مُردوں کا ماتم کرنے والو زندوں کو پوچھو کہ وہ کیسے جی رہے ہیں؟ یہ دکھاوا اور منافقت چھوڑ دو علی اعجاز کا عالم ارواح سے بیان

0
830

لیجنڈاداکارعلی اعجاز برسوں صدارتی فنڈ سے مالی امداد کی اپیل کرتے رہے مگر ان کی کسی نے نہیں سنی، وفات سے ایک ہفتہ قبل پنجاب حکومت نے ان کے لئے پانچ لاکھ روپے امداد کی منظوری دی، سمری وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار کے پاس منظوری کے لئے گئی مگر چیک جاری ہونے سے پہلے ہی وہ انتقال کر گئے اور آج جسے دیکھیں سٹیٹس لگاٸے دھاڑیں مار مارکر رو رہا ہے کہ ملک ایک بڑے فنکار سے محروم ہو گیا ۔میں تو اس کا ڈرامہ دیکھ کر بڑا ہوا ہوں اور ایسے ہی قصے ٹی وی چینلز پر بیٹھے ڈرامہ باز موقع پرست مشہوری کےلیے پیش کر رہے ہیں ۔۔۔


مجھے کہنے دیجیے کہ آپ سب منافق اور خود پرست لوگ ہیں اگر وہ بندہ زندہ ہو جاٸے تو آپ سب کہیں گے کہ اس کی مدد کیوں کی جا رہی ہے اور اس کو کوٸی یہ بھی پوچھنے نہیں جاٸے گا کہ تم بوڑھے ہو گٸےہو تو تمھارا ذریعہ معاش کیا ہے ؟


اگرچیونٹیاں مل جاٸیں تو سانپ کی کھال اتار سکتی ہیں ۔آپ لوگ مل کر کسی کے لیے آواز نہیں اٹھاتے بلکہ الٹا جی حضوری کرنے والے گندے ذہنوں کو ملا کر گروپ بنا لیتے ہیں اور دوسروں کے عیب ڈھونڈنے ۔اپنی نام نہاد دنیاوی قابلیت پر اترانے اور ایک دوسرے کو نیچا دکھانے میں اپنی تواناٸیاں صرف کرتے رہتے ہیں ۔

اگر احادیث اور سنت نبوی کو سامنے رکھ کر ہم سب اپنے کردار و اعمال کا حساب کریں تو سبھی غلط ہیں مگر افسوس مرنے والے کا سٹیٹس دے کر ہمارے جسم و جان نہیں کانپتے۔۔ جنازے دیکھ کر اپنی موت یاد نہیں آتی ۔۔ دو گز زمین ملنے پر اپنی اوقات سمجھ نہیں آتی بلکہ ڈھٹاٸی اور خود غرضی میں اضافہ ہو جاتا ہے ۔یہ ہماری بدقسمتی ہے کہ دنیا کمانے کی فکر میں آخرت کھو گٸی اور ہمیں احساس بھی نہ ہوا ۔۔۔۔۔۔۔

مردوں کا ماتم کرنے والو زندوں کو پوچھوکہ وہ کیسے جی رہے ہیں ۔ان کے غم بانٹو اور یہ دکھاوا اور منافقت چھوڑ دو ۔

 

رُقیہ غزل کی چُبھتی تحریر

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here