قبیلے کے سب لوگ بہادر ہوں تو تباہی اسکا مُقدر ہوتی ہے

0
404

جزئیات میں الجھے رہنا احمقوں کا شیوہ ہے۔ دانا وہ ہوتے ہیں جو بڑی تصویر دیکھتے ہیں ۔ شاعر ممبر نیازی نے کہا تھاجس قبیلے کے لوگ بہادر ہوں تباہی اس کا مقدر ہوتی ہے۔ ہم بہادر لوگ
میاں محمد نواز شریف کا کاروبار اس وقت تک کیوں چلتا پھولتا ہے جب وہ اقتدار میں ہوں ؟ جناب آصف علی زرداری حکومت کا حصہ بننے کے بعد ہی دولت کے انبار کیوں جمع کر سکے؟
یہ چند خاندانوں اور پارٹیوں کا نہیں پورے معاشرے کا الیہ ہے۔ احسن اقبال مشاہداللہ خان اور پرویز رشید کا الگ رکھیئے ۔ شریف خاندان کے بغیر وہ بے معنی ہوتے۔ ایک لمحۃ جھجک کے بغیر مشاہداللہ خان عباسی ایسا بھلا مانس عدالتی فیصلے کی تحقیر کرتا ہے ۔ ایسی ڈھٹائی جو قوم قبول کر لے اس کا انجام کیا ہو گا۔ اعتزازالحسن ، قمر زمان قائرہ اور چوہدری منظور حسین ایسے لوگ بلا تامل آصف علی زرداری کی وکالت کرتے ہیں ۔
آج صبح بہت دیر تک یہ خیال دل میں ترازورہا کہ جماعت اسلامی کے ساتھ کیاگیا؟ وہ پارٹی ، اخلاقی اور علمی طور پر جس کی سب سے زیادہ آبیاری کی گئی ۔
وہ لوگ جو سب سے زیادہ پابند صوم و صلوۃ ہیں ۔ نواز کی کرپشن کے خلاف اعلان جنگ کے بعد آزاد کشمیر اسمبلی کی ایک سیٹ کیلئے نون لیگ سے مفاہمت کر لی۔ پانچ سال تک پختونخوا میں پی ٹی آئی کے اتحادی رہے۔ اور اب انہیں دینا بھر کی خرابیاں عمران خان میں نظر آتی ہیں ۔
اپنی پون صدی کی کمائی مولانا فضل الرحمن کے قدموں میں ڈھیر کر دی۔پارٹی کے بانی مالی معاملات میں اجلے اور کھرے سیدابواعلیٰ موددوی سے جن کی نفرت ڈھکی چھپی نہیں ۔ جو انہیں اپنے مکتب فکر کا غدار سمجھتے ہیں ۔ ملک کا سب سے تا مقبول سیاستدان جس کی ہوس اقتدار ضرب المثل ہے ۔
آصف علی زرداری یا ان کے کارندوں نے بینکوں میں درجنوں جعلی کھاتے کھولے ۔ کیا وہ کسی ایک یا چند آدمیوں کے بس کی بات تھی؟ بینکوں کے عملے کی مدد کے بغیر کیا یہ ممکن تھا؟
ظاہر ہے زرداری اور شریف خاندان کی کرپشن اور کمیشن کا پیسہ ہنڈی کے ذریعے باہر بھیجتے رہے۔ کیا درجنوں افراد اس میں ملوث نہ ہوں گے؟ کہا جاتا ہے 1988ء سے یہ سلسلہ جاری ہے۔ سوراخوں کا بند کرنے کی کوشش کیوں نہ کی گئی؟ بتایا جاتا ہے کہ دس ارب ڈالر ہر سال ملک سے باہر چلے جاتے ہیں۔ یعنی کم از کم چالیس ، پچاس ہزار نوکریاں ۔
معاشرے کا کچرا جس کی تربیت نہیں کی گئی۔ جنہیں کچھ بھی سکھایا نہیں گیا۔ وہ ایک سادہ سی بات نہیں سمجھتے کہ قصاص ایک چیز ہے۔ اور جذبہ انتقام بالکل دوسری ۔ اجتماعی زندگی میں قصاص لازم ہوتا ہے۔ اور انتقام حماقت۔
جزئیات میں الجھے رہنا احمقوں کا شیوہ ہے ۔ دانا وہ ہوتے ہیں جو بڑی تصویر دیکھتے ہیں ۔ شاعر منیر نیازی نے کہا تھا۔ جس قبیلے کے سب لوگ بہادر ہوں تباہی اس کا مقدر ہوتی ہے۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here