WORLD PRESS FREEDOM DAY: 36 Journalists killed in 2018. Threats to ‘Free Speech’ in Pakistan?

0
428

Every year on May 3, World Press Freedom Day serves to remind people of the perils faced by journalists around the world. That message, though, probably falls flat among those who have lost faith in journalism as a force for good. In recent years, authoritarian populist politicians have cultivated this cynicism, attacking the credibility of the press to make their own tenuous relationship with truth appear no worse.

In the year 2018, till date 36 journalists have been killed around the globe. Following is Graphic on journalists killed worldwide so far in 2018.

Courtesy: AFP

Afghanistan’s slain journalists were remembered on World Press Freedom Day Thursday, days after the deadliest attack on the country’s media since the fall of the Taliban in 2001.

Ten journalists, including Agence France-Presse chief photographer Shah Marai, were killed in assaults on Monday, underscoring the dangers faced by the media as the war-torn country slips deeper into violence.

“Afghanistan’s journalists are among the bravest in the world,” said Omar Waraich, Amnesty International’s deputy director for South Asia.

Bloggers in Bangladesh and Pakistan who write critical reports about rising Islamism in their countries are risking their lives. Despite the efforts by many a diplomat, effective support from abroad is in short supply.

Mexico is a partner country at this year’s technology fair in Hanover. But in no other country in the world do reporters live so dangerously, due also to the fact that the state can’t seem to get a handle on the drug cartels. Last year, 11 reporters were killed in Mexico — second only to Syria, where even more journalists died.

Sadly, the list goes on, and it includes NATO member state Turkey, as well as EU members Poland and Hungary. Clearly, this issue requires more than lip service on anniversaries.

Pakistan’s notable Journalist Hamid Mir writes on Freedom of Press in Pakistan:

زیادہ پرانی بات نہیں۔ پاکستان کے سب سے بڑے شہر کراچی کو لندن میں بیٹھے ایک صاحب کنٹرول کیا کرتے تھے۔ وہ جب چاہتے کراچی کو بند کر دیتے۔ جب چاہتے کھول دیتے۔ کسی اخبار میں اُن کے خلاف کوئی خبر شائع ہو جاتی تو اخبار کی کم بختی آ جاتی۔ کسی ٹی وی چینل پر اُنہیں اپنے بارے میں کہی گئی کوئی بات اچھی نہ لگتی تو کراچی میں وہ چینل بند ہو جاتا۔ لندن میں بیٹھے ان صاحب کو پاکستان کے فوجی صدر پرویز مشرف کی مکمل آشیر باد حاصل تھی لہٰذا مشرف صاحب یا ان لندن والے صاحب پر تنقید کا مطلب پاکستان پر تنقید لیا جاتا تھا۔ مشرف کے دور حکومت میں ان کے منظور نظر یہ لندن والے صاحب نئی دہلی گئے اور انہوں نے وہاں پاکستان کے خلاف ایک تقریر کر ڈالی۔ اس تقریر کی ویڈیو میرے پاس پہنچی تو بڑی پریشانی ہوئی کہ پاکستان کی حکومت میں شامل ایک جماعت کے قائد نئی دہلی جا کر تقسیم ہند کو تاریخ انسانی کا ایک بہت بڑا المیہ قرار دے رہے ہیں۔ اس ناچیز نے جیو نیوز پر کیپٹل ٹاک میں عمران خان اور بابر غوری کو مدعو کیا اور نئی دہلی میں پاکستان کے خلاف کی جانے والی تقریر کا ایک کلپ چلا کر اس پر بحث شروع کر دی۔ یہ وہ زمانہ تھا جب محترمہ بے نظیر بھٹو اور نواز شریف جلا وطن تھے۔ پاکستان میں مشرف حکومت پر تنقید کی ذمہ داری عمران خان ادا کر رہے تھے لہٰذا اُنہوں نے

نئی دہلی میں پاکستان مخالف تقریر پر مشرف حکومت کو خوب رگڑا۔ بابر غوری بھرپور کوشش کے باوجود اپنے قائد کا کوئی دفاع نہ کر سکے۔ میرے اس پروگرام پر مشرف صاحب بہت ناراض ہوئے۔ سب سے پہلے تو کراچی کے مختلف علاقوں میں جیو نیوز کو بند کر دیا گیا۔ اس کے بعد مجھے کہا گیا کہ آپ لندن جا کر قائد تحریک سے معذرت کریں۔ میں نے انکار کیا تو اس دوران سیاست میں خفیہ اداروں کے کردار پر بحث کی پاداش میں پیمرا نے مجھے ایک نوٹس جاری کر دیا۔ ایسا لگ رہا تھا کہ پیمرا کو بھی لندن سے چلایا جا رہا ہے اور پھر کچھ عرصے کے بعد کراچی میں 12مئی 2007ء کا قتل عام ہوا۔ اتفاق سے اُس دن بھی عمران خان کیپٹل ٹاک میں بیٹھے کراچی میں قتل عام کی ذمہ داری لندن والے صاحب پر ڈال رہے تھے۔ 12مئی کے قتل عام کے بعد مشرف نے ٹی وی کیمروں کے سامنے مکے لہرائے اور اپنی طاقت کا مظاہرہ کرتے ہوئے 3نومبر 2007ء کو آئین معطل کرنے کے ساتھ ساتھ تمام پرائیویٹ ٹی وی چینلز پر پابندی لگا دی۔ کچھ دنوں بعد ٹی وی چینلز پر سے پابندی ہٹا لی گئی لیکن مجھ سمیت چھ ٹی وی اینکرز پر پابندی برقرار رہی۔ یہ پابندی 2008ء کے انتخابات کے بعد آصف زرداری اور نواز شریف کی ایک مشترکہ پریس کانفرنس کے بعد ختم ہوئی تھی لیکن کراچی کے صحافیوں پر خوف کی تلوار بدستور لٹکتی رہی۔ لندن میں بیٹھے صاحب ٹیلی فون پر تقریروں کے بہت شوقین تھے اور کئی مرتبہ انہوں نے اپنی تقریروں میں سیاستدانوں اور مجھ جیسے صحافیوں کو گالیوں سے نوازا۔ جو چینل ان کی تقریر نشر نہ کرتا اُسے کراچی اور حیدرآباد میں بند کرا دیا جاتا تھا۔ کبھی کبھی اُن کی فرمائش پر کچھ اینکرز کو زبردستی چھٹی پر بھی بھیج دیا جاتا۔ یہ سلسلہ 2013ءتک چلتا رہا۔

پریس فریڈم انڈیکس میں پاکستان کا نمبر 159واں اور بھارت کا 140واں تھا۔ 2016ء میں پاکستان 146ویں نمبر پر آیا اور 2018ء میں پاکستان 139ویں نمبر پر ہے۔ پاکستان کی پوزیشن میں بہتری کی وجہ یہ ہے کہ پاکستان میں صحافیوں کے قتل اور اغوا کے واقعات کم ہو گئے ہیں۔ اب کسی صحافی کو گولیاں مارنے کے بجائے نامعلوم افراد سے پھینٹی لگوا دی جاتی ہے۔ کارکن صحافیوں کو ڈرانے دھمکانے کے بجائے ٹی وی چینلز کے مالکان کی کمزوریوں کا فائدہ اٹھا کر اُنہیں قابو کرنے کی کوشش کی جاتی ہے اور یہ مالکان غیر اعلانیہ سنسر شپ پر آمادگی ظاہر کر دیتے ہیں۔ اگلے روز ساہیوال میں مریم نواز صاحبہ اپنی تقریر میں سنسر شپ پر احتجاج کر رہی تھیں حالانکہ جیو نیوز سمیت کئی اہم چینلز اپنی معمول کی نشریات معطل کر کے اُن کی اس تقریر کو لائیو نشر کر رہے تھے۔

مریم نواز صاحبہ ایک ایسے دور میں سنسر شپ کی شکایت کر رہی ہیں جب مرکز اور پنجاب میں اُن کی اپنی ہی جماعت حکومت کر رہی ہے اور وہ جب چاہتی ہیں اپنے کسی منظور نظر کو وزیر بنوا لیتی ہیں جب چاہیں کسی وزیر مملکت کو وفاقی وزیر کا درجہ دلوا دیتی ہیں لیکن یہ بتانے کے لئے تیار نہیں کہ اُن کی اپنی ہی حکومت میں سنسر شپ کا ذمہ دار کون ہے؟ ابھی چند ہی روز قبل وزیر مملکت مریم اورنگ زیب صاحبہ نے سیکرٹری انفارمیشن کی موجودگی میں مجھے کہا کہ 25نومبر 2017ء کو پاکستان میں تمام پرائیویٹ ٹی وی چینلز کی بندش کا فیصلہ اُنہوں نے کیا تھا۔

نواز شریف نے اپنی حکومت بچانے کے لئے پرویز رشید اور طارق فاطمی سے استعفے لے گئے۔ رائو تحسین کو بغیر ثبوت نوکری سے نکال دیا اور جب نواز شریف کو عدالت نے وزارتِ عظمیٰ سے نکالا تو وہ ہر تقریر میں پوچھنے لگے مجھے کیوں نکالا؟ میری ناقص رائے میں نواز شریف کسی دن رائو تحسین کو بلا لیں تو وہ بتائیں گے مجھے کیوں نکالا؟ قصہ مختصر یہ کہ 3مئی آزادیٔ صحافت کا عالمی دن ہے۔ پاکستانی صحافت آج بہت سے خطرات سے دوچار ہے۔ ان خطرات کے مقابلے کے لئے صحافیوں کو متحد ہو کر آئین کی بالادستی کے لئے جدوجہد کرنی ہے۔ ہمیں کسی ایک فرد، ادارے یا جماعت کا نہیں بلکہ صرف اور صرف عوام کا ترجمان بننا ہے۔ ہمیں مگرمچھوں کے آنسوئوں کے بجائے عوام کے آنسوئوں کا خیال کرنا ہے۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here