چوھدری برادران عمران خان کو کمزور نہیں مضبُوط کریں! اتحادی بنیں ناں کے پریشر گروپ 

0
535

چند واقعات مُلاحظہ کریں اور دیکھیں عمران خان کتنے بے بس ہو چُکے ہیں کے کوئی بڑا فیصلہ نہیں کر سکتے۔
ساہیوال واقعہ ہوتا ہے اور پورے پاکستان میں ہر کوئی اس واقعہ پر دل گرفتہ، ملوث افراد کو سخت سے سخت سزا کی آوازیں، لگ یہی رہا تھا کے شاید وزیر اعلی کی بر طرفی تک بات پہنچے لیکن سیاست کی غُلام گردشوں میں آئی جی پنجاب اپنے ارائیں کلے کیوجہ سے تبدیل تک نہیں ہوئے، اور چوھدری سرور کامیابی کا نقارہ بجاتے ہیں۔ پورے پاکستان نے بینظیر ہسپتال کے ایم ایس کا وزیر قانون کیخلاف ڈٹ جانے کو سراہا، اور وزیر قانُون کے رویے کی مذمت کی، لیکن چوھدری برادران کی طاقت کا اندازہ لگائیں آج ایم ایس کی چھُٹی ہو گئی، مسئلہ یہ ہے کے چوھدری برادران کی پارٹی ایک اتحادی سے زیادہ پریشر گروپ کی ہے، اسپیکر شپ بھی لے لی، وزارتیں بھی لے لیں اور پریشر بھی مُسلسل رکھتے ہیں، کبھی طارق چیمہ کی صُورت میں تو کبھی مونس الہی کی شکل میں، ق لیگ ایک روایتی سیاسی جماعت ہے جوڑ توڑ اور وسائل میں زیادہ سے زیادہ حصہ اُنکی سیاست کا خاصہ ہے۔ حکُومت کا حصہ ہونے کے باوجود کبھی وہ آپ کو میڈیا میں حکُومت کا دفاع کرتے نظر نہیں آئینگے۔


لیکن چوھدری برادران کو سوچنا ہو گا کے اگر اُنھیں آج کامیابی ملی تو وہ پی ٹی آئی ہی کی مرہون منت اور اُنھیں چاہیے کے وہ پی ٹی آئی کو فری ہینڈ دیں اور اپنی وزارتوں کے مزے لُوٹیں۔ مونس الہی کو اگر کوئی وزارت دینی ہے تو دیں اور وہ جانیں اور نیب ، خان صاحب آپ حکُومت میں ہیں اب آپ کو کُچھ دلیرانہ فیصلے کرنے ہونگے۔ اسطرح سمجھوتوں سے آپکے ووٹرز آپ سے متنفر ہونا شُروع جائینگے۔ ق لیگ کی قیادت کیساتھ بیٹھیں اور اپنے ایجنڈے پر عمل درآمد کروائیں اور روز روز کے پریشر سے ہمیشہ کیلیے جان چُھڑوائیں۔ گورنر پنجاب چوھدری سرور سے کہیں کے اپنی حدُود میں رہیں اور حکُومتی امور میں بلا وجہ کی ٹانگ ناں اڑائیں،


عُثمان بُذدار کو کہیں کے وہ وزارت اعلی کے خوف کی چادر اُتاریں اور کھُل کر وزارت اعلی والے اقدامات بے دھڑک ہو کر اُٹھائیں، ورنہ خود خان صاحب سے کہہ کر اس فرض سے سُبکدوش ہو جائیں، اسلم اقبال یا علیم خان کو وزارت اعلی کا قلم دان دینے میں کیا مُشکلات ہیں؟ کب تک لوگوں کو وسیم اکرم والی طفل تسلیاں ملتی رہینگی، وسیم اکرم سادہ تھا، کم گو تھا لیکن باؤلنگ میں تو وہ سوئنگ کے ماہر تھے، لیکن عُثمان بُذدار ابھی تک کوئی سوئنگ نہیں مار سکے۔ مُسافر خانوں کے علاوہ بُذدار صاحب نے کونسا فُل ٹاس پھینکا ہے؟ بُذدار کی تبدیلی کو ضد ناں بنائیں بلکہ جمہوریت کا حُسن ہی یہ ہے کے آپ اپنا کھلاڑی بُری پرفارمنس پر بدل سکتے ہیں۔


تحریر:عمران ملک

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here