چار سال تک نواز شریف کی سزا اور عمران کی احتجاجی سیاست پر ٹاک شوز کرنیوالے اینکرز اب کیا کریں؟

0
2325

پاکستان میڈیا کیلیے پچھلے چار سال بھر پور سال تھے، میاں نواز شریف کا پانامہ کا اسکینڈل ہو یا عمران خان کی دھرنا سیاست پاکستانی اینکرز کو ایک دن بھی بوریت محسُوس نہیں ہوئی پھر نیوز چینلز کو کڑوروں کے اشتہارات بھی ملتے رہے، پاکستانی نیوز چینلز اصل میں لوگوں کیلیے کسی اینٹرٹینمینٹ سے کم نہیں تھے۔
مُسلم لیگ ن، پی ٹی آئی اور پیپلز پارٹی کے سیاستدان میڈیا سکرینز کی عزت رہے اور اختلافی سیاست کو بام عروج تک پہنچایا۔ لوگ ان ٹاک شوز کے دلدادہ تھے، اور بہت تو ان ٹاک شوز کیوجہ سے ذہنی مریض بن گئے۔

مُختلف بیک گراؤنڈز کے صحافی اپنے مخصوص ایجنڈا ز کو لیکر آگے چلتے رہے لیکن عوام کی سمجھ بُوجھ کی صلاحیت بہت پیچھے رہ گئی،

اسی کُچھ عرصہ میں سوشل میڈیا نے سر اُٹھایا اور بہت تیزی کیساتھ ایک متوازی ستون بغیر کسی بُنیاد کے کھڑا ہو گیا جس نے روایتی میڈیا کو بہت پیچھے چھوڑ دیا۔

ہمارے مُلک میں جب چینلز کو سیلاب آیا اُسوقت بھی کوئی ٹریننگ ناں ہوئی، اخباری رپورٹرز ٹی وی رپورٹرز بن گئے اور ایک خبر کو اخباری خبر کے انداز میں پیش کیا جانے لگا۔

ٹی وی اینکرز کو سنبھلتے سنبھلتے سالہا سال لگ گئے لیکن ابھی بھی ہم اسمیں وہ کامیابی حاصل نہیں کر سکے جو ترقی یافتہ مُمالک کا خاصا ہے۔
پھر پرائم ٹائم کو سات سے رات بڑھا دیا گیا جس نے ہمارے اینکرز کے معیار کو مزید گرا دیا۔ نیوز کاسٹر کو اینکرز میں پروموٹ کر دیا گیا۔
اور ٹاک شوز دراصل ایک ماڈریٹر شو بن گیا-
اسلام علیکُم کہنے کیبعد آئیے آج کے مہمانان سے ملتے ہیں، اور پھر مہمانوں کی گرما گرم گُفتگُو۔ شو ختم پیسے ہضم۔

بھلا ہو پانامہ کا اور عمران خان کی احتجاجی سیاست کا، کے اینکرز کی کمزوریاں پچھلے چار سال چُھپی رہیں۔

اب چونکہ میاں نواز شریف جیل جا چُکے، اور عمران خان وزیراعظم بن چُکے۔ تو اب کس مسئلے پر گُفتگو کی جائے، پرائم ٹائم کے چار گھنٹے کیسے بھرے جائیں؟
اب حال یہ ہے کے فیاض الحسن چوہان پر پرائم ٹائم کے پروگرام کیے جا رہے ہیں، سب ناظرین جانتے ہیں کے فیاض الحسن چوہان کو اپنی زُبان پر کنٹرول نہیں، اور اگر اب مُفت میں وزارت مل جائے تو عقل کا ماقوف ہو جانا کوئی اچنبھے کی بات نہیں لیکن سماء کے نیوز اینکر ذیشان خان کو بھی یقین نہیں آ رہا کے وہ اینکر بن چُکے، وہ سمجھے کے شاید منفی سوالات ہی ریٹنگز لائینگے اُنھیں سمجھنا ہو گا کے لوگوں کو مُثبت سوالات ہی مُتاثر کرتے ہیں ناں کے اُنکے جزبات کی رو میں بہہ جانیوالے سوالات

پاکستان کے مسائل کو سمجھنا ہو گا، عوام کو دن رات کن مشُکلات کا سامنا کرنا پرتا ہے؟ صحت کے مسائل کیا ہیں، تعلیم کے مسائل کیا ہیں، کیا کیا جائے کے حکومت کو کوئی کام کی معلومات فراہم کی جائے،

وزراء کو بُلایا جائے اور اُنکی ترجیحات کا تعین کیا جائے، ہر تین ماہ کی رپورٹ لی جائے، آگے بڑھا جائے ناں کے تاریک راہوں میں خوابوں کو پھینک دیے جائیں

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here