اور ہمسایوں سے لاتعلقی بڑھ جاتی ہے اور مہمان بوجھ لگنے لگتے ہیں، خوشی غمی کے موقع پر شرکت سے پہلے لوگ سو سو بار سوچنے لگتے ہیں.

کچھ بچے اپنا بچپن انجوائے کرنے سے محروم ہو جاتے ہیں اور وقت سے پہلے سنجیدہ ہو جاتے ہیں ،

کچھ اور لوگ نیا کاروبار شروع کرنے کا فیصلہ موخر کر دیتے ہیں جس سے روپے کی گردش رک جاتی ہے اور روزگار کے مواقع محدود ہو جاتے ہیں،

کچھ ادویات مثلاً بلڈ پریشر اور سکون آور ادویات کی سیل بڑھ جاتی ہے اور ادویات ساز کمپنیاں اپنی سیل متعین کرنے کے لیے اور زیادہ منضبط اصولوں کے ساتھ ڈاکٹروں کو گھیرنے کی کوشش کرتیں ہیں.

سستے علاج کی تلاش میں دیسی ٹوٹکوں کا کاروبار بھی بڑھ جاتا ہے ،اور کچھ توہم پرستی بھی…

کچھ لوگ مذہب سے دور ہو جاتے ہیں لیکن پیسوں کی ہوس رکھنے والے مجاوروں کے قریب ہو جاتے ہیں.

بس تھوڑی سی چوری چکاری، تھوڑا سا جھوٹ، تھوڑا سا اوور ٹائم اور بہت ساری بے امیدی اور کچھ بھی نہیں،

پس مہنگائی ہونے سے کچھ بھی نہیں ہوتا …

اطہر وقار عظیم

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here