مشاہد حسین اور حسین حقانی جیسے لوگ سب سیاستدانوں کی کمزوری کیوں بن جاتے ہیں؟ رؤف کلاسرہ کا تجزیہ

0
1322

کبھی ہم نے سوچا مشاہد حسین اور حسین حقانی جیسے لوگ جنرل ضیائ‘ جنرل مشرف‘ بے نظیربھٹو ‘نواز شریف اور آصف زرداری تک‘ سب کی کمزوری کیوں بن جاتے ہیں؟ آخر ان کے پاس ایسی کون سی’ گیدڑ سنگھی‘ ہے کہ سب کو ان کی ضرورت پڑتی ہے۔ ہماری ان دونوں پر تنقید اپنی جگہ ‘لیکن یہ ذہن میں رکھیں کہ یہ انتہائی ذہین لوگ ہیں‘ گھاٹ گھاٹ کا پانی پیا ہوتا ہے۔ مان لیتے ہیں نواز شریف زیادہ ذہین نہیں لہٰذا وہ جلدی متاثر ہوجاتے ہوں‘ لیکن بینظیر بھٹو بہت ذہین تھیں ‘ وہ آسانی سے چکر میں آنے والی نہیں تھیں ۔ وہ بھی حسین حقانی کی مداح تھیں۔ حسین حقانی جنرل ضیاء سے شروع ہوئے۔ ان کے جنازے پر رو رو کر کمنٹری کرتے رہے۔ وہاں سے انہیں سیکرٹ ایجنسی نے اٹھایا‘ ایسا ہیرا کہاں پی ٹی وی پر بیٹھا اکیلا رو رہا ہے‘ یہ تو بڑے کارناموں کے لیے پیدا ہوا ہے۔ بے نظیر بھٹو کو روکنے کے لیے ان کے خلاف ایسی الیکشن کمپین تشکیل دی کہ جنرل حمید گل تک اش اش کراُٹھے۔ بے نظیر بھٹو نے فرمائش کی کہ یہ کوہ ِنور ہیرا تو ہمارے تاج میں ہونا چاہیے۔ حقانی نے بے نظیر بھٹو کی قربت کے لیے ناہید خان کی بہن سے شادی کر لی۔ ضرورت نہ رہی تو چھوڑ دیا۔ بے نظیر بھٹو کی ایک اور قریبی فرح اصفہانی سے شادی کر لی۔ جنرل مشرف آئے تو رسم نبھانے کی کوشش کی ۔ جنرل مشرف تو مان گئے تھے‘ لیکن کسی دل جلے نے رنگ میں بھنگ ڈال دیا۔ امریکہ نکل گئے ۔

دو ہزار آٹھ کے الیکشن کے بعد پاکستان تشریف لائے تو ‘بادشاہ‘ زرداری کے ‘ بیربل‘ بن گئے۔ زرداری بھی ان کی بلائیں لیتے نہیں تھکتے تھے۔ امریکہ میں سفیر لگے۔ ملین ڈالرز کے سیکرٹ فنڈ کا آج تک پتہ نہیں چلا کہ کون کھا گیا۔ اب بیچ چوراہے ہنڈیا پھوٹی ہے جب زرداری نے فرمایا کہ جتنا حقانی کا استعمال کرنا تھا کر لیا ِوہ اب بیکار ہیں۔ ان معاملات میں ذاتی انا اور کردار نہیں مفادات کو دیکھا جاتا ہے‘ پھر حقانی کی ضرورت پڑگئی تو ادائیگی کر کے خدمات خرید لیں گے۔ حقانی بھی فوراً خدمات پیش کر دیں گے ۔
یہی مشاہد حسین کا حال ہے۔ وہ بھی صحافت سے نواز شریف کے قریب گئے۔ قہقہوں کی برسات میں نواز شریف کو سیاست اور میڈیا ہینڈل کرنے کے گُر سمجھائے۔ تکیہ کلام تھا :میاں صاحب کڑاکے کڈھ دیو۔ بھولے میاں صاحب سنجیدہ ہوگئے۔ الٹا اپنے کڑاکے نکلوا بیٹھے۔ جنرل مشرف کو بتایا گیا کہ نواز شریف تو چلا گیا کوہ نور ہیرا تو آپ نے گھر میں قید کررکھا ہے۔ قیدی کو دربار حاضر کیا گیا۔ جنرل مشرف سے چوہدریوں نے اُچک لیا ۔ چوہدریوں اور مشرف کا سورج غروب ہوتے ہی نواز شریف نے اپنا گمشدہ کوہ نور ہیرا واپس لے لیا۔ بات پھر وہی کہ حسین حقانی اور مشاہد حسین جیسے کیا کرتب دکھاتے ہیں کہ ہر سیاست دان کے قریب ہوتے ہیں؟


جو میں سمجھ سکا ہوں یہ ہے کہ یہ لوگ سیاستدانوں کو سپِن کرنا سکھاتے ہیں اور انہیں عام انگلش زبان میں سپِن ڈاکٹر کہا جاتا ہے۔ بات کو گھما کر کرنے کا انداز‘ سچ کو جھوٹ اور جھوٹ کو سچ بنادینے کاگُر ‘ سکینڈل آگیا ہے تو سنبھالنا کیسے ہے‘ غلط بات لیڈر کے منہ سے نکل گئی ہے تو کیا کرنا ہے‘ لیڈر رنگے ہاتھوں پکڑا جائے تو عوام کی آنکھوں میں دھول کیسے جھونکنی ہے؟ اسے کہتے ہیں’ سپِن ڈاکٹر‘ جس فن میں ان دونوں کو بہت مہارت ہے۔ ایسے لوگ لیڈروں کی مجبوری ہوتے ہیں ۔ وہ انہیں ہر لمحہ اہم مواقع پر گائیڈ کرتے رہتے ہیں کہ کس موقع پر کیا کہنا اور کس سوال کا کیا جواب دینا ہے یا میڈیا حکمت عملی کیا ہونی چاہیے۔ کس صحافی کو نام سے بلانا ہے‘ کس کا نام بھول جانے کی اداکاری کرنی ہے‘ کس کو وزیراعظم ہاؤس کافی پر بلانا ہے ‘ کس کو خود فون کرنا ہے اور کس کو سیکرٹری کے ذریعے پیغام بھیجوانا ہے‘ کس صحافی کے بچے کی برتھ ڈے پر کیک بھیجنا ہے ‘ کون سیکرٹ فنڈز کا حقدار ہے‘ کسے نظرانداز کرنا ہے اور کس کو گھوری ڈالنی ہے ‘کیسے صحافیوں کو رام کرنا ہے‘ کس کو جہاز میں بٹھا کر بیرون ملک دورے پر لے جانا ہے ‘کس صحافی سے کب اور کون سا پلانٹڈ سوال وزیراعظم یا اپوزیشن لیڈرز سے پوچھوانا ہے‘ کس منہ زور صحافی پر ضرورت پڑے تو سختی کرانی ہے‘ میڈیا ہائوسز کے مالکان کو کیسے ہینڈل کرنا ہے۔
یہ سب گُر زیادہ تر میڈیا ہینڈلنگ کے لیے رکھے جاتے ہیں۔ ایسے لوگوں کی ضرورت ہر سیاستدان کو رہتی ہے۔ تاہم لگتا ہے کہ عمران خان کو کسی سیانے نے سمجھانے کی کوشش نہیں کی کہ جہاں انہیں کرپٹ الیکٹ ایبلز کی ضرورت ہے وہاںانہیں حسین حقانی اور مشاہد حسین جیسے سپن ڈاکٹرز بھی چاہئیں۔ اب آپ کہیں گے کہ جناب پھر آپ لوگ ہی اعتراض کرتے ہیں کہ حسین حقانی اور مشاہد حسین کو کیوں رکھ لیا‘تو جناب جب ہم نے درجنوں کرپٹ سیاستدانوں پر اعتراض کیا تو کون سا خان صاحب یا حامیوں نے بات مان لی‘ الٹا ہزاروں تاویلیں گھڑ لیں۔ تو وہی تاویلیں حقانی اور مشاہد حسین کے وقت بھی گھڑ لیتے۔


آپ کہیں گے کہ اچانک مجھے مشاہد حسین اور حسین حقانی کہاں سے یاد آگئے؟
عمران خان پانچ سال اچھی اپوزیشن کرتے ہیں لیکن جونہی الیکشن قریب آتے ہیں ، ان پر سیاسی خودکشی کا دورہ پڑجاتا ہے اور وہ پوری کوشش کرتے ہیں کہ الیکشن ہار جائیں۔ مشاہد حسین اور حقانی جیسے سمجھدار مشیر عمران جیسے لیڈر کو سمجھاتے رہتے ہیں کہ کب کس کو انٹرویو دینا ہے اور کتنی بات کرنی ہے‘ کس سوال کا کیا جواب دینا ہے۔ یوں منہ سے غیرضروری باتیں نہیں نکلتیں ۔ جب نواز شریف کے پاس مشاہد اور حقانی جیسے گرو نہ رہے تو انہوں نے پرچی جیب میں رکھ لی۔ ہم لوگوں نے ان کا مذاق بنا لیا ۔ مان لیا عمران اچھی گفتگو کر لیتا ہے‘ اسے پرچی کی ضرورت نہیں پڑتی‘ یوں عمران خان نے بغیر پرچی پانچ سال قبل اینکر دوست کامران شاہد کو دنیا ٹی وی پر انٹرویو دیا جو ان کی وزارت عظمیٰ لے بیٹھا ۔ فرمایا کہ وہ وزیراعظم بن گئے تو امریکی ڈرون گرا دیں گے‘ سب ڈر گئے۔ اب پانچ سال بعد پھر چانس بن رہا ہے تو سیاسی خودکشی کا شوق دوبارہ چڑھ گیا ہے۔ اعتماد آسمان کو چھو رہا ہے‘ اپنے تئیں وہ اب وزیراعظم بن چکے‘ بس دو ماہ کی بات ہے؛ لہٰذا احتیاط کی ضرورت نہیں ہے۔ یوں الیکشن کے دنوں میں زلفی بخاری والا ایسا کام کیا ہے جو گلے میں پڑ چکا ہے۔ ایک جھوٹ نبھانے کے لیے کئی بولنے پڑگئے ہیں۔

عمران خان کے قریبی دوستوں کا کہنا ہے کہ عمران کو چارٹرڈ جہاز پر عمرہ نہیں کرنا چاہیے تھے۔ میں نے ان سے کہا کہ مشاہد یا حقانی جیسے سمجھدار عمران کے مشیر ہوتے تو وہ زلفی بخاری کو سیاسی طور پر عمران خان کے لیے استعمال کرتے‘ یہاں الٹا ہوا ۔ کل کے بچے زلفی بخاری نے عمران خان کو اپنی ذات کے لیے استعمال کر لیا ۔ جونہی پتہ چلتا کہ زلفی کا نام ای سی ایل پر ہے تو عمران سے وہ کہتے کہ زلفی کو کہو بیٹا آپ واپس جائو‘ اپنا نام کلیئرکرائو‘کل پرسوں آجانا ۔ یہ خبر خود میڈیا کو لیک کرتے کہ عمران خان نے قانون کی خاطر اپنے ذاتی دوست کو ائیر پورٹ سے واپس بھیج دیا۔ شام تک سب ٹی وی چینلز اور اینکرز عمران خان کے نعرے مار رہے ہوتے اور دس لاکھ ووٹ بڑھ چکے ہوتے۔ لیکن جیسا کہ میں نے کہا ،عمران خان کا الیکشن قریب آتے ہی سیاسی خودکشی کرنے کو دل کرتا ہے‘ اب اس کا علاج نہ حکیم لقمان کے پاس تھا اور نہ ہی حسین حقانی اور مشاہد حسین کے پاس ہے ۔ عمران نے کرپٹ الیکٹ ایبلز تو بھرتی کرلیے‘ کام کا ایک بھی سپن ڈاکٹر نہ رکھا جو خوشامدکی بجائے انہیں نقصان ہونے سے بچاتا یا پھر نقصان ہونے کے بعد معاملات سنبھالتا ۔


یہی وجہ ہے جنرل ضیاء سے جنرل مشرف‘ بے نظیر بھٹو‘ نواز شریف اور زرداری تک حسین حقانی اور مشاہد حسین سب کے لاڈلے ہوتے ہیں‘ جبکہ تحریک انصاف سے ہر ماہ لاکھوں روپے بٹورنے والی یہ سوشل میڈیا ٹیمیں‘ ان کے تنخواہ دار نیم خواندہ ملازمین‘ نت نئی نئی گالیاں ایجاد کرکے دو نمبری اور جعل سازی میں مہارت تو حاصل کرسکتے ہیں لیکن سپِن ڈاکٹرز نہیں بن سکتے ‘جس کی عمران خان کو سخت ضرورت ہے۔
عمران پر ایک دفعہ پھر سیاسی خودکشی کا دورہ پڑا ہوا ہے۔۔وہ بھی اس وقت جب الیکشن میں دن صرف تیس بچے ہیں

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here