آپ حیران ہونگے کے کسطرح نیوز چینلز نے بے دردی سےپچھلے ادوار میں حکُومتی بجٹ کو استعمال کیا، چشم کُشا رپورٹ

0
1315

آجکل سوشل میڈیا اور خاص طور پر واٹس ایپ پر ٹی وی چینلز کے نئے ریٹس کی خبر وائرل ہو رہی ہے، جسمیں نئے ریٹس اور پُرانے ریٹس کا موازنہ بھی شامل ہے۔
کُچھ ریٹس ایسے دل ہلا دینے والے ہیں کے عام آدمی پریشان کے کسطرح عوام کی ٹیکس منی کو بے دریغ استعمال کیا گیا۔
اب نیوز چینلز کے یہ ریٹس پیپلز پارٹی اور مُسلم لیگ ن حکُومت میں کس نے اور کیوں منظُور کیے؟ اس کا جواب آنا بہت ضروری ہے۔

پوری دُنیا میں ریٹنگز ایک معیار ہے جس کی بُنیاد پر ٹی وی چینلز کے ریٹس طے ہوتے ہیں۔ اس سے بڑی بات یہ ہے کے ساری دُنیا میں حکُومتی اشتہارات پر سبسڈی دی جاتی ہے، کم ترین ریٹس حکومت کیلیے ہوتے ہیں، تاکہ وہ عوامی پیغامات بھر پور طریقے سے عوام تک پُہنچا سکیں۔ لیکن پاکستان میں گنگا اُلٹی بہتی ہے۔ لیکن چُونکہ اسکے پیچھے نیوز چینلز کو نواز نا مقصود تھا، لہذا عوام کو اور اُنکی ٹیکس منی کو چُونا لگایا گیا۔ اور نیوز چینلز نے بڑی بے دریغی سے حکُومتی بجٹ کو دونوں ہاتھوں سے لُوٹتے رہے۔

اب ذرا تجزیہ کرتے ہیں کے کسطرح نیوز چینلز کو نوازا گیا اور اب اُنھیں چینلز کیلیے اپنے آپریشنز چلانا مُشکل ہو رہا ہے۔ کاش ہمارے چینلز کو بھی کوئی عدالت میں بُلا کر پوچھ سکے کے اُنھوں نے یہ ریٹس کس نے اور کیوں منظُور کیے، کس نے کتنی کرپشن کی، کتنی رشوت دی گئی۔

– ریٹنگز میں آج نیوز سیکنڈ کیٹیگری کا چینل ہے لیکن ایک لاکھ پچھتر  ہزار ایک منٹ کا چارج کرتے رہے، خُدا کی پناہ۔ اب آج نیوز کو پینتالیس ہزار روپے دیے جائینگے۔

اب تک کے مالکان چونکہ پی بی اے کے ممبر تھے لہذا اُنھوں نے حکومت کو ایک منٹ کا دو لاکھ پینتالیس لاکھ چارج کیا، اب صرف پینتیس ہزار
– کیپیٹل ٹی وی پر ن لیگی حکومت کی خاص نوازشات رہیں، کیپیٹل ٹی وی حکُومت سے دو لاکھ دس ہزار چارج کیا، نیا ریٹ پچیس ہزار پر منٹ ہونگے۔

سٹی 42 ایک لوکل ایک شہر کا چینل ہے لیکن وہ بھی کسی سے پیچھے نہیں رہے اور ایک منٹ کا دو لاکھ دس ہزار چارج کرتے رہے، اب اسکا ریٹ پندرہ ہزار پر منٹ ہو گا۔

رائل نیوز جسکی ریٹنگز ناں ہونے کے برابر ایک منٹ کا ایک لاکھ پچھتر ہزار چارج کرتے رہے اب اُنکا ایک منٹ صرف پانچ ہزار رُوپے ہو گا۔
ایک اور مُضحکہ خیز ریٹ روز نیوز چارج کرتا رہا، جو ایک منٹ کے دو لاکھ پنتالیس ہزار بٹورتے رہے، لیکن اب صرف پانچ ہزار دیے جائینگے۔
سماء نیوز دو لاکھ پنتالیس ہزار سے پچاسی ہزار پر منٹ پر آ گیا، جو اُسکی ریٹنگز سے ابھی بھی زیادہ ہے۔

سیون نیوز کی بھی ویورشپ ناں ہونے کے برابر لیکن وہ بھی دو لاکھ اٹھائیس ہزار چارج کرتے رہے، اب صرف بارہ ہزار

باقی چینلز کی رپورٹ درج ذیل ہے

لیکن ان نئے ریٹس کے باوجود کُچھ چیزوں کا خیال رکھنا بہت ضروری ہے
تمام چینلز حکومتی اشتہارات کو ایک اشتہار کیساتھ ایک، دو یا تین اشتہارات فری دیے جاتے تھے، اب بھی وہ پالیسی جاری رہنی چاہیے۔
ابھی بھی تقریبا تمام چینلز حکومت سے کمرشل کلائینٹس سے زیادہ چارج کرُرہے ہیں۔
اسکو مُستقبل میں کنٹرول کرنیکی ضرورت ہے۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here