عمران خان کی سردار عُثمان بُزدار والی یارکر مُخالفین کیلیے فُل ٹاس ناں ثابت ہو جائے! سلیکشن کے مُتعلق مُختلف تھیوریاں؟

0
475

حامد میر سے کامران خان، محمد مالک سے رؤف کلاسرہ تک، تمام عمران خان کی سی ایم پنجاب کی نامزدگی پر حیران
عمران خان نے وزیراعظم بننا ہے یہ تو سب کو روز اوّل سے پتا تھا لیکن پنجاب میں دس سال تک اپنا لوہا منوانے والے شہباز شریف کے مُقابلے پر وزیراعلی پنجاب کی سلیکشن سب سے اہم تھی، لیکن کل سے عُثمان بُذدار کی سلیکشن پر میڈیا کیساتھ ساتھ پی ٹی آئی کی اپنی ٹیم بھی پریشان ہے۔

حامد میر کہہ رہے تھے کے عمران خان کی متوقع کابینہ کے ارکان بھی پوچھ رہے تھے کے یہ لعل عُثمان بُزدار کہاں سے ٹپک پڑا، یہ مُسلم لیگ ن کیلیے کسی تر نوالہ سے کم ثابت نہیں ہو گا۔ پنجاب کی بُنیاد پر ہی مُسلم لیگ ن نے 2103 اور 2018 کے الیکشن میں کامیابی سمیٹی اب اگر پنجاب کی قیادت کسی کمزور کے سُپرد کر دی گئی تو اگلے الیکشن تک پنجاب میں پی ٹی آئی کی پوزیشن کمزور ہو سکتی ہے۔

اس سب سے بڑا چیلنج پنجاب کے مُعاملات کو کامیابی سے چلانا ہے اور عُثمان کا ایک یونین کونسل چلانے کا ہی تجربہ ہے۔

بعض لوگوں کا خیال ہے کے یہ ڈمی وزیراعلی ہیں اصل معاملات جہانگیر ترین کے ہاتھ میں ہونگے، اگر اس فارمولے پرعمل ہوا تو اپوزیشن اور میڈیا کی طرف سے ٹف ٹائم ملیگا، مشکلات اُلٹی عمران خان کی بڑھیں گی۔

ایک تھیوری یہ کے سُپریم کورٹ سے جہانگیر ترین کو الیکشن لڑنے کی اجازت مل جائیگی، اور ضمنی الیکشن لڑ کر وزیر اعلی بن جائیں گے۔ لیکن یہ تھیوری حقیقت سے کوسوں دُور، اور اسکو اتنی آسانی سے عملی جامہ نہیں پہنایا جا سکتا۔

ایک اور تھیوری یہ کے شاہ محمود قریشی پنجاب میں بیٹھیں گے اور بُذدار کے تھرو پی ٹی آئی کی حکُومت چلائینگے۔

تھیوری جتنی بھی ہیں یہ بات ماننی پڑیگی کے پنجاب جیسے بڑے صُوبے کیلیے سردار عُثمان بُزدار واقعی ایک کمزور شخصیت ہیں اور شاید عمران خان کی یارکر مُخالفین کیلیے ایک فُل ٹاس ناں ثابت ہو جائے۔

ایک اور تھیوری یہ کے اب چونکہ سرائیکی علاقے سے وزیراعلی بنا دیا گیا ہے تو اب سرائیکی صُوبے کا شور تھوڑی دیر کیلیے دب جائیگا۔ اور سرائیکی علاقے سے جیتنے والے اب شاید عمران خان کو پریشر میں ناں لا سکیں

 

تجزیہ: عمران ملک

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here