مریم اورنگزیب نے صحافیوں کیلیے افطار ڈنر کا بل اپنی جیب سے ادا کر کے قابل تقلید مثال قائم کر دی

0
1544

گزشتہ ہفتہ کی شام وفاقی وزیراطلاعات ونشریات قومی تاریخ و ادبی ورثہ مریم اورنگزیب نے لاہور کے سینئر صحافیوں، ایڈیٹرز، کالم نگاروں اوراینکرز حضرات کو ایک فائیو سٹار ہوٹل میں افطار ڈنر پر مدعو کر رکھا تھا۔ مریم اورنگ زیب نے یہ منصب اُس وقت سنبھالا جب نومبر2016ءمیں پرویزرشید ”نیوز لیکس“ کی بھینٹ چڑھے ۔ لیکن وہ فل منسٹر (وفاقی وزیر) کی بجائے ہاف منسٹر تھیں یعنی وزیر مملکت تھیں، ابتدائی کچھ روز تو وزارتِ اطلاعات کے ذمہ داران نے انہیں کچھ زیادہ سنجیدگی سے نہ لیا، لیکن بعد میں انہوں نے پارٹی قیادت پر لگنے والے الزامات کو جس طرح سے ”فیس“ کیا وہ ن لیگی حلقوں میں واقعتا تعریف کے قابل تھا،وہ ایک مضبوط سیاسی پس منظر بھی رکھتی ہیں۔ ان کی خالہ بیگم نجمہ حمید مسلم لیگ (ن) خواتین ونگ کی سربراہ اور سینٹ کی رکن رہیں۔ والدہ طاہرہ اورنگزیب بھی نون لیگ کی پرانی متوالی رہیںاور راولپنڈی کی بلدیاتی سیاست کا اہم کردار رہیں۔ مریم اورنگ زیب اپنی اس خاندانی سیاست کو آگے بڑھاتے ہوئے اکثر تقریبات کا اہتمام کرتی رہتی ہیں جہاں تمام صحافی ”طبقات“ اکٹھے ہوتے ہیں اور ہر ٹیبل پر ”گول میز کانفرنس “ہو رہی ہوتی ہے۔

خیر بات ہو رہی تھی ’افطار ڈنر‘ کی تو یہ محفل پہلے سے زیادہ پر رونق اور پر کشش دکھائی دی کیونکہ اس تقریب کادائرہ اخبارات کے رپورٹرز اورنیوز ایڈیٹرز حضرات تک وسیع کر دیا گیا تھا۔ صحافیوں کی اس کہکشاں کے درمیان ہمارئے دیرینہ ساتھ اور ”نیوز لیکس “میں ہتھے چڑھنے والے سابق پرنسپل انفارمیشن آفیسر راﺅ تحسین علی خاں بھی موجود تھے۔ وہ ایک عرصے بعد پبلک کے درمیان نظرآئے، جس کی وجہ سے ان کے ملنے والوں کی بھی کمی نہ تھی۔ افطار ڈنر کی یہ تقریب ایک بڑے ہال میں سجائی گئی تھی جس کے درمیان میں ایک بڑی ٹیبل پر منسٹر صاحبہ تشریف فرما تھیں۔ جو صحافی جلد پہنچے وہ ان کے گرد براجمان ہو گئے۔ مریم اورنگزیب صاحبہ نے اپنی حکومت کی کارکردگی اور درپیش مسائل پر تفصیل سے روشنی ڈالی اور آخر میں سوال و جواب کا سیشن بھی ہوا۔یہ تقریب اس لحاظ سے بھی یادگار تھی کہ موجودہ حکومت کا دور حکومت مکمل ہونے میں اب بمشکل ایک ہفتہ ہی رہ گیا ہے اور یہ غالباً لاہور کے صحافیوں کے ساتھ منسٹر صاحبہ کی آخری ملاقات تھی۔تقریب میں سوالات اور بحث کا زیادہ تر فوکس آئندہ انتخابات کے انعقاد پر تھا۔ سبھی اس امر پر متفق تھے کہ جمہوریت کا تسلسل برقرار رہنا چاہیے۔

اس تقریب کی ایک خاص بات یہ تھی جس نے مجھے خاصا متاثر کیا وہ یہ تھی کہ اس افطار ڈنر کا بل مریم اورنگزیب نے اپنی جیب سے ادا کیا، جس کی بعد میں راقم نے اپنے ذرائع سے تصدیق کی تو یہ بات درست نکلی، میں حیران ہوا کہ ایک ایسے وقت میں جب حکومت جا رہی ہو، کوئی پوچھنے والانہ ہو، کوئی حساب لینے والا نہ ہو، کوئی رکاوٹ نہ ہو یا حکومتی مراعات حاصل کرنے میں کسی قسم کی دشواری نہ ہوتو ایسے میں لاکھوں روپے کا بل جیب سے ادا کرنا واقعی حیرت کا باعث ہے۔ میں حیران اس لیے ہوں کہ منسٹرصاحبہ نے اس حوالے سے اپنے قائدین سے بھی کچھ نہ”سیکھا“، اُن قائدین سے جن کے گھروںسے لے کر بیرون و اندرون ملک کیمپ آفسز کے اخراجات سرکار کے ذمہ ہیں، ان گھروں میں ایک ماچس کی ڈبی تک کا بل حکومت ادا کرتی ہے۔

حد تو یہ ہے کہ مریم اورنگ زیب نے ایسے کلچر میں رہ کر افطارڈنر کا بل اپنی جیب سے ادا کیا جہاں صرف سکیورٹی کے نام پر حکومتی خزانوں سے کھربوں روپے نکلوائے جاتے ہیں۔ جہاں محض وی آئی پی سکیورٹی کے نام پر ایک ایک صوبے میں کھربوں روپے خرچ ہوتے ہوں، جبکہ اس کے برعکس قائداعظم کی زندگی ایسی مثالوں سے بھری پڑی ہے جب انہوں نے سرکاری خزانے کو بے دریغ استعمال ہونے کی ممانعت فرمائی، اور مثال قائم کی اگر انہوں نے عوام کے پیسے کا یوں بے دریغ استعمال کیا تو پاکستان کے سرکاری دفاتر میں اسے مثال کے طور پر لیا جائے گا اور یوں اخراجات اور عیاشیوں کا تخمینہ بڑھتا چلا جائے گا۔

الغرض میری مریم اورنگ زیب صاحبہ سے کوئی خاص ملاقات نہیں ہے، بس انہی تقریبات میں کبھی کبھی سامنا ہو جاتا ہے۔ لیکن ہمیں ہر اُس سیاسی رہنماءکی تعریف کرنی چاہیے جو اچھا کام کرے، جو عوام کا پیسہ پانی کی طرح بہانے کے بجائے اُس میں بچت کرے۔ منسٹر صاحبہ تعریف کی اس لیے بھی مستحق ہیں کہ وہ اس جماعت سے تعلق رکھتی ہیں جو سند یافتہ کرپٹ جماعت ہے، وہ شاید جانتی ہیں کہ آج وطن عزیز کا ہر پیدا ہونے والا بچہ ڈیڑھ لاکھ روپے کا مقروض ہے، عالمی اداروں کا قرض اتارنے کے لیے بھی قرض لینا پڑرہا ہے۔ وہ شاید یہ بھی جانتی ہیں کہ پاکستان میں 60 فی صد عوام غربت کی لکیر سے نیچے زندگی بسر کر رہے ہیں۔وہ شاید یہ بھی جانتی ہیں اس ملک کو ترقی کی راہ پر ڈالنے کے لیے ہم سب کو مل کر کام کرنا چاہیے اور ایک ایک روپے کی بچت کرنی چاہیے۔ اے کاش ہمارا ہر سیاستدان سرکاری اخراجات کا بے دریغ استعمال کرنے کے بجائے اپنی ”جیب “کو فوقیت دے۔ اے کاش جو کھرب پتی سیاستدان اپنی جیب سے ایک روپے کی سردرد کی گولی نہیں خریدتے انہیں بھی اپنی جیب سے کچھ خرچ کرنے کی توفیق پیدا ہوجائے تو یہ ملک خود بخود ترقی کی راہ پر چل پڑے گا! ورنہ ہم یوں ہی بھٹکتے رہ جائیں گے اور دنیا ہمیں روند کر آگے نکل جائے گی!

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here