بھٹو خاندان: سیاست سے سُولی تک… اویس توحید کی زبردست تحریر

0
446

میرا بچپن ذوالفقار علی بھٹو کی کرشماتی شخصیت کی یاداشتوں سے بھرا پڑا ہے۔ موہنجوداڑو ایئر پورٹ پر شہنشاہِ ایران اور ملکہ فرح دیبا کو گلدستہ پیش کرنے کیلئے میرا چنا جانا، ریڈ کارپٹ پر غلط جانب کھڑے ہونا اور بھٹو صاحب کا مجھے وہاں سے اٹھا کر صحیح جگہ پر کھڑا کرنا۔ پھرستتر کے انتخابات۔ بھٹو صاحب کا اپنی قریبی ساتھی اور میری والدہ کی بہترین دوست ڈاکٹر اشرف عباسی کے ہمراہ میری آبائی حویلی نما گھر ’’لکھپت بھون‘‘ کا دورہ کرنا۔ پھر بھٹو صاحب کا میرے گال تھپتھپاتے ہوئے مجھ سے اپنے لئے ووٹ مانگنا اور میرے جواب ’’انقلاب کیلئے کام کرنا سب سے بہتر ہے‘‘ پر قہقہے لگا کر ہنسنا۔پھر بھٹو صاحب کا میرے ڈرائنگ روم میں بہت سے اخبارات میں سے ایک اخبار دیکھ کر بڑے بھائی کو بڑے تیکھے انداز میں جملہ مارنا کہ ’’اس دائیں بازو کی پراپیگنڈہ مشین کو کیوں پڑھتے ہو‘‘، مجھے یاد ہے۔ جب نوجوان ہوا تو بذریعہ سڑک دوستوں کے ساتھ پنجاب جانا ہوا۔ سال 1986، دوستوں نے پیسے اکٹھے کئے، گاڑی کرائے پر لی اور منزل لاہور۔ میلے کا سا سماں، ضیاء کا دور، بھٹو کی بیٹی بےنظیرکی وطن واپسی۔ لاکھوں لوگ سڑکوں پر، ان میں وہ لوگ بھی جنہوں نے جیلیں کاٹیں، تشدد برداشت کیا۔اب جمہوریت کی فضا میں سانس لینے کو بےتاب اور 1988کے انتخابات میں ایسا ہی ہوا۔ ہر بڑے زمیندار اور قبیلے کے سردار کو پاکستان پیپلز پارٹی کے نومولود اور سیاسی طور غیر معروف امیدواروں سے شکست کھانا پڑی۔

میری بےنظیر بھٹو کے ساتھ بہت ملاقاتیں ہوئیں اور درجنوں مرتبہ غیر ملکی خبر رساں ادارے اے ایف پی کیلئے انکا انٹرویو لینے کا موقع ملا۔ بی بی کو انتخابات سے قبل جارحانہ انداز میں، لاٹھی چارج، آنسو گیس، رکاوٹوں سے نمٹتے دیکھا اور پھر فاروق لغاری کی اپنی ہی حکومت کے خلاف سازش کے بعد بی بی کے لہجے میں تلخی بھی دیکھی۔ ’’میں نے اسے بھائی سمجھا، اس نے میری کمر میں چھرا گھونپا۔ اس نے مرتضیٰ کے چہلم کا بھی انتظار نہ کیا‘‘۔ بی بی کو یقین تھا کہ مرتضیٰ کا قتل بھٹو خاندان کے خلاف سازش ہے۔ مرتضیٰ بھٹو اپنی بہن کے دور حکومت میں جِلا وطنی ختم کر کے واپس آئے، بہن کی پالیسیوں کے سخت مخالف تھے، ایک سیاسی، رومانوی شخصیت جو ملک کے اقتدار کے ڈھانچے میں بنیادی تبدیلی چاہتےتھے۔ میری مرتضیٰ بھٹو کے ساتھ آخری ملاقات 70کلفٹن کی رہائش گاہ پر ہوئی، پریس کانفرنس کے بعد مظہر عباس، جاوید سومرو اور مجھے عوامی جلسے میں شرکت کی دعوت دی، ہم نے معذرت کی۔ کچھ ہی گھنٹوں بعد میرے پیجر پر اطلاع آئی، 70کلفٹن کے قریب فائرنگ، سڑکیں بند، اندھیرا۔ میں سیدھا مڈل ایسٹ اسپتال کی طرف بھاگا، نیچے زخمیوں کو اسپتال لایا جا رہا تھا، اندر اسپتال میں ناصر حسین دیوار پر سر مار رہے تھے۔ مرتضی بھٹو ہمیشہ کے لئے رخصت ہو چکے تھے۔

2007جنرل مشرف کی ٹی وی چینلز پر پابندی اور ایمرجنسی نافذکرنےپر، صحافیوں کی مزاحمت پر اُنہیں صحافیوں کو تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔ کچھ سینئر صحافیوں کے ساتھ میں نے احتجاجاً گرفتاری دے دی۔ تھانے میں بندتھا کہ بینظیر کا مجھے خیر سگالی کا فون موصول ہوا،میری تفصیلی گفتگو ہوئی، کچھ ہی دن قبل بی بی کارساز کے حملے میں بال بال بچی تھیں، میں نے بی بی کو کہا ’’آپ کی جان کو بہت زیادہ خطرہ ہے‘‘۔ ’’درست لیکن میں گاڑی کے اندر کیسے چھپ کر بیٹھ سکتی ہوں، جب لوگوں کا سمندر سڑکوں پر امنڈ آیا ہو، ان لوگوں کو امید ہے میں ان کی زندگیوں میں تبدیلی لا سکتی ہوں‘‘۔کچھ ہفتوں میں انہیں شہید کردیا گیا اور میں پھر گڑھی خدا بخش کے قبرستان میں۔قبرستان کا ایسا ماحول پہلے کبھی نہیں دیکھا، اس ماحول میں، میں نے بلاول بھٹو اور اس کی بہنوں کو فاتحہ پڑھتے اور پھولوں کی چادر چڑھاتے دیکھا۔ میں اس امید کے ساتھ رخصت ہوا کہ مجھے اس قبرستان میں جنازوں کے لئے کبھی لوٹنا نہ پڑے۔ اس پارٹی کے ساتھ میری بہت ساری یاداشتیں جڑی ہیں، اچھی، بری، ہولناک یادیں۔

 

میری عمر اب 50برس سے زیادہ ہے اور پارٹی کی عمر بھی، دو سال قبل میں نے کینسر کے خلاف لڑائی لڑی اور شکست دی،پارٹی کو بھی اپنے اندر موجود کینسر کے خلاف لڑائی کرنا ہے، میں نے بیماری کے بارے میں جانا کہ یہ بیماری جسم کہ اندرونی خلیات کی ٹوٹ پھوٹ کی وجہ سے پیدا ہوتی ہے، پیپلز پارٹی کو اپنے کینسر کے خلاف لڑائی اپنی بقا کے لئے لڑنا ہو گی اور آدھی جنگ اپنے مضبوط ارادوں سے جیتی جا سکتی ہے۔

 

*This article is actually appeared in Daily Jang

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here