ساہیوال سانحہ، پنجاب پولیس، گورنر چوھدری سرور اور ارائیں آئی جی پنجاب: رؤف کلاسرہ کے کالم سے اقتباس

0
1056

سانحہ ساہیوال پر بائیس کڑور عوام میں سے کوئی ایک بھی ایسا نہیں ہو گا جس نے اس بربریت کی مُذمت ناں کی ہو، لیکن دُوسری طرف پنجاب پولیس، گورنر پنجاب کے لگائے گئے ارائیں آئی جی پنجاب اور کُچھ وزرا واقعہ پر “مٹی پاؤ” کی فلاسفی پر عمل کر رہے تھے۔ کیا عوام نے تحریک انصاف کو اس لیے ووٹ دیے تھے؟ گورنر سرور سینیٹر بنے پھر گورنر بنے اور اب اپنی مرضی کا آئی جی پنجاب لگوا لیا۔ اس تمام صُورتحال پر رؤف کلاسرہ کا زبردست تجزیہ مُلاحظہ فرمائیں۔

گورنر محمد سرور کو اس فلم ‘ساہیوال والے واقعے’ میں کردار ادا کرنے کو کہا گیا ۔ گورنر صاحب کو اپنی فکر پڑی ہوئی تھی ‘ وہ بڑی مشکل سے اپنا بندہ منت ترلوںسے آئی جی لگوانے میں کامیاب ہوئے تھے۔ اب سب کچھ ضائع ہوتا لگ رہا تھا اور ملبہ آئی جی پر گرنے والا تھا۔ چوہدری سرور‘ جو سوچ بھی نہ سکتے تھے کہ لندن پولیس کا سربراہ ان کی سفارش پر لگتا‘ اچانک پوری قوم کو سمجھانے پر لگ گئے کہ ا یسا تو پوری دنیا میں ہوتا ہے‘ لیکن ہمیں تفتیش کرنی چاہیے کہ ایسا کیوں ہوا۔ چلیں پوری دنیا چھوڑ یں کوئی ایسا ٹارگٹڈ آپریشن برطانیہ میں بتا دیں جہاں پولیس نے ایسی گاڑی پر گولیاں برسائی ہوں جس میں چار بچے ماں باپ کے ساتھ سوار ہوں؟ گورنر سرور نے سنجیدہ منہ بنا کر گولی دینے کی کوشش کی تاکہ ان کے لائے ہوئے آئی جی سے دبائو ختم ہو‘ اور کوئی ان کا استعفیٰ نہ مانگ لے‘ مگر سب سے بڑا کام پی ٹی آئی کے ایک صوبائی وزیر نے کیا‘ جب موصوف نے ایک ٹی وی شو میں کہا کہ چھوڑیں جی‘ وہ تو ویڈیو ہی جعلی تھی۔

مزے کی بات ہے جے آئی ٹی بھی انہی افسران کی بنائی گئی جن کے لوگوں نے غلط انفارمیشن دی اور پھر بندے مار دیے۔ مطلب وہی ملزم اور وہی اپنے جج ۔ سونے پر سہاگہ یہ کہ جے آئی ٹی کے سربراہ نے فرمایا کہ یہ اتنا بڑا کام ہے کہ تین دن میں مکمل نہیں ہو سکتا‘ اس کے لیے پورا ایک مہینہ چاہیے‘ تاکہ معاملہ سرد خانے میں ڈالنے میں آسانی رہے۔ سوال یہ ہے کہ جب ایک طرف دعویٰ کیا جا رہا تھا کہ دہشت گردوں کو مارا گیا ہے اور یہ دعویٰ آئی جی امجد سلیمی کے دفتر سے جاری پریس ریلیز میں کیا گیا تو پھر تحقیقات میں کتنی دیر لگنی چاہیے تھی؟ ٹیم کو آئی جی سے ملنا تھا کہ جناب آپ ہمارے ساتھ وہ ثبوت شیئر کریں اور بتائیں کہ وہ حکم کس نے جاری کیا تھا کہ گاڑی کو روکیں اور اندھا دھند گولیاں مار دیں؟ اس طرح سی ٹی ڈی سے پوچھ گچھ کے لیے بھی کیا ایک ماہ کا وقت چاہیے کہ انفارمیشن کہاں سے آئی اور کس نے کیا حکم جاری کیا؟ یا سی ٹی ڈی کے ان اہلکاروں سے پوچھنے کے لیے کتنا وقت درکار تھا کہ آپ کو یہ حکم کس نے دیا تھا کہ گاڑی کو روک کر گولیاں برسا دیں یا انہوں نے اپنا عقل کیوں استعمال نہ کیا اور گرفتار کرنے کی بجائے سیدھی گولیاں مار دیں؟


جہاں اتنی بڑی ٹریجڈ ی پر دل دکھ سے بھر گیا ہے‘ وہیں تحریک انصاف نے جس طرح اس قتلِ عام کو کور اَپ کرنے کی کوشش کی‘ وہ زیادہ تکلیف دہ ہے۔ ماضی میں شہباز شریف کی حکومت ایسے قتلِ عام کراتی تھی تو عمران خان استعفیٰ مانگتے تھے۔ ایک پولیس افسر نے ورکرز کے ساتھ زیادتی کر دی تھی تو جلسۂ عام میں کہا تھا کہ وہ پاور میں آکر خود اسے اپنے ہاتھوں سے سزا دیں گے۔ اب یہاں ایک آئی جی کے دفتر سے پریس ریلیز جاری ہو رہی ہے کہ ہم نے ”دہشت گرد‘‘ مار دیے ہیں اور پوری تحریک انصاف اور اس کے وزرا اس قتل ِعام کا دفاع کررہے ہیں۔
پی ٹی آئی کی ایم این اے عندلیب عباس کو سلام‘ جنہوں نے اکیلے سٹینڈ لیا اور مظلوموں کے ساتھ کھڑی ہوگئیں۔ حیران ہوتا ہوں کہ جس پولیس کے خاور مانیکا کی بیٹی سے رات گئے روکنے اور اتنا پوچھ لینے پر کہ آپ کو سکیورٹی چاہیے‘ پورا پنجاب ہلا کر رکھ دیا گیا ‘ وہیں اب چار لوگوں کے قتل پر پولیس کا دفاع شدو مد سے کیا جارہا ہے۔ پنجاب پولیس کے خلاف جتنا ردعمل مانیکا خاندان کی گستاخی پر تھا اور جو سزائیں پولیس کو دی گئیں‘ ایسا تھوڑا سا ردعمل بھی یہاں نظر آتا تو کچھ دل جوئی ہوتی۔
شریف خاندان نے بھی ماڈل ٹاون کے مقتولین کے ورثا کو پیسے دے کر خریدنے کی کوشش کی تھی‘ جیسے پنجاب حکومت نے اب دو کروڑ روپے کا اعلان کر کے کی ہے۔ اقتدار بھی کیا چیز ہے کہ بے گناہوں کا لہو بھی حکومت کے نشے کے سامنے اہمیت کھو دیتا ہے۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here