سیاستدانوں کا چُپکے سے کاغذات نامزدگی کی اہم شقوں پر شب خون مارنے کی ناکام کوشش

0
1432

دُنیا نیوز کے اینکرز حبیب اکرم اور سعد رسُول کی لاہور ہائیکورٹ میں تاریخی پٹیشن کی بدولت جج عائشہ ملک نے ایک لینڈ مارک فیصلہ دیا جسکے مطابق نئے کاغذات نامزدگی فارم سے غیر مُلکی آمدن، زیر کفالت افراد کی تفصیلات، مقدمات کے ریکارڈ، ٹیکس ڈیفالٹ، قرض نادہندگی، دہری شہریت، یوٹیلٹی ڈیفالٹ اور مُجرمانہ سرگرمیوں سے مُتعلق خانے نکال دیے گئے تھے۔ عدالت نے کہا کے پارلیمینٹ کے ترمیم شُدہ کاغذات نامزدگی کو آئین سے جزوی طور پر مُتصادم قرار دیا۔ اور حُکم دیا کے ان شقوں کو نامزدگی فارم میں دوبارہ شامل کیا جائے۔
کل سے آج تک مُختلف فورمز پر پارلیمینٹیرینز کی اس کاروائی پر بہت بحث ہوئی اور لوگوں نے اس کاروائی کو ارکان اسمبلی کا ذاتی ایجنڈا قرار دیتے ہوئے مُسترد کر دیا۔
الیکشن کمیشن کے نمائندے کا کہنا تھا کے اُنھوں نے پارلیمینٹ کو پہلے ہی آگاہ کیا تھا کے وہ نامزدگی فارم میں یہ تبدیلیاں ناں کریں اس کا ری ایکشن آ سکتا ھے لیکن کسی نے اس طرف سنجیدگی کا مُظاہرہ نہیں کیا۔

پلڈاٹ کے چیف احمد بلال کا کہنا تھا کے عوام کو اُنکے عوام کی معلومات جاننے سے مُتعلق نہیں روکا جا سکتا۔

لیکن دوسری طرف اسپیکر قومی اسمبلی نے لاھور ہائیکورٹ کے فیصلے کو سراہنے کی بجائے ہدف تنقید بنایا اور اسے الیکشن میں تاخیر کا حربہ قرار دیا۔

عبوری وزیر اعظم جسٹس ر ناصر المک نے بھی کہا کے لاھور ہائیکورٹ کے فیصلے کیخلاف سُپریم کورٹ سے رجوع کیا جائے۔

سوال یہ پیدا ہوتا ھے کے کیا

وجہ ھے عوام کو ایک اچھی شہرت اور اچھے کردار کے نمائندہ چُننے سے کیوں روکا جا رہا ھے، بجائے اس کے، کے اس فیصلے کو تمام حلقوں میں سراہا جاتا اسکو الیکشن میں تاخیری حربے کے طور پر استعمال کیا جا رہا ھے۔
ایک بات تو بہت واضح کے زاہد حامد نے بحثیت وزیر قانون کوئی عوامی خدمت کرنیکی بجائے، ہمیشہ مُتنازعہ ہی رہے، چاہے وہ ختم نبوت کےُمُتعلق کلاز ہو یا نامزدگی فارم میں ترامیم
لیکن ہمیں حبیب اکرم اور سعد رسُول کی عظمت کو سلام کرنا پڑیگا جنہوں نے اتنا بڑا صحافتی رسک لیا اور کامیاب بھی ہوئے۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here