‘خادم اعلی پنجاب کے 7 کیمپ آفسز کے اخراجات 1.25 بلین روپے، قومی اسمبلی کا خرچہ 250 ارب روپے’ صحافی علی احمد ڈھلوں کی چُبھتی تحریر

0
563

 ایک حالیہ رپورٹ کے مطابق وزیر اعلیٰ پنجاب میاں محمد شہباز شریف کے 7 کیمپ آفسز کے شاہانہ اخراجات 1.25 بلین روپے تک پہنچ گئے ہیں۔حیران کن بات یہ ہے کہ بجٹ میں ان 7 کیمپ آفسز کے بجٹ کے طور پر 44 کروڑ روپے مختص کیے گئے تھے۔ لیکن وزیر اعلیٰ پنجاب اور ان کیمپ آفسز میں کام کرنے والے افراد کی شاہ خرچیوں کی وجہ سے یہ رقم اتنی خطیر ہو گئی ہے۔ ان آفسز میں 400 سے زائد ملازمین موجود ہیں۔اس کے علاوہ ذاتی گھریلو اخراجات کے لیے خادم اعلیٰ کی جانب سے سرکاری خزانے سے ساڑھے 4ارب روپے سرکاری خزانے سے نکلوائے ہیں۔حد تو یہ ہے کہ ڈبل روٹی، انڈے، مرغی، گھی، لہسن، چاول تک سرکاری خزانے سے خریدے گئے ہیں ، ذاتی مہمانوں کی تواضع بھی سرکاری خرچے سے کی جاتی ہے۔ بقول پروین شاکر

چارہ گر، ہار گیا ہو جیسے

اب تو مرنا ہی دَوا ہو جیسے

یہاں صرف پنجاب میں وی آئی پی سیکیورٹی پر معمور ایلیٹ اور کانسٹیبل کی تعداد 16ہزار ہے( ان میں 9ہزار اہلکار مستقل جب کہ 7ہزار ہولڈ پر رہتے ہیں)جاتی امراءجس کا نواز شریف کی نااہلی کے بعد وفاقی کیمپ آفس کا درجہ ختم کر دیا گیا تھا، اب وہ پنجاب کے ”شہزادے“ خادم کا کیمپ آفس بن چکا ہے۔ جہاں ہزاروں اہلکار دن رات سکیورٹی پر معمور رہتے ہیں۔ شاہا نہ طرز حکومت کی اس سے بڑی مثال کیا ہوگی کہ صرف شہباز شریف کے پروٹوکول اور سیکیورٹی پر سات سو لگژری گاڑیاں اور اڑھائی ہزار سیکیورٹی اہلکار تعینات ہیں۔ وزیراعلیٰ کے اس پروٹوکول کے لیے 125 گاڑیوں کے دستے پر سالانہ ایک ارب 19 کروڑ کے اخراجات آتے ہیں۔ اب موصوف 10سال سے پنجاب پر حکومت کر رہے ہیں اور جاتی امراء ، کیمپ آفسز، پروٹوکول دیگر اضلاع کے آفسز کے اخراجات شامل کیے جائیں تو بات 50ارب روپے سے بھی آگے نکل جاتی ہے؟

آپ خادم اعلیٰ کو ایک طرف رکھیں یہاں ہر ہر ایم این اے ایم پی اے اپنی مثال آپ رہا ہے۔ایک ایم این اے کی تنخواہ 2 لاکھ اور شاہانہ الاؤنسز 12 لاکھ روپے ماہانہ ہیں، یعنی اوسطاََ ڈیڑھ کروڑ روپے سالانہ اور پانچ سال میں قریباََ ساڑھے سات کروڑ روپے تک خرچ کرتا ہے۔ یعنی پوری قومی اسمبلی پانچ سال میں ڈھائی سو ارب (250ارب)روپے میں پڑتی ہے۔ان دو ڈھائی سو ارب روپے میں اراکین اسمبلی کے گھروں کے بل سے لے کر تمام سفری اخراجات، ریفریشمنٹ، ٹیلی فون بل سمیت ملازمین کی تنخواہیں اور آفسز کی مینٹینس کے اخراجات شامل ہیں جب کہ ایم این اے ہاسٹل کے اخراجات اس کے علاوہ ہیں۔جب کہ ان کھرب پتی حکمرانوں کے ہر شہر میں کیمپ آفسز ہیں جہاں سرکاری خرچے سے ”تواضع“ کی جاتی ہے۔ اور نہلے پہ دہلا یہ کہ ابھی چاروں صوبوں کی اسمبلیوں کے سات سو اراکین کے کھربوں روپے کے اخراجات ان کے علاوہ ہیں۔

 

Note: This article was actually appeared in Daily Express & Daily Muqabla

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here