نعیم راشد، جو نیوزی لینڈ کی مسجد میں شہید ہوئے ان کی بیوہ کا پہلا میڈیا انٹرویو

0
767

نعیم راشد شہید کی بیوہ عنبرین راشد کا کہنا ہے کے اُنکے خاوند اصل زندگی میں بھی ہیرو تھے، دوسروں کی آخری حد تک مدد کرنا اُنکا اوڑھنا بچھونا تھا۔
میرے خاوند اور میرا بیٹا ہیرو ہیں، عنبرین رندھی ہوئی آواز میں خلیج ٹائمز سے بات کر رہی تھیں۔
میری فیملی نماز کی ادائیگی کیلیے ہمیشہ اسی مسجد میں جاتے تھے، سمجھ نہیں آ رہی یہ کیوں ہوا اور کیسے ہو گیا، میرے ہیرو آج اس دُنیا میں نہیں رہے۔ ہمارے تین بیٹے ہیں اور اس سانحے کے وقت دو بیٹے مسجد میں نہیں تھے۔
طلحہ سول انجینیئر تھا اور اُسکی شادی ہونیوالی تھی، طلحہ کی موقع پر ہی شہادت ہوُگئی جبکہ میرے خاوند نے ہسپتال میں جام شہادت نوش کیا۔
میرے خاوند اور بیٹے نے ہمیشہ مشُکل وقت میں میرا ساتھ دیا۔ اور اُنکے ساتھ گُزرا ہوا وقت تا دم یادگار رہیگا۔
ایک قریبی فیملی رشتہ دار صائمہ علی کا کہنا تھا کے نعیم ایک بڑے بھائی کیطرح تھے، اُنکا گھر ہمارا دُوسرا گھر تھا، ہمارے کرائسٹ چرچ میں قیام کے دوران ہماری ہمیشہ مدد کی، طلحہ ہمیشہ میرے بچوں کا بڑے بھائیوں کیطرح خیال رکھتا

طلحہ نے ابھی گریجوایشن کرنے کیبعد نوکری سٹارٹ کی تھی۔ نُور مسجد ہماری کمیونٹی کی مسجد تھی، طلحہ پانچ وقت کا نمازی تھا اور ہمیشہ اسی مسجد میں نماز پڑھتا تھا، مسجد ہمارے لیے خوشیوں کا منبع تھی کیونکہ نماز سے پہلے اور بعد لوگ مسجد میں موجود ہوتے تھے اور گھر کیطرح کا ماحول تھا۔ مُجھے شدید دُکھ ہے کے دُنیا کے پُر امن ترین مُلک کو خون سے نہلا دیا گیا، میں نو سال نیوزی لینڈ میں رہی اور پہلی مرتبہ اب گن دیکھی۔ یہ نیوزی لینڈ شاید اب پہلے والا نیوزی لینڈ نہیں رہا۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here