عٌمار شاہ: قصور کے ایک حلقے کے بڑے اور تگڑے اُمیدواروں کے مُقابلے میں ایک چھوٹا لیکن دبنگ اُمیدوار

0
288

عمٌار شاہ کے الیکشن لڑنے کے اعلان پر معروف اینکر، کالمسٹ رؤف کلاسرہ کا مکھڑا

ہمارا دوست اور بھائی عمار کاظمی الیکشن لڑ رہا ہے۔۔ ان کی اپنی ایک تحریر ۔ شاہ جی مجھے پسند ہیں ۔ میرے جیسا مزاج پایا ہے بلکہ مجھ سے بھی چار ہاتھ اگے ہیں. لیکن ان کا جارحانہ اور کھلا ڈلا انداز اپن کو بھی پسند ہے۔ شاہ جی منافق نہیں۔ جو دل میں ہے وہی زبان پر۔ ان کے حلقے میں ہوتا تو شاہ جی کو ضرور ووٹ دیتا چاہے وہ ہمارے صوبے کے سخت خلاف ہیں۔۔۔۔
شاہ جی کی جیت کے لیے دعا گو—

میرے مقابل تینوں امیدوار بہت تگڑے ہیں اور مالی حیثیت کے اعتبار سے تینوں سے میرے دور دور تک کا کوئی مقابلہ نہیں۔ پہلے دو امیدوار رانا اسحاق اور سرداار آصف نکئی پہلے دو دو بار ایم این اے رہ چکے ہیں جبکہ تیرے امیدوار ڈااکٹر عظیم الدین لکھوی صاحب کے والد جناب مولانا معین الدین لکھوی صاحب بھی اسی حلقہ سے دو بار ایم این اے منتخب ہوئے تھے۔ گزشتہ ضمنی اوع عام انتخابات میں ڈاکٹر عظیم الدین لکھوی صاحب ایک بار تین سو اور دوسری بار محض سو ووٹوں سے الیکشن ہارے تھے۔ فیورٹ سمجھے جانے والے امیدوار مسلم لیگ نواز کے جناب رانا اسحاق ہیں جن پر نیب میں 60 ارب روپے کی کرپشن کا کیس چل ریا ہے اور کہا جا رہا ہے کہ شاید انکے کاغذات مسترد ہو جائیں گے۔ دوسرے نمبر پر سردار آصف نکئی (’’آزاد‘‘ یا پھر ق لیگ کے امیدوار ہیں) بھی کھرب پتی آدمی ہیں۔ انکے ڈیرے سے چھانگا مانگا جنگل سے چوری کیا گیا لکڑیوں کا بھری ٹرلی برامد ہوئی تھی۔ کیس دبا دیا گیا اور جس انسپکٹر نے پرچہ دیا تھا اسے نوکری سے نکال دیا گیا۔ مگر یہ کیس اب انکے خلاف اٹھایا جا رہا ہے اور فائل نکالنے کی بات ہو رہی ہے۔

تیسرے امیدوار جو جمیعت اہلحدیث کے سابق امیر جناب مولانا معین الدین لکھوی مرحوم کے صاحبزادے (عام سیاست کیطرح یہاں مذہبی لوگوں میں بھی موروثی سیاست پائی جاتی ہے) اور بنیادی طور پر جمیعت الحدیث کے امیر ہیں مگر تحریک انصاف کے ٹکٹ پر الیکشن لڑ رہے ہیں (شاید اسلیے کہ نئے قوانین کیمطابق اب فرقے کی بنیاد پر الیکشن لڑنے کی اجازت نہیں رہی)۔ انکے مقابلے مین سردار آصف نکئی تحریک انصاف کی ٹکٹ کے مضبوط امیدور تھے اور اب حلقے میں یہ بات مشہور ہے کہ انھیں ٹکٹ فوج کے کہنے پر جاری ہوا۔ آنکا تعلق اوکاڑہ سے ہے اور یہ اس حلقے سے نہیں ہیں مگر یہاں انکے فرقہ کے لوگوں کی اکثریت کی وجہ سے انکے والد بھی الیکشن اسی حقلہ سے لڑا کرتے تھے۔ انکی ساری مہم فرقہ وارانہ بنیادوں پر مفت چلائی جاتی ہے۔ اور آپ ممبئی اٹیکس میں ہندوستان کو مطلوب زکی الرحمن لکھوی کے فرسٹ کزن بھی ہیں


عمار کاظمی

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here