کیا پاکستان ویسٹ انڈیز ٹی ٹوئنٹی سیریز ‘انسانی حقوق کی خلاف ورزی’ کے زمرے میں آتی ھے؟

0
513

پاکستان کرکٹ ٹیم کو مُبارکباد کے بڑی آسانی کیساتھ اُنھوں نے اپنے قدرے کمزور حریف ویسٹ انڈیز کو شکست دیدی۔

پاکستانی کھلاڑیوں اور پی سی بی کو شُکر گزار ہونا چاھیے کے ویسٹ انڈیز ٹیم نے اُنھیں نئے ریکارڈ بنانے اور ورلڈ رینکنگ میں پہلی پوزیشن حاصل کرنے میں مدد دی۔

پاکستان میں کرکٹ کی واپسی ہوئی ایک اچھی خبر لیکن سینیئر اور تجُربہ کار کھلاڑیوں کے بغیر دورہ پاکستان کرکٹ کی کوئی خدمت نہیں، کُچھ سال پہلے ہم زمبابوے کو بھی پاکستان میں بُلا کر سیریز کھیل چُکے اور دُنیا کو بتا چُکے کے پاکستان کرکٹ کیلیے ایک محفوظ مُلک ھے۔

پہلے میچ میں ھم نے ویسٹ انڈیز کیخلاف دو سو رنز کا ھندسہ عبور کیا اور پھر ساٹھ رنز پر ساری ٹیم کو پویلین پہنچا دیا، پاکستان کو تقریباً ڈیڑھ سو رنز کی تاریخی کامیابی ملی۔ کُچھ نے کہا یہ ویسٹ انڈیز کی ٹیم کا ‘بلتکار’ ھے۔


فیلڈنگ سے لیکر بیٹنگ تک اور کپتانی سے لیکر باؤلنگ تک ہر شعبے میں ویسٹ انڈیز بہت کمزور نظر آئی، ایسے لگ رہا تھا کے انڈر 18 ٹیم میں چند سینیئر کھلاڑیوں کو ڈال کر پاکستان بھجوا دیاگیا۔ ٹیم ایک یونٹ نظر نہیں آئی، کواڈینیشن کا شدید فُقدان رہا۔

دوسرے میچ میں ایک بار پھر پاکستانی کھلاڑیوں کو ترس ناں آیا اور پاکستان نے ٹی ٹوئنٹی میں زیادہ سے زیادہ رنز بنانے کا ریکارڈ بنا ڈالا۔ پاکستانی باؤلنگ نے ایک بار پھر ویسٹ انڈین بیٹنگ کا تیا پانچہ کر دیا۔

ایسے لگ رہا تھا کے ویسٹ انڈینز شاید پاکستان میچ پریکٹس کیلیے آئے ہیں۔
تیسرے اور آخری میچ میں پاکستان نے اپنے سٹار باؤلرز کو باہر بٹھا دیا اور ویسٹ انڈینز کو موقع دیا کے وہ کوئی بڑا سکور کریں۔ اس میچ میں ویسٹ انڈینز نے اپنی ساکھ بچانے کی بھر پور کوشش کی اور ڈیڑھ سو رنز بنا ڈالے۔

پاکستانی بیٹسمین نے بڑی مُستعدی سے ٹارگٹ کو بڑے آرام سے پورا کر لیا، لیکن افسوس کے پوری سیریز میں تھرل کہیں نظر نہیں آیا۔

کراچی والوں نے زبردست جوش و خروش دکھایا اور جوق در جوق اسٹیڈیم کا رُخ کیا لیکن کرکٹ نے اُنھیں بہت نور کیا، کوئی ایک میچ بھی سنسنی خیز ناں ہو سکا

حتی کے پی ایس ایل کا فائنل بھی کانٹے دار مُقابلہ ناں بن سکا۔

پی سی بی اور اداروں کو چاھیے کے کمزور ٹیموں کو پاکستان بُلا کر لوگوں کو ٹھنڈی کرکٹ ناں دکھائیں، ایسے اقدامات کیے جانے چاہییں کے مستقبل میں با صلاحیت اور مضبوط ٹیمیں ہی پاکستان آئیں تاکہ جاندار مُقابلوں سے لُطف اندوز ہوا جا سکے۔

کُچھ لوگوں کا کہنا ھے کے جو حال پاکستان نے ویسٹ انڈین ٹیم کا کیا ھے اس پر ہیو مین رائیٹس کمیشن کا ایکشن ناں لینا انسانی حقوق کی خلاف ورزی کے زمرے میں آتا ھے۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here