بلاو ل بٌھٹو کا کا میاب کاروان جمہوریت! دیر آید: درُست آید یا غلط آید؟

0
1443

بلاول بھٹو زرداری الیکشن کمپین کے سلسلے میں پچھلے ایک ہفتہ سے پنجاب کے مختلف اضلاع میں کاروان جمہوریت کے نام سے ریلیاں نکال رہے ہیں ۔ حیرانی طور پر ریلیاں بہت کامیاب بھی رہیں ۔ جیالے ایک دفعہ پھر متحرک ہو گئے ۔ ان میں ایک نئی روح پھونک گئی ۔
بلاول کی ریلیاں ان اضلاع میں رکھی گئیں جہاں پیپلز پارٹی کے پرانے اور مقبول لیڈر الیکشن لڑ رہے ہیں ۔ راولپنڈی ، گجر خان ، اسلام آباد ، سرگودھا، منڈی بہاؤالدین، لاہور جڑانوالہ ، فیصل آباد، چنیوٹ ، گوجرہ، گجرات، جہلم ، حسن ابدال ، فتح جنگ میں انکی ریلیوں کو شاندار پذیرائی ملی۔
عوام کی ان ریلیوں میں شرکت نے ثابت کر دیا ہے کہ پیپلز پارٹی ابھی بھی عوام میں اپنی جڑیں رکھتی ہے۔ بس ذرا ایک اچھی قیادت کی ضرورت ہے جو بلاول بھٹو زرداری کی شکل میں انھیں مل چکا ہے بلاول بھٹو زرداری نے جس تیزی کے ساتھ سیاست کے امور سیکھے ہیں وہ واقعی لاثانی ہیں۔


انکی شخصیت میں ٹھہراؤ آگیا ہے میڈیا کو ہینڈل کیسے کرنا ہے وہ یہ گر بھی جان گئے کہ کس سوال کا جواب دینا ہے اور کس سوال کو پاس کرنا ہے وہ یہ فن بھی سیکھ گئے۔

شہروں اور روٹ کا چناؤ

پی پی پی پنجاب نے کاروان جمہوریت کیلئے جی ٹی روڈ لاہور اور اس سے لنک بڑی شاہراؤں کا انتخاب کرکے بڑی ذہانت کا ثبوت دیا۔
عوام نے گھنٹوں انتظار کیا اور بلاول کی تقاریر کو غور سے سنا بھی ۔ یہ پولیٹیکل مضامین کے طالبعلموں کیلئے ایک کیس سٹڈی سے کم نہیں۔

جوش وولولہ

حیران کن طور پر اگر آپ بلاول بھٹو کی ریلیوں کا تقابلی جائزہ لیں تو سندھ کے مقابلے میں پنجاب کی ریلیوں میں کارکنان کا جذبہ دیدنی تھا ۔ اور لوگوں کی تعداد بھی قابل ستائش تھی ۔ لاہور اور قصور میں لوگوں نے گھنٹوں بلاول کا انتظار کیا اور رات گئے تک سڑکوں پر موجود رہے ۔
قصور کی ریلی رات دو بجے تھی اور ایسے لگ رہا تھا کہ شائد سارا قصور بلاول کو خوش آمدید کہنے سڑکوں پر امڈ آیا ہے ۔

خطرے کی گھنٹی 

بلا شبہ بلاول بھٹو نے اپنے مخالفین کیلئے سیاست میں خطرے کی گھنٹی بجا دی ہے۔
بلاول کو نان سیریس اور ہلکا لینے والے بلاول کی تقریروں اور سیریس کانفرنسز کو سنتے ہوئے ششدرہ جاتے ہیں ۔ اور یہ تبدیلی پچھلے چند ہفتوں میں ہی واقع ہوئی ہے ۔ بلاول بھٹو کیلئے یہ پہلا الیکشن کارواں تھا اور بلاشبہ وہ سو فیصد اس چیلنج میں بڑی کامیابی کیساتھ سرخ رو ہوئے ہیں ۔

اب دیکھنا یہ ہے ان ریلیوں کے اثرات کیا پچیس جولائی کو پولنگ بوتھ تک بھی پہنچ پائیں گی یا نہیں ۔

Analysis By: IMRAN MALIK

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here