کیا ہاکس کے آگے بے بس میاں شہباز شریف مُسلم لیگ ن کی قیادت کامیابی سےنبھا سکتے ہیں؟

0
1407

آپ اسلام آباد احتجاج میں کیوں نہیں پہنچے؟ موسم ایک بہانہ تھا، آپ نہیں چاہتے تھے کے احتجاج کے ذریعے آپ کا نام مقتدر اداروں تک کسی منفی طریقے سے جائے، نواز شریف نے پارٹی بنائی، شہباز شریف نے تباہ کر دی، جو حال زرداری نے بھٹو کی پارٹی کا کیا، وہی حال شہباز شریف نے نواز شریف کی ن لیگ کا کر دیا۔ یہ وہ سوالات ہیں جو سوشل میڈیا پر مریم نواز کی سوشل میڈیا ٹیم نے شہباز شریف سے کیے اور احتجاج ریکارڈ کروایا۔ پچھلے چند دنوں سے کوئی ایک دن بھی ایسا نہیں جب شہباز شریف پر تنقید کے نشتر ناں چلتے ہوں۔

شہباز شریف کی سوشل میڈیا ٹیم کے اہم رُکن ابو بکر عُمر نے بھی اس تاثر کو سوشل میڈیا پر زائل کرنیکی بہت کوشش کی لیکن وہ اکثریتی مریم نواز کی سوشل میڈیا ٹیم کی یلغار کو ناں روک سکے۔ شہباز شریف کے نواز شریف اور مریم کے ائیر پورٹ استقبال پر ائیر پورٹ پر ناں پہنچنے سے جو تنقید شُروع ہوئی وہ اپوزیشن پارٹیز کے احتجاج میں ناں پہنچنے پر بام عروج پر پہنچ چُکی۔
مسئلہ یہ ہے کے لیگی ہاکس چاہتے ہیں کے ہر احتجاج میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا جائے اور دبا کر اداروں کی تذلیل کی جائے، اس گروپ کی قیادت احسن اقبال کے ہاتھ میں اور مریم اورنگزیب کیساتھ ساتھ خرم دستگیر، طلال چوھدری، سعد رفیق،

جاوید لطیف بڑے زور و شور سے اداروں پر دھاندھلی کے الزامات لگا رہے ہیں  دوسری طرف شہباز شریف دھیمے لہجے میں پارلیمینٹ میں احتجاج کو زیادہ فوقیت دے رہے ہیں۔ کل شہباز شریف جب میاں نواز شریف سے جیل میں مُلاقات کر کے واپس آئے تو اُن کے لہجے میں تلخی نُمایاں تھی، جانتے ہوئے کے وہ پنجاب سے جیتے ہیں اور اچھی خاصی نشستوں پر کامیابی حاصل کی ہے، وہ پھر الیکشن کمیشن اور دیگر اداروں کو مورد الزام ٹھرا رہے تھے،

صاف نظر آ رہا تھا کے لیگی ہاکس ابھی بھی ہار ماننے کو تیار نہیں، اُنھیں دُکھ اس بات کا زیادہ ہے کے میاں نواز شریف کیبعد مریم نواز بھی اسمبلی میں ناں پہنچ سکیں۔ مریم اورنگزیب کی اب تک کی میڈیا ٹاکس اس کا کُھلا ثبُوت ہے۔ چونکہ سب جانتے ہیں کے مریم اورنگزیب ہی میاں نواز شریف اور مریم نواز کی ترجُمان ہیں تو اُنکے میڈیا پر بیانات دراصل مریم نواز کے دماغ میں کیا ہے اُس کی عکاسی کرتے ہیں۔

مُشاھد اللہ خان، رانا ثنااللہ اور پرویز رشید بھی اداروں پر الزامات لگانے کا کوئی بہانہ ہاتھ سے نہیں جانے دیتے، اور میاں نواز شریف کیا چاہتے ہیں اُنکی میڈیا ٹاکس میں واضح پیغام ہوتا ہے کے میاں صاحب کیا چاہتے ہیں۔

لیکن میاں شہباز شریف جب بھی اداروں کے ساتھ کسی ورکنگ ریلیشن شپ میں آتے ہیں تو یہ ہاکس گروپ اُنکی طرف سے کی ہوئی تمام محنت پر پانی پھیر جاتی ہے۔ پہلے یہ کام جلسوں کے ذریعے مریم نواز اور میاں نواز شریف کرتے تھے اوراب اسکا جھنڈا احسن اقبال، پرویز رشید اور مُشاھد اللہ خان تھامے ہوئے ہیں۔

شہباز شریف کو جہاں تک میں جانتا ہوں بالکُل نہیں چاہیں گے کے ن لیگ کی الیکشن میں کامیابی کو مُسترد سیاستدانوں مولانا فضل الرحمن اور اچکزئی کی جھولی میں ڈال دیا جائے، آنکھیں بند کر کے من و عن اُنکی باتوں پر عمل کیا جائے، میاں شہباز شریف یہ بھی چاہتے ہیں کے مُسلم لیگ ن کی اکثریت کو اپوزیشن اپنے ذاتی ایجنڈے کیلیے استعمال ناں کر لے۔

مُسلم لیگ ن کی ایک اپنی الگ شناخت اُسکو ہاکس کے ہاتھوں داغدار نہیں کر سکتے۔ لیکن شہباز شریف کیلیے یہ کسی چیلنج سے کم نہیں، شہباز شریف کو سوچنا ہو گا کے اُنھوں نے ٹکراؤ کی سیاست کو آگے بڑھانا ہے یا اپنی مدبرانہ قیادت سے مُسلم لیگ ن کو مُشکل حالات سے نکالنا ہے۔ گو کے ابھی تک وہ بحثیت صدر مُسلم لیگ ن آزادانہ فیصلے نہیں کر سکے، اور ہر گُزرتے دن کیساتھ ہاکس غالب ہوتے جا رہے ہیں۔ ان حالات میں شہباز شریف کیلیے مُسلم لیگ ن کی پارٹی صدارت اور اپوزیشن لیڈر بنکر معاملات خوش اسلوبی سے چلانا کوئی آسان کام نہیں ہو گا۔

تحریر : عمران ملک

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here