اکتالیس سالہ امریکی ماریہ سے شادی کرنیوالے اکیس سالہ کاشف علی کا خیالی انٹرویو

0
455

اکتالیس سالہ امریکی ماریہ سے شادی کرنیوالے اکیس سالہ کاشف علی کا خیالی انٹرویو

ہیلو کاشف، کیسے ہو؟
میری تو ابھی نیند پوری نہیں ہو رہی، خوشی سے نڈھال ہوں، لیکن حیرانگی اس بات کی ہے مُجھ سے زیادہ اہلیان سیالکوٹ بلکہ اہلیان پاکستان خُوش ہیں۔

اس شادی کیبعد کیسا محسوس کر رہے ہو؟
سر جی میری تو ابھی شادی والی عُمر بھی نہیں تھی، لیکن خوشی ہے کے ماریہ کہتی ہے کے اُس کی بھی اب شادی والی عُمر نہیں تھی۔

کاشف تُم نے ماریہ کو کیسا پایا؟ بطور بیوی؟
مُجھے تو خاوند ہونے کا پہلا تجُربہ ہے، لیکن ماریہ سے پوچھنا پڑیگا کے اُس نے دوسروں کے مُقابلے میں مُجھے بطور خاوند کیسا پایا۔

کاشف، تُم نے ماریہ کا دل کیسے جیتا؟
سر میں نے تو کبھی لُڈّو کی گیم نہیں جیتی تھی، میں نے تقریباً دس گوریوں کو فرینڈ ریکویسٹ بھیجی تھی، لیکن واحد ماریہ تھی جس نے عزت بخشی – میں سمجھ گیا کے یہ کوئی معمُولی خاتون نہیں۔

کاشف تُم امریکیوں کے بارے میں کیا جانتے ہو۔
میں زیادہ نہیں جانتا تھا، دوست ملکر چھُپ چھُپ کر امریکی فلمیں دیکھتے تھے، تب ہی امریکی مُعاشرے کے مُتعلق جاننے کا موقع ملا، ایک دفعہ ابا سے مار بھی پڑی لیکن آج ابا بہت خوش ہے۔

کاشف تُمہارے مستقبل کے پلان؟
میں تو کہتا ہوں دن سے رات ناں ہو، اور میں امریکہ چلا جاؤں، میری کوشش ہو گی ماریہ جلد سے جلد اپنے مُلک لوٹ جائے، اور میرا پیپر ورک شُروع ہو۔ سر جی ڈالرز اور بیوی دونوں ایک ساتھ ملنا کوئی عام بات نہیں

کاشف اس عُمر کے فرق کو کیا سمجھتے ہو؟ کوئی شکوہ؟
سر جی یقین کریں، تین دن ہو گئے، پتا ہی نہیں چلا، کے عُمر کا فرق بھی کوئی چیز ہوتی ہے، ایک جہد مُسلسل ہے، میں تو لوگوں سے یہی کہوں گا کے عُمر کے فرق کا یہ فائدہ ہے کے خاوند کیساتھ ساتھ آپ کے اندر کا بچہ بھی زندہ رہتا ہے۔

پاکستان کے نوجوانوں کیلیے کوئی پیغام
دُنیا میں شارٹ کٹ کے جو مزے ہیں وہ کسی اور کام میں نہیں، پڑھائی ناں کرنے پر ماڑ پڑتی تھی، بے روزگاری نے ڈیرے ڈالے ہوئے تھے، نکھٹو کے طعنے سُن سُن کر تنگ آ چُکا تھا، بھلا ہو مارک زُکربرگ کا جس نے انسٹاگرام کی سُہولت دی، جسکی بدولت آج میں خود کفیل ہو گیا ہوں۔

ماریہ کو نئے پاکستان کے بارے میں کُچھ پتا ہے؟
وہ پُرانے امریکہ کے بارے میں کُچھ نہیں جانتی، نئے پاکستان کے متعلق کیا جاننا، ہاں ماریہ کا کہنا تھا کے اُس کے بڑے بھائی عمران خان کے کلاس فیلو رہ چُکے ہیں۔

 

یہ تحریر مزاح کے پیرائے میں لکھی گئی، کسی کی دل آزاری بالکُل مقصود نہیں تھی۔

** A ‘satire’ article by Imran Malik

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here